آنکھ سے اوجھل کیمرہ، پرائیویسی پر کھلا حملہ — پنجاب حکومت کا اہم فیصلہ۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

دنیا میں ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے انسان کی نجی زندگی میں داخل ہونے کے ایسے راستے بھی پیدا کر دیے ہیں جن کا چند برس پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ عینک، قلم یا گھڑی بظاہر عام استعمال کی چیز ہے، مگر اگر انہی اشیا میں ایسا خفیہ کیمرہ یا ریکارڈنگ نظام نصب ہو جس سے سامنے والے کو علم ہی نہ ہو کہ اس کی تصویر، آواز یا حرکات محفوظ کی جا رہی ہیں تو معاملہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں رہتا بلکہ انسانی عزت، آزادی اور پرائیویسی کا بن جاتا ہے۔پنجاب حکومت نے 19 اکتوبر 2026 کو خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر ڈیوائسز کے استعمال، خرید و فروخت کے خلاف پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کا تحفظ، خصوصاً خواتین اور بچوں کو خفیہ نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے آلات کے غلط استعمال سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ روایتی کیمرے کے برعکس خفیہ کیمرے کا شکار ہونے والے شخص کو اکثر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ کسی دفتر، دکان، تعلیمی ادارے، ہسپتال، گھر، ہوٹل یا عوامی مقام پر کسی کی اجازت کے بغیر تصویر یا گفتگو محفوظ کرنا بعد میں ہراسانی، بدنامی یا بلیک میلنگ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کے معاملے میں اس کے نتائج زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔اصل مسئلہ صرف کیمرے کا ہونا نہیں بلکہ رضامندی کے بغیر نگرانی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حفاظت، صحافتی تحقیق یا کسی قانونی مقصد کے لیے ریکارڈنگ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے قانون اور ضابطے کی واضح حدود ضروری ہیں۔ اسی لیے پابندی نافذ کرتے ہوئے یہ فرق بھی واضح کرنا ہوگا کہ ہر کیمرہ، ہر اسمارٹ ڈیوائس یا ہر ریکارڈنگ آلہ قابلِ تعزیر نہ بن جائے، بلکہ نشانہ وہ آلات اور ان کا استعمال ہو جو خفیہ نگرانی یا غیر قانونی ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔یہاں حکومت کے سامنے ایک دوسرا اہم امتحان بھی ہے: قانون بنانا آسان، منصفانہ عمل درآمد مشکل ہے۔ اگر کسی عام شخص کے پاس کیمرے والی عینک یا گھڑی موجود ہے تو کیا وہ محض رکھنے پر مجرم ہوگا، یا صرف غیر قانونی استعمال پر کارروائی ہوگی؟ کیا جائز درآمد، طبی یا پیشہ ورانہ استعمال کے لیے کوئی استثنا ہوگا؟ خلاف ورزی کی سزا کیا ہوگی؟ ان سوالات کا جواب واضح قانونی نوٹیفکیشن میں دینا ضروری ہے۔ دستیاب ابتدائی اطلاعات کے مطابق پابندی کے مکمل نفاذ اور مخصوص سزاؤں کی تفصیلات ابھی واضح نہیں تھیں۔

اس فیصلے کا ایک وسیع تر پس منظر بھی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں کیمرہ اور مائیک سے لیس اسمارٹ عینکوں کی غیر منظم درآمد و فروخت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت ہے، جس میں پرائیویسی، عزت اور سلامتی سے متعلق خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پرائیویسی صرف امیر یا بااثر آدمی کا حق نہیں، عام شہری کا بھی بنیادی حق ہے۔ بازار میں خریداری کرنے والی خاتون، اسکول جانے والا بچہ، دفتر میں کام کرنے والا ملازم یا کسی ہسپتال میں موجود مریض، سب کو یہ حق حاصل ہے کہ کوئی شخص چپکے سے ان کی نجی معلومات جمع نہ کرے۔ ٹیکنالوجی انسان کی سہولت کے لیے ہے، انسان کو ٹیکنالوجی کا بے خبر شکار بنانے کے لیے نہیں۔لہٰذا پنجاب حکومت کا فیصلہ اصولی طور پر شہریوں کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم ہے، مگر اس کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ پابندی واضح قانون، شفاف طریقۂ کار، مناسب سزا اور بلاامتیاز عمل درآمد کے ساتھ نافذ ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر مقصد واقعی پرائیویسی کا تحفظ ہے تو صرف خفیہ کیمرے بند کرنا کافی نہیں؛ شہریوں کی ذاتی معلومات کے پورے نظام کو محفوظ بنانا ہوگا۔ کیونکہ آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون ہمیں دیکھ رہا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ ہمیں دیکھے جانے اور ریکارڈ کیے جانے کا اختیار کس نے دیا؟

جواب دیں

Back to top button