گوجرانوالہ کا پنجاب بھر میں صارفین کی شکایات کے ازالے کے حوالے سے نمایاں کارکردگی حاصل کرنا محض ایک انتظامی اعزاز نہیں بلکہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر شکایت کو سننے والا ادارہ فعال ہو، متعلقہ افسران مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور کاروباری طبقہ قانون کی پابندی کرے تو عام شہری کو اس کا حق دلانا ناممکن نہیں۔ 45 شکایات کا ازالہ اور 30 لاکھ 12 ہزار 63 روپے کا مالی ریلیف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صارف تحفظ کا نظام کاغذی کارروائی سے آگے بڑھ کر عملی نتیجہ بھی دے سکتا ہے۔اس کامیابی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ کنزیومر پروٹیکشن کونسل گوجرانوالہ چودھری محمد فاروق کی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں، تاہم صارفین کے حقوق کا تحفظ کسی ایک افسر یا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہاں ڈسٹرکٹ کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہو جائے تو شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کا دائرہ کئی گنا وسیع کیا جا سکتا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر چونکہ متعلقہ تحصیل میں بلدیاتی اداروں کے انتظامی معاملات اور صارف تحفظ کے قانونی نظام میں بطور ایڈمنسٹریٹر اور اتھارٹی اہم کردار رکھتے ہیں، اس لیے وہ دونوں نظاموں کے درمیان ایک مؤثر رابطہ کار بن سکتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے پاس بازاروں، دکانوں، کاروباری سرگرمیوں اور شہری سہولتوں سے متعلق روزمرہ کی وسیع معلومات ہوتی ہیں، جبکہ کنزیومر پروٹیکشن کونسل صارف کے قانونی حقوق، شکایات اور ازالے کے معاملے کو آگے بڑھانے کا ادارہ جاتی طریقہ کار رکھتی ہے۔ دونوں کی صلاحیتیں یکجا ہوں تو شکایت کے اندراج سے لے کر اس کے فیصلے اور عملی ازالے تک ایک مربوط نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسی شہری کو ناقص برقی سامان، خراب گھریلو آلے، ناقص فرنیچر، غیر معیاری تعمیراتی کام، نامکمل خدمت یا وارنٹی کے باوجود مرمت نہ ہونے کی شکایت ہو تو بلدیاتی سطح پر قائم عوامی رابطہ مراکز یا متعلقہ اہلکار ابتدائی طور پر شہری کی رہنمائی کرتے ہوئے شکایت کو کنزیومر پروٹیکشن کونسل تک پہنچا سکتے ہیں۔ یوں عام آدمی کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک واضح راستہ میسر آئے گا۔اسی طرح بلدیاتی ادارے اپنے بازاروں اور تجارتی علاقوں میں صارف آگاہی مہمات، معلوماتی نشستوں اور تاجروں کی تربیتی سرگرمیوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ دکانداروں کو رسید دینے، وارنٹی کی پابندی، درست قیمت وصول کرنے، ناقص مال کی واپسی اور صارف کے جائز مطالبات پورے کرنے کے قانونی تقاضوں سے آگاہ کیا جائے تو شکایات پیدا ہونے سے پہلے ہی بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہر تحصیل میں کنزیومر پروٹیکشن کونسل، اسسٹنٹ کمشنر، بلدیاتی ادارے اور تاجر نمائندے باقاعدگی سے مشترکہ اجلاس کریں، شکایات کا تجزیہ کیا جائے اور بار بار شکایات پیدا کرنے والے کاروباری اداروں کی نشاندہی کی جائے۔ تاہم کارروائی ہمیشہ قانون، شواہد اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ صارف کے ساتھ ساتھ جائز کاروباری مفادات کا بھی تحفظ ہو۔گوجرانوالہ کی موجودہ کامیابی کو اگر ایک مستقل عوامی نظام میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ ماڈل اضلاع سے تحصیلوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ شکایت پر رقم واپس مل جائے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسا بازار تشکیل پائے جہاں دکاندار قانون سے خوف نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سے صارف کا حق تسلیم کرے۔یہی وہ مقام ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور بلدیاتی اداروں کا اشتراک محض دفتری تعاون نہیں رہتا۔ بلکہ عام آدمی کے حق، بازار کی شفافیت اور مقامی حکومت کی اصل افادیت کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔ گوجرانوالہ اگر پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے تو اگلا ہدف صرف زیادہ شکایات حل کرنا نہیں بلکہ ایسی شکایات کی تعداد کم کرنا ہونا چاہیے۔ کیونکہ بہترین صارف دوست نظام وہی ہے جس میں شہری کو حق لینے کے لیے شکایت کرنے کی ضرورت ہی کم سے کم پیش آئے۔
Read Next
کالم
اپریل 27, 2026
*بھولی بسری کہانی* تحریر: زاہد اسلام
کالم
اپریل 6, 2026
*مستعد اور موثر حکمرانی کے انداز* تحریر:زاہد اسلام
1 دن ago
آنکھ سے اوجھل کیمرہ، پرائیویسی پر کھلا حملہ — پنجاب حکومت کا اہم فیصلہ۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
4 دن ago
جڑواں شہروں کے عالمی رشتے:پاکستان کے بلدیاتی ادارے اس موقع سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ تحقیق و تحریر:سینئر صحافی محمد اقبال مغل
اپریل 27, 2026
*بھولی بسری کہانی* تحریر: زاہد اسلام
اپریل 6, 2026
*مستعد اور موثر حکمرانی کے انداز* تحریر:زاہد اسلام
فروری 21, 2026
*گڈ گورننس پر بحث مقامی حکومتوں کے تناظر میں* تحریر:زاہد اسلام
Related Articles
*مجوزہ آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام
جنوری 26, 2026
*مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے کی مہم* تحریر:زاہد اسلام
جنوری 26, 2026
*اسلام آباد میں اعلٰی سطحی اجلاس(سمٹ)* تحریر: زاہد اسلام
جنوری 16, 2026
