حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رح کے 281ویں عرس مبارک کی سہ روزہ تقریبات کے دوسرے روزچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی بھٹ شاہ پہنچے اورصوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے- سید یوسف رضا گیلانی نے درگاہ پر پھولوں کی چادر چڑھاکر دعا اور فاتح خوانی کی-اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری میں جو فلسفہ ہے آج کے دور میںاس فلسفے کو فروغ دینے اور اس پر عمل کرنے کی اشد کی ضرورت ہے، شاہ صاحب کے فلسفے میں امن، بھائی چارے اور رواداری کا درس ملتا ہے – بعد ازاں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایچ ٹی سورلِی ہال میں لطیف ادبی کانفرنس میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی اورادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبر اور گھٹن کے اس دور میں شاہ لطیف رحہ کا پیغام ہے کہ ظالم کے آگے ڈٹ جانا چاہیے، امن،محبت، خواتین کے حقوق شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری کا فلسفہ ہے-انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے شعراءنے ہمیشہ بیدار رہنے اور امن کی بات کی ہے،شاہ کا رسالوجوکہ امن و محبت کا منشور ہے دنیا کو اس وقت لطیف سائیں کے اس فلسفے اور فکر کی ضرورت ہے-چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ میں نے بھی غریبوں کو ملازمتیں دینے کی پاداش میں 9سال جیل کاٹی ہے اورہماری قیادت کو بھی جیلوں میں ڈالا گیا اورہمیں بھی انصاف چاہئے- انہوں نے کہا کہ تمام ادارے خودمختار ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے ادبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں شاہ لطیف کی شاعری، فلسفہ اورپیغام پھیلایاجائے تاکہ نوجوان اس سے استفادہ حاصل کرسکیں- انہوں نے سینیٹ چیئرمین سے گزارش کی کہ وہ چاروں صوبوں کے گورنرز کو خط ارسال کریں کہ یونیورسٹیز میں شاہ جورسالہ رکھا جائے تاکہ نوجوان مطالعہ کرسکیں -صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ، نامور ادیب ایاز لطیف پلیجو، مدد علی سندھی، تاج جویو و دیگر محققین نے شاہ سائین کے فن، فکر اور فلسفے پر تحقیقی مقالے پیش کیے-
قبل ازیں سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے درگاہ حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحہ کے احاطے میں شاہ شاہ کاراگ بھی سنا-

ٰ






