سعودی پاک بزنس کونسل پائیدار تجارت،سرمایہ کاری کا بڑا فورم ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے کئے گئے اقدام قابل تحسین ہیں اس پر سرمایہ کار وں کا مکمل اعتماداس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں آئندہ انوسٹمنٹ کو بہت فروغ ملے گا ان خیالات کا اظہار پہلی سعودی پاک رئیل اسٹیٹ ایکسپو کے موقع پر سعودی پاک بزنس کونسل کے چیئرمین،شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی اور کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن تامی البقامی نے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دیرینہ تعلقات زندگی کے تمام اہم شعبوں، بالخصوص معیشت، جغرافیائی و سیاسی امور اور دونوں حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کے ذریعے مزید مضبوط اور اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوں گے۔
سعودی پاک بزنس کونسل کے بانی اراکین میں شامل ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کاروباری روابط، تجارتی سرگرمیوں، زراعت اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ باہمی اشتراک کے ذریعے متعدد نئے شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔تقریب سے خطاب میں عمران امین نے روڈا اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں جاری تیز رفتار ترقیاتی سرگرمیوں اور مستقبل کے ترقیاتی لائحۂ عمل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف جاری منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔اس موقع پر عمران امین نے یقین دہانی کرائی کہ روڈا اور سی بی ڈی میں سرمایہ کاروں کو ون اسٹاپ شاپ کے نظام کے تحت جامع سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے اور کاروبار کرنے میں حائل رکاوٹوں کو کم سے کم کیا جا سکے پائیدار شہری ترقی اور اعلیٰ معیار کے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خطے کی ترقی کے نئے امکانات متعارف کروا رہا ہے، جبکہ سی بی ڈی نے لاہور کے شہری منظرنامے کو جدید طرزِ تعمیر، خوب صورتی، افادیت، پائیداری اور شہری احیاء کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک نئی جہت دی ہے۔ ان منصوبوں میں جدید شہری منصوبہ بندی اور عصری طرزِ زندگی کے تصورات کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔یہ تقریب تین روزہ رئیل اسٹیٹ ایکسپو کے باقاعدہ آغاز اور افتتاح کی بھی علامت ہے، جس میں متعدد منصوبوں کو سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس نمائش سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہونے اور مستقبل قریب میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے نمایاں اضافے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے مشکلات سے دوچار شعبوں کی بحالی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔






