جڑواں شہروں کے عالمی رشتے:پاکستان کے بلدیاتی ادارے اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ تحقیق و تحریر:سینئر صحافی محمد اقبال مغل

ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ سے ملاقات کی۔ جس میں کراچی اور شنگھائی کے مابین باہمی تعاون کے فروغ اور روابط کو مزید مستحکم بنانے پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے دونوں شہروں کو باضابطہ طور پر جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز دیتے ہوئے اسمارٹ سٹی منصوبہ بندی، شہری انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل حکمرانی کے شعبوں میں چین کے تجربات اور فنی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس تناظر میں دنیا میں جڑواں یا ’’سسٹر سٹی‘‘ کا تصور دو شہروں کے درمیان دوستانہ تعلق سے آگے بڑھ کر تجارت، تعلیم، ثقافت، سیاحت، شہری منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی اور بلدیاتی تجربات کے تبادلے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں بھی کئی شہروں کے ایسے روابط قائم ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر معاہدے عملی ترقی کے بجائے وفود کے تبادلوں اور رسمی تقریبات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان جڑواں شہروں کے تعلقات اس کی نمایاں مثال ہیں؛ 2009 میں چینی سفارتخانے نے بھی نشاندہی کی تھی کہ کراچی۔شنگھائی، پشاور۔ارومچی، ایبٹ آباد۔کاشغر اور لاہور۔شی آن کے تعلقات اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق استعمال نہیں ہو سکے۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق کراچی کے بین الاقوامی جڑواں شہروں میں شنگھائی، شینیانگ، تیانجن، ارومچی، تہران، جدہ، کوالالمپور، منامہ، استنبول، حیدرآباد اور دیگر شہر شامل رہے ہیں۔ کراچی اور شنگھائی کا تعلق 1984 سے قائم ہے۔ لاہور کے جڑواں شہروں کی فہرست خاصی طویل ہے جس میں استنبول، شی آن، بخارا، سمرقند، اصفہان، مشہد، گلاسگو، شکاگو، بلغراد، کراکوف، دوشنبے، قرطبہ، بوگوٹا اور ریو ڈی جنیرو سمیت متعدد شہر شامل ہیں۔دیگر پاکستانی شہروں میں پشاور کا چین کے ارومچی، ایبٹ آباد کا کاشغر اور پیراگوئے کے پورٹو وراس، فیصل آباد کا چین کے چنگ ڈاؤ، گوجر خان کا برطانیہ کے ریڈ ڈچ اور گوادر کا چین کے پویانگ سے جڑواں شہر تعلق درج ہے۔ 2021 میں پاکستان اور چین کے درمیان مزید چھ شہری جوڑوں کے معاہدے سامنے آئے جن میں کراچی۔چونگ چنگ، کراچی۔شینیانگ، پشاور۔شیننگ، کوئٹہ۔ژینگ ژو، ملتان۔پنگ ڈنگ شان اور گوجرانوالہ۔ڈونگ ینگ شامل تھے، جبکہ فیصل آباد اور چنگ ڈاؤ کے درمیان بھی تعلق قائم کرنے کی پیش رفت ہوئی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کی حیثیت قدرے مختلف ہے؛ یہ کسی غیر ملکی شہر کے ساتھ جڑواں معاہدے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے اندر ایک باہم جڑے ہوئے ’’جڑواں شہر‘‘ ہیں۔ دونوں شہروں کے درمیان روزانہ وسیع پیمانے پر آمدورفت ہوتی ہے، اس لیے ان کے لیے مشترکہ شہری منصوبہ بندی کی ضرورت پہلے ہی نمایاں ہو چکی ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق دونوں شہروں کے درمیان ٹریفک اور مسافروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور دونوں کے انتظامی اداروں کے درمیان مشترکہ کارروائیوں کی ضرورت بھی تسلیم کی جا چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ جڑواں ہونے سے پاکستان کے شہر کتنے ترقی یافتہ ہوئے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی مستند قومی مطالعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی پاکستانی شہر کی مجموعی ترقی براہِ راست جڑواں شہر معاہدے کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس، کئی تعلقات کے باوجود عملی فوائد محدود رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 2024 میں لاہور اور ملتان کے شی آن کے ساتھ تعلقات کو تجارت، ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت میں عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ معاہدوں کی تعداد نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد ہے۔یہاں پاکستان کے مقامی حکومتوں کے لیے ایک بڑا موقع موجود ہے۔ میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی یا ضلعی بلدیاتی ادارہ اپنے جڑواں شہر کے بلدیاتی ادارے کے ساتھ براہِ راست ’’شہری تجربہ شراکت داری‘‘ قائم کر سکتا ہے۔ صفائی، کچرا ٹھکانے لگانے، سیوریج، پینے کے پانی، ٹریفک مینجمنٹ، پارکوں، شجرکاری، شہری سیلاب، پیدل راستوں، ڈیجیٹل شکایات اور جائیداد ٹیکس کے نظام پر مشترکہ منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی افسران اور منتخب بلدیاتی نمائندے کامیاب غیر ملکی ماڈل کا مطالعہ کرکے اسے مقامی حالات کے مطابق نافذ کر سکتے ہیں۔یہ ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ، بنیادی سہولتوں کی کمی، کچرے کے ناقص انتظام اور ادارہ جاتی اختیارات کی تقسیم جیسے مسائل موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف دس بڑے پاکستانی شہر قومی شہری آبادی کا تقریباً 54 فیصد رکھتے ہیں، جس سے شہری انتظام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

عوامی مفاد میں ہر جڑواں شہر معاہدے کے ساتھ تین سالہ عملی منصوبہ، سالانہ اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج مقرر ہونے چاہئیں۔ اگر لاہور کو کسی شہر سے تعلق حاصل ہے تو صرف وفود کے دورے کے بجائے مشترکہ شہری منصوبہ مکمل ہو؛ گوجرانوالہ کو ڈونگ ینگ سے صنعتی و شہری انتظام کا تجربہ ملے؛ فیصل آباد چنگ ڈاؤ سے صنعتی، ماحولیاتی اور شہری سہولتوں کے طریقے سیکھے؛ کراچی شنگھائی سے بندرگاہی شہر کے انتظام اور شہری خدمات کے تجربات حاصل کرے۔ یوں جڑواں شہروں کے معاہدے کاغذی سفارت کاری کے بجائے عوامی سہولت، روزگار، سرمایہ کاری اور بہتر بلدیاتی حکمرانی کا عملی ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی ان تعلقات کی اصل کامیابی ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button