ایک نمبر، 2354 گاڑیاں: نمبر پلیٹ کی ایک چھیڑ نے پورا نظام سوالیہ بنا دیا۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

لاہور کے ہال روڈ کے قریب نمبر پلیٹ میں مبینہ ٹیمپرنگ کے معاملے میں ایک موٹرسائیکل سوار کی ملکیت چیک کی گئی تو ایسا انکشاف سامنے آیا کہ جس نے محض ایک گاڑی نہیں بلکہ پورے رجسٹریشن نظام پر سوال اٹھا دیے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق محمد عثمان نامی شہری کے نام پر 2 ہزار 354 موٹرسائیکلیں، رکشے اور گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ ان گاڑیوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار 813 ای چالان جاری ہوچکے ہیں جبکہ 28 لاکھ 66 ہزار 900 روپے واجب الادا ہیں۔ موٹرسائیکل کو تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں بند کرکے اصل مالک کی تلاش کے لیے سیف سٹی کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔یہ واقعہ دراصل نمبر پلیٹ کی اس اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جو عام شہری اکثر نظرانداز کردیتا ہے۔ نمبر پلیٹ محض دھات یا پلاسٹک کی ایک تختی نہیں بلکہ گاڑی کی شناخت، رجسٹریشن، مالک تک رسائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بنیادی ذریعہ ہے۔ پاکستان میں موٹر گاڑیوں کی رجسٹریشن اور شناخت کا قانونی نظام پرانا ہے، جبکہ پنجاب میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء اور موٹر وہیکل رولز 1969ء بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔

نمبر پلیٹوں کی تاریخ دراصل گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ شناخت کے نظام کی تاریخ بھی ہے۔ وقت کے ساتھ صوبوں اور اضلاع میں مختلف انداز کی پلیٹیں استعمال ہوتی رہیں، پھر پنجاب نے گاڑیوں کی شناخت کو یکساں بنانے کے لیے یونیورسل نمبر پلیٹ کا نظام متعارف کرایا۔ 2016ء میں پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں یکساں نمبر پلیٹ کے اجرا کے لیے قواعد میں تبدیلی کی، جس کا مقصد رجسٹریشن کا مرکزی اور بہتر ریکارڈ قائم کرنا بھی تھا۔آج ٹیمپرنگ کی سب سے بڑی وجہ صرف خوبصورتی یا فیشن نہیں بلکہ ای چالان سے بچنا، گاڑی کی شناخت چھپانا اور بعض اوقات جرائم کے بعد شناخت مشکل بنانا بھی سامنے آتی ہے۔ جون 2026ء میں لاہور میں ایک خصوصی مہم کے دوران صرف پہلے روز 1,323 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی ہوئی، جن میں فینسی، غیر نمونہ، ٹوٹی ہوئی یا شناخت چھپانے والی نمبر پلیٹیں شامل تھیں۔ جون کے مجموعی اعدادوشمار میں 21 ہزار سے زائد گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور جعلی نمبر پلیٹوں پر 72 مقدمات کا بھی ذکر کیا گیا۔لاہور میں کسی ایک مقام کو سرکاری طور پر ’’ٹیمپرڈ نمبر پلیٹوں کا مرکز‘‘ قرار دینا درست نہیں، تاہم ہال روڈ، جہاں تازہ کارروائی سامنے آئی، کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں بھی ایسی گاڑیاں پکڑی جاچکی ہیں۔ ستمبر میں گجرپورہ، مصری شاہ، چوہنگ اور مسلم ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں ہوئیں۔ اس لیے مسئلہ کسی ایک بازار یا سڑک تک محدود نہیں بلکہ پورے شہری ٹریفک نظام سے متعلق ہے۔

قانونی طور پر نمبر پلیٹ میں ردوبدل معمولی خلاف ورزی نہیں۔ پنجاب ٹریفک پولیس کے مطابق مقررہ نمونے کی نمبر پلیٹ گاڑی پر نمایاں ہونا ضروری ہے، جبکہ بغیر یا غیر منظور شدہ نمبر پلیٹ پر جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ جعلی یا بوگس نمبر پلیٹ کے معاملے میں فوجداری کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ ماضی کے قانونی اقدامات میں نمبر پلیٹ کی جعل سازی پر قید اور جرمانے کی سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2026ء میں پنجاب نے ایک اہم تبدیلی بھی کی ہے: اب شہری مقررہ سرکاری نمونے کے مطابق نمبر پلیٹ نجی تیار کنندگان سے بنوا سکتے ہیں؛ لازمی چیز یہ ہے کہ پلیٹ مقررہ سرکاری فارمیٹ کے عین مطابق ہو۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر نجی بنائی ہوئی پلیٹ جعلی ہے؛ اصل سوال اس کا منظور شدہ ڈیزائن، رجسٹریشن ریکارڈ اور گاڑی سے مطابقت ہے۔اب سیف سٹی کے جدید کیمرے نمبر پلیٹ کو صرف پڑھ ہی نہیں رہے بلکہ مشکوک، جعلی، کلون اور ٹیمپرڈ پلیٹوں کی نشاندہی بھی کررہے ہیں۔ نمبر پر ٹیپ، کپڑا یا کسی اور چیز سے شناخت چھپانا بھی نگرانی میں آچکا ہے۔ہال روڈ کا 2,354 گاڑیوں والا واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نمبر پلیٹ کس نے تبدیل کی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک شہری کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں کیسے رجسٹر ہوئیں، ان کی خرید و فروخت کہاں ہوئی، منتقلی کا ریکارڈ کیا ہے، اور ہزاروں ای چالان کے باوجود یہ معاملہ پہلے کیوں سامنے نہ آسکا؟ اگر تحقیقات ان سوالات کے جواب تک پہنچتی ہیں تو شاید یہ واقعہ نمبر پلیٹ ٹیمپرنگ سے بڑھ کر گاڑیوں کی ملکیت، رجسٹریشن اور شناخت کے پورے نظام کی ایک بڑی کھڑکی ثابت ہو۔

جواب دیں

Back to top button