مقامی حکومت کا نظام:دنیا کی ترقی کا راز اور پاکستان کی جمہوری محرومی۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

کسی ملک کی ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف بلند عمارتیں، موٹرویز، میٹرو بسیں اور بڑے ترقیاتی منصوبے نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ عام شہری کو صاف پانی، نکاسیٔ آب، معیاری تعلیم، بنیادی صحت، صاف ماحول، محفوظ گلیاں اور فوری انصاف جیسی سہولتیں کس حد تک میسر ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب منتقل ہوتے ہیں تو حکمرانی زیادہ مؤثر، جواب دہ اور عوام دوست بن سکتی ہے۔ مقامی حکومت محض بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب نہیں، بلکہ جمہوریت کی وہ بنیاد ہے جس پر شہری ترقی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔سویڈن، ڈنمارک اور ناروے جیسے ممالک میں بلدیاتی ادارے سماجی بہبود، بنیادی خدمات اور شہری منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سویڈن میں بلدیاتی حکومتیں تعلیم، سماجی نگہداشت اور متعدد مقامی خدمات کی ذمہ دار ہیں۔ ڈنمارک میں بلدیات شہریوں کو صحت، بزرگوں کی دیکھ بھال اور روزمرہ سہولتوں کی فراہمی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں مقامی خودمختاری کے ساتھ براہِ راست جمہوریت کے طریقے شہریوں کو فیصلوں میں شریک کرتے ہیں۔ برطانیہ میں مقامی کونسلیں رہائشی منصوبہ بندی، کچرے کی صفائی اور دیگر شہری خدمات انجام دیتی ہیں، جبکہ جاپان میں بلدیاتی انتظامیہ آفات سے نمٹنے، مقامی معیشت اور شہری نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ان ممالک کی کامیابی کا راز صرف بلدیاتی اداروں کی موجودگی نہیں، بلکہ واضح قانونی اختیارات، مستقل مالی وسائل، پیشہ ورانہ انتظامیہ، شفاف احتساب اور شہری شرکت ہے۔ ہر ملک کا ماڈل مختلف ہے، مگر بنیادی اصول مشترک ہے: جو مسئلہ مقامی سطح پر حل ہوسکتا ہے، اس کے لیے شہری کو صوبائی یا وفاقی دارالحکومت کے دروازے پر دستک نہ دینی پڑے۔پاکستان میں بھی مقامی حکومتوں کا تصور نیا نہیں۔ برطانوی دور میں بلدیاتی ادارے قائم ہوئے، جبکہ 1959ء کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام نے مقامی نمائندگی کو ایک مخصوص انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں منظم کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1979ء کے بلدیاتی انتخابات ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2001ء کے مقامی حکومتوں کے نظام کے ذریعے ضلعی ناظمین اور منتخب اداروں کو اختیارات دیے گئے۔ تاہم ان نظاموں کی ساخت اور آزادی مختلف ادوار میں حکمرانوں کی ترجیحات کے تابع رہی۔ جمہوری حکومتوں کے ادوار میں بھی مقامی اداروں کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔آئین پاکستان کا آرٹیکل 140-اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں و اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ اس کے باوجود انتخابات کا انعقاد اکثر قانونی پیچیدگیوں، حلقہ بندیوں، قانون سازی میں تاخیر اور صوبائی حکومتوں کی انتظامی ترجیحات کے باعث التوا کا شکار ہوتا ہے۔پنجاب کی تازہ صورتِ حال اس مسئلے کی واضح مثال ہے۔ 16 اکتوبر 2026ء کو الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابات اپریل 2027ء تک مؤخر کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے انتخابی شیڈول فوری جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے دھند، سردی اور انتظامی مشکلات کو تاخیر کی وجوہات بتایا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صوبے میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے، جبکہ منتخب اداروں کی مدت 31 دسمبر 2021ء کو مکمل ہوگئی تھی۔سوال یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عدالتی احکامات اور الیکشن کمیشن کے دباؤ کے بغیر انتخابات کرانے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس کرتی ہیں؟ اس کا ایک اہم سیاسی پہلو اختیارات کی مرکزیت ہے۔ بلدیاتی نمائندے بااختیار ہوں تو ترقیاتی فنڈز، شہری مسائل اور عوامی شکایات کے معاملات میں صوبائی ارکانِ اسمبلی پر انحصار کم ہوسکتا ہے۔ یوں مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت ابھرنے اور روایتی سیاسی اثرورسوخ میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک معقول سیاسی تجزیہ ہے، اگرچہ ہر حکومت کی نیت کے بارے میں یکساں فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔پاکستان میں عوام اس نظام سے اس لیے بھی پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے کہ انتخابات کے بعد منتخب اداروں کو مستقل مالی وسائل، واضح اختیارات اور انتظامی خودمختاری ہمیشہ میسر نہیں ہوتی۔ بار بار قانون تبدیل کرنا، بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرنا، اختیارات افسر شاہی کے پاس رکھنا اور مقامی آمدن کے ذرائع محدود کرنا اس نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ نتیجتاً گلی، نالی، پانی، صفائی اور مقامی منصوبہ بندی جیسے مسائل بھی سیاسی سفارش یا حکومتی منظوری کے محتاج بن جاتے ہیں۔پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی نقل محض انتخابی عمل تک محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقررہ مدت میں ہوں، منتخب نمائندوں کو آئینی تقاضوں کے مطابق مالی و انتظامی اختیارات ملیں، مقامی بجٹ اور اخراجات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں اور کارکردگی کا آزادانہ احتساب ہو۔ مقامی حکومتیں مضبوط ہوں گی تو عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اقتدار کے ایوانوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ اصل جمہوریت وہ نہیں جس میں عوام 5 سال بعد صرف ووٹ دیں، بلکہ وہ ہے جس میں ان کی آواز ہر روز مقامی فیصلوں میں سنائی دے۔

جواب دیں

Back to top button