وزیر بلدیات، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان، عوام اور جمہوریت پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات ہیں، ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہوگیا، وہ گورنر راج کے حق میں نہیں تاہم موجودہ حالات میں غیر معمولی اقدامات پر غور کرنا پڑا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جوان، پولیس اہلکار اور معصوم شہری قربانیاں دے رہے ہیں، پوری قوم کو سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور دشمن عناصر ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں، اس لیے قومی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے بجائے اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے نام پر منافرت پھیلانے سے گریز کیا جائے اور قومی وسائل کو ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی سازشوں، بھارت کی پراکسیز اور افغانستان سے دہشت گردوں کو ملنے والی حمایت کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کو مقدم رکھیں، کیونکہ سیاسی اختلافات بعد میں بھی جاری رہ سکتے ہیں، لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشن اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی حامی رہی ہے، ماضی میں بھی پارٹی نے قومی مفاد کے لیے اپنی حکومت کے خلاف گورنر راج کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ سندھ اور بالخصوص کراچی کو وفاقی ترقیاتی پروگرام میں ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ 2013 سے 2018 تک وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ کا حصہ صرف دو سے تین فیصد رہا، جبکہ عمران خان کی جانب سے کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان بھی ان کے بقول عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے، اس کے مسائل حل کرنے کے لیے اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اور مناسب فنڈز کی فراہمی ضروری ہے۔ محدود وفاقی تعاون کے باوجود سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق صوبے کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی ادارے سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت سے انکار نہیں، تاہم سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی پابندیوں اور انتخابی مشکلات کا سامنا کیا، لیکن قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ ان کے مطابق 9 مئی کے واقعات میں عسکری اداروں اور قومی ہیروز کی یادگاروں کی بے حرمتی قابل مذمت تھی، کیونکہ شہداء کی یادگاریں ان قربانیوں کی علامت ہیں جو انہوں نے ملک و قوم کے لیے دیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود آئین، قانون اور قومی اداروں کا احترام برقرار رکھنا ضروری ہے۔میر رضا کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے حوالے سے وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ اجلاس میں سیلڈ رپورٹ کھول کر پیش کی، جس کے بعد معاملے کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کا ابتدائی اجلاس ہو چکا ہے اور مزید اجلاسوں کے بعد رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی، جسے بعد ازاں میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پہلے دن سے اس معاملے میں انصاف کی خواہاں ہے، عدلیہ کی سفارشات پر من و عن عمل کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔






