این سی سی آئی اے: سائبر تحفظ، ریاستی سلامتی اور شہری آزادی کا نیا امتحان حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

سائبر دنیا میں ایک کلک، ایک پیغام، ایک تصویر اور ایک جعلی شناخت بھی بڑے جرم کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں حکومتِ پاکستان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ایجنسی، این سی سی آئی اے کو ایک خصوصی ادارے کے طور پر قائم کیا، تاکہ سائبر جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے ایک زیادہ مخصوص اور مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔ پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق یہ ادارہ 2025ء میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر ونگ کی جگہ قائم کیا گیا اور اسے سائبر جرائم کی تحقیقات اور استغاثہ کے لیے آزاد اختیار دیا گیا۔ این سی سی آئی اے کا بنیادی فرض صرف سوشل میڈیا پر نظر رکھنا نہیں بلکہ سائبر فراڈ، ہراسانی، بلیک میلنگ، شناخت کی چوری، ڈیٹا چوری، غیر قانونی رسائی اور دیگر برقی جرائم کی تحقیقات کرنا، ڈیجیٹل شواہد محفوظ کرنا، فرانزک تجزیہ کرنا، ملزمان کا سراغ لگانا اور عدالت میں مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ ادارے کے سرکاری منشور میں ڈیجیٹل فرانزک، تکنیکی تحقیقات، معلوماتی نظام کے حفاظتی جائزے، سائبر تحفظ اور تربیت کو بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں سائبر گشت کرنے والے یونٹوں، جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف خصوصی کارروائیوں کے حوالے سے این سی سی آئی اے کی فعالیت بھی سامنے آئی ہے۔ اکتوبر 2026ء میں ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ سائبر گشت کے یونٹ فعال کیے گئے ہیں اور جعلی خبروں و ریاست مخالف پروپیگنڈے کے سدباب کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد اگر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حقیقی سائبر جرائم اور منظم ریاست مخالف ڈیجیٹل کارروائیوں کا سدباب ہو تو یہ قومی سلامتی کے لیے اہم ضرورت ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ریاست کے خلاف سائبر جرم اور حکومت یا کسی ریاستی ادارے پر پُرامن، قانونی اور تنقیدی اظہارِ رائے ایک ہی چیز نہیں۔ قانون کا اطلاق شواہد اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔این سی سی آئی اے کی فعالیت کا اندازہ پارلیمان میں پیش کیے گئے اعدادوشمار سے بھی ہوتا ہے۔ 2023ء سے 2026ء تک لاکھوں شکایات موصول ہوئیں، ہزاروں انکوائریاں اور مقدمات درج ہوئے اور متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے۔ 2025ء میں 157,465 شکایات، 2,256 مقدمات اور 2,916 گرفتاریاں رپورٹ ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائبر جرائم کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور ادارے پر ذمہ داری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔این سی سی آئی اے نے شہریوں کے لیے شکایت کا راستہ بھی وسیع کیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق شکایت پاکستان سٹیزن پورٹل، این سی سی آئی اے کے آن لائن شکایتی فارم، ای میل یا قریبی سائبر کرائم رپورٹنگ مرکز میں درج کرائی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ شکایت کے لیے درخواست، شناختی کارڈ کی نقل اور دستیاب شواہد فراہم کرنا ضروری ہے۔ گوجرانوالہ میں بھی این سی سی آئی اے کا مرکز موجود ہے، جس کے دائرۂ اختیار میں گوجرانوالہ سمیت حافظ آباد، گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، نارووال اور وزیرآباد شامل ہیں۔اب ایک اہم سہولت پولیس ہنگامی نمبر 15 کو این سی سی آئی اے سے منسلک کرنے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 17 اکتوبر 2026ء کو بتایا گیا کہ مختلف صوبوں اور بڑے شہروں کے پولیس 15 نظام کو این سی سی آئی اے کے نظام سے مربوط کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سائبر جرائم سے متعلق موصول ہونے والی شکایات متعلقہ این سی سی آئی اے مرکز کو کارروائی کے لیے منتقل کی جائیں گی۔ یوں شہری سائبر فراڈ، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ یا ڈیٹا چوری جیسے معاملے میں فوری طور پر 15 پر اطلاع دے سکے گا، جبکہ تفصیلی اور باقاعدہ شکایت کے لیے این سی سی آئی اے کے مقررہ طریقۂ کار سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔اصل امتحان یہ ہے کہ این سی سی آئی اے سائبر مجرموں، مالی فراڈیوں، بلیک میلروں، جعلی شناختوں اور حقیقی ملک دشمن سائبر نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ شفافیت، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے جائز اظہارِ رائے کے حق کا بھی تحفظ کرے۔ سائبر نگرانی کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسا محفوظ ڈیجیٹل ماحول بنانا ہونا چاہیے جہاں مجرم قانون سے نہ بچ سکے اور قانون پسند شہری بلاوجہ خوف کا شکار نہ ہو۔ یہی توازن این سی سی آئی اے کی فرض شناسی اور کامیابی کا اصل پیمانہ قرار پائے گا۔

جواب دیں

Back to top button