وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مرکزی ایجنڈا ہمارے لیڈر کی صحت کا معاملہ ہے۔

ہم نے عمران خان کی فیملی کی موجودگی اور ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کرانے کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اپنائے۔تمام تر دستیاب آئینی و قانونی راستوں کے باوجود ہمارے لیڈر کا علاج نہیں کرایا جا رہا۔ عمران خان کوئی معمولی شخص نہیں، وہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہیں۔اسلامی دنیا کے دو عظیم لیڈر تھے، ایک کو شہید کر دیا گیا اور دوسرے کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کا فیملی کی موجودگی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فی الفور علاج کرایا جائے۔ملک پر مسلط ٹولے کے پاس نہ کوئی خارجہ پالیسی ہے نہ داخلہ پالیسی۔ انہیں یہ تک سمجھ نہیں آتی کہ جنگ کی حالت میں کیا کرنا ہوتا ہے اور جنگ کے بغیر کیا۔ملک کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ان کا انٹرسٹ معاشی و قومی ترقی نہیں بلکہ عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہ کرانا اور علاج نہ کرانا ہے۔اس وقت ملک میں صرف عوامی طاقت سے منتخب قیادت ہے، مگر اسے نا اہل کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ان کا مقصد عوام کی طاقت سے منتخب وزیر اعلیٰ کو نا اہل کرنا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی نا اہل کرنا ہے. اگر یہ رویہ برقرار رہا تو ملک میں ترقی ممکن نہیں ہوگی۔خدانخواستہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری جعلی حکومت اور ان کے ہینڈلرز پر ہوگی۔






