وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےکراچی کے جام چاکرو میں سندھ کے پہلے سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کردیا۔ اس منصوبے کا آغاز سائنسی طریقے سے کچرے کو ٹھکانے لگانے، ماحول کے تحفظ اور کچرے کی نقل و حمل کو بہتر بنانے کے ذریعے کراچی میں ٹھوس کچرے کے انتظامی نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔وزیراعلیٰ نے فیتہ کاٹ کر منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا اور مقام پر کچرا ٹھکانے لگانے کا عمل شروع کرایا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے لینڈ فل سائٹ کا معائنہ کیا، تعمیراتی کام کی پیش رفت اور عملی انتظامات کا جائزہ لیا اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم سے بریفنگ حاصل کی۔
ورلڈ بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے پر مجموعی طور پر 105 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں ورلڈ بینک کی جانب سے 100 ملین ڈالر کی مالی معاونت اور سندھ حکومت کی جانب سے 5 ملین ڈالر کا حصہ شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 14 ارب روپے بھی بتائی۔
منصوبے کا مقصد کچرا جمع کرنے، اس کی نقل و حمل اور سائنسی طریقے سے تلفی کے لیے ایک جدید اور مربوط نظام قائم کرنا ہے، تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور روایتی طریقوں سے کچرا پھینکنے کے باعث صحت کو لاحق خطرات کم کیے جاسکیں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کا آغاز کراچی میں کچرے کے انتظامی نظام کو تبدیل کرنے کے ایک اہم مرحلے کی ابتدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی میں کچرا جمع کرنے کے نظام کو جدید بنا رہے ہیں اور کچرے کے انتظام کے پورے عمل کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روایتی طریقے سے کچرا پھینکنے کے باعث اردگرد کا ماحول آلودہ ہوسکتا ہے اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس انجینئرڈ لینڈ فل کو خصوصی مواد اور تحفظ کی متعدد تہوں کے استعمال سے تیار کیا گیا ہے، تاکہ ماحولیاتی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے۔تقریباً 150 ایکڑ رقبے پر مشتمل اس مقام کو انجینئرڈ لائننگ سسٹم کے تحت تیار کیا جارہا ہے، جس میں جیو ٹیکسٹائل مواد بھی شامل ہے، تاکہ زمین کی نچلی سطح کو آلودگی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اس کے علاوہ لیچیٹ، یعنی کچرے میں سے پانی گزرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آلودہ مائع کو جمع کرنے اور محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے بھی ایک مخصوص نظام قائم کیا گیا ہے۔
اس سہولت میں کچرے کو سائنسی طریقے سے دبانے اور ٹھکانے لگانے کا عمل شامل ہوگا، جبکہ وزن کرنے کے لیے وی برج اور ماحولیاتی نگرانی کے انتظامات سے عملی کنٹرول، ریکارڈ رکھنے اور جوابدہی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ لینڈ فل سائٹ سے کچرا گلنے سڑنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی میتھین گیس جمع کرکے اس کے استعمال کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لینڈ فل سائٹس سے میتھین گیس پیدا ہوسکتی ہے، جسے جمع کرکے ممکنہ طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس جدید نظام سے ماحولیاتی اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے طریقے تلاش کررہے ہیں۔مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور محکمہ بلدیات کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
*تین انجینئرڈ سیلز مکمل*
بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ لینڈ فل کے تین انجینئرڈ سیلز مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ تعمیراتی پیکیج پر مجموعی پیش رفت 61.67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔باقی تعمیراتی کام 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے مرحلے کے افتتاح کے ساتھ ہی اس سہولت پر کام شروع ہوگیا ہے اور انہیں توقع ہے کہ باقی سیلز بھی اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مکمل کرلیے جائیں گے۔مراد علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وی برج درست طریقے سے چلائے جائیں اور اس سہولت پر وصول ہونے والے کچرے کا روزانہ درست ریکارڈ مرتب کیا جائے۔انہوں نے انتظامی نگرانی، عملی جائزے اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت کی اور زور دیا کہ کچرا صرف مقررہ انجینئرڈ سیلز میں ہی ڈالا جائے۔
*کچرے کی نقل و حمل بہتر بنانے کے لیے چار ٹرانسفر اسٹیشنز*
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انجینئرڈ لینڈ فل کراچی میں کچرے کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت شرافی گوٹھ، ڈنگا موڑ، امتیاز اور گٹر باغیچہ میں چار گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز بھی تعمیر کیے جارہے ہیں۔ان چاروں اسٹیشنز کی مجموعی گنجائش روزانہ 6,500 ٹن کچرا سنبھالنے کی ہوگی۔ ان مراکز پر جمع ہونے والے کچرے کو بڑی گاڑیوں میں منتقل کرکے لینڈ فل سائٹ تک پہنچایا جائے گا، جس سے یہ عمل زیادہ مؤثر اور منظم ہوجائے گا۔وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کے مطابق شرافی گوٹھ ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر میں 71.43 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے اور اسے 30 اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ امتیاز اسٹیشن پر 62.82 فیصد جبکہ گٹر باغیچہ اسٹیشن پر 51.92 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ دونوں اسٹیشنز کو 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا شیڈول مقرر ہے۔ڈنگا موڑ اسٹیشن کی تعمیر میں 14.11 فیصد پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ اس کی تکمیل کے لیے 30 مارچ 2027 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تین ٹرانسفر اسٹیشنز پر کام آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ چوتھے اسٹیشن کو درپیش مسائل حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کام تیز کرنے اور کچرا جمع کرنے، منتقل کرنے اور ٹھکانے لگانے کے پورے عمل کو ایک مربوط نظام کے طور پر چلانے کی ہدایت کی۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ لینڈ فل اور اس سے منسلک ٹرانسفر اسٹیشنز کراچی کی صفائی اور ماحولیاتی انتظام میں نمایاں بہتری لائیں گے۔
*منصوبے سے 20 ملین ڈالر کے کاربن کریڈٹس حاصل ہونے کی توقع*
منصوبے کی ماحولیاتی اور مالی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی تکنیکی ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ لینڈ فل منصوبے سے تقریباً 20 ملین ڈالر مالیت کے کاربن کریڈٹس حاصل ہوسکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کاربن کریڈٹس کے لیے منصوبے کی رجسٹریشن سمیت ضروری پیش رفت کی جاچکی ہے اور اس اقدام سے ماحولیاتی تحفظ میں بہتری کے ساتھ مالی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ٹھٹھہ میں مینگرووز کی شجرکاری کے ذریعے کاربن کریڈٹس حاصل کرنے کے سندھ کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کو اس شعبے میں عملی تجربہ حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جو ٹھٹھہ میں مینگرووز کی شجرکاری سے حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ تجربہ ہمیں کچرے کے جدید انتظامی منصوبوں کے ذریعے بھی ایسے ہی مواقع تلاش کرنے میں مدد دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ماحول دوست اور پائیدار طریقے اختیار کرکے کراچی اور صوبے کے لیے طویل مدتی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
*کراچی کے لیے حب ڈیم سے اضافی پانی کی درخواست*
کراچی میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت نے حب کینال کی گنجائش بہتر بنانے کے لیے اس کی ازسرنو تشکیل کی ہے اور وفاقی حکومت سے حب ڈیم سے کراچی کے لیے پانی کا حصہ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت روزانہ پانی کی فراہمی 100 ملین گیلن سے بڑھا کر 200 ملین گیلن کرنا چاہتی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ ہم نے کراچی کے لیے روزانہ مزید 100 ملین گیلن پانی مختص کرنے کی درخواست کی ہے، جبکہ حب ڈیم میں اضافی پانی فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کی منظوری سے صوبائی حکومت شہر میں پانی کی دستیابی بہتر بنا سکے گی۔
*کراچی کی سڑکوں کے لیے 13 ارب روپے مختص*
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت نے کراچی بھر میں سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور مرمت کے لیے 13 ارب روپے کا پروگرام تیار کیا ہے۔ اس میں بڑی شاہراہوں کے ساتھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹاؤن انتظامیہ کے زیرانتظام اندرونی سڑکیں اور گلیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کام نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے اور تین ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان شاء اللہ، فروری تک کراچی کی خراب سڑکوں کی حالت میں نمایاں بہتری آجائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت شہریوں کو درپیش بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کرنے اور سڑکوں کی بحالی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔وزیراعلیٰ نے یوٹیلٹی سروسز کے کاموں کے دوران خراب ہونے والی سڑکوں کی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی اور محکمہ بلدیات کے کمیشن کو ہدایت کی کہ سڑکیں کھودنے کی مد میں جمع ہونے والی رقم کے استعمال کا جائزہ لیا جائے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سڑکیں کھودنے کے لیے جمع کی جانے والی رقم دیگر مقاصد پر خرچ کرنے کے بجائے انہی سڑکوں کی بحالی پر خرچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ جب سڑکیں خراب ہوتی ہیں اور ان کی درست طریقے سے بحالی نہیں کی جاتی تو لوگ مقامی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سڑکیں کھودنے کی مد میں جمع ہونے والی رقم متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ہی استعمال ہونی چاہیے۔وزیراعلیٰ نے کمیشن کو ہدایت کی کہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے اس رقم کے استعمال کا جائزہ لیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ رقم شفاف انداز میں اور اسی مقصد کے لیے خرچ ہو جس کے لیے اسے جمع کیا گیا تھا۔
*شنگھائی کی ترقی سے کراچی کے لیے سبق*
چین کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا وفد صوبائی حکومت کی دعوت پر صوبہ ہوبئے گیا تھا اور اس نے شنگھائی میں بھی مختلف ملاقاتیں کی تھیں۔انہوں نے شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری و تجارت کانفرنس کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 14 سال بعد شہر کے دورے کے دوران انہوں نے وہاں نمایاں ترقی دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سرمایہ کاری آتی ہے، وہاں ترقی کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ ہم شنگھائی کے ترقیاتی تجربے سے سیکھ کر کراچی میں سرمایہ کاری لانا چاہتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی اور شنگھائی جڑواں شہر ہیں اور صوبائی حکومت بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور شہری ترقی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنا چاہتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چین کے دورے کے نتائج، چینی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور طے پانے والے معاہدوں کے بارے میں سندھ کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔ کابینہ کو بریفنگ دینے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
*میڈیا سے گفتگو*
*نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ اسمبلی کا مؤقف*
نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز سے متعلق میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ اسمبلی ایسی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے متعدد بار قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے منتخب نمائندوں نے اسمبلی کے ذریعے صوبے کے عوام کا مؤقف پیش کیا ہے اور اسمبلی کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، تاہم نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں درج طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا، جس میں مطلوبہ قانون ساز منظوریوں اور آئینی طور پر جہاں ضروری ہو، دو تہائی اکثریت کا حصول بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ اسمبلی کا مؤقف واضح ہے۔
*دہشت گردی کے خلاف تعاون کی اپیل*
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی اعتبار سے یہ کوئی پسندیدہ راستہ نہیں، تاہم آئین میں مخصوص حالات کے تحت اس کی گنجائش موجود ہے۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی اور سلامتی کے دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اور وفاق، صوبوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات حل کرنے کے لیے سیاسی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اور بہتر رابطہ کاری سے تنازعات حل کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
*جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی جائے گی*
وزیراعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کی سربمہر رپورٹ اگلے روز ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ تاحال سربمہر ہے اور اسے کابینہ کے اجلاس میں کھولا جائے گا، جس کے بعد صوبائی حکومت کابینہ کے فیصلے کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
*تھر کے کوئلے، سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے اور سرمایہ کاری کے مواقع*
چین کے دورے کے نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفد نے شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی، جس میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کے قیام کا ممکنہ منصوبہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شنگھائی الیکٹرک پہلے ہی تھر کول پاور منصوبے میں شامل ہے اور تھر کول بلاک ون سے وابستہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا بھی حوالہ دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت اور مجوزہ منصوبوں کی تفصیلات مزید عوامی سطح پر جاری کرنے سے پہلے کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ سندھ حکومت سرمایہ کاری لانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں بنیادی ڈھانچے، توانائی کے تحفظ، پانی کی فراہمی اور شہری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جام چاکرو کا انجینئرڈ لینڈ فل منصوبہ کراچی کو زیادہ صاف اور ماحول دوست شہر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شہر کے رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔






