لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبر پختونخوا شوکت کیانی گروپ کے علاوہ تمام پاکستان بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کی فیڈریشنز، یونینز اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے قائدین کے نام ایک اہم پیغام
محترم قائدین2014کے بعد ملک بھر میں مختلف سرکاری اداروں کو نجکاری کمپنی ماڈل اور متبادل انتظامی ڈھانچوں کی طرف منتقل کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین مستقل، کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز، کمپنی کیڈر اور دیگر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہو گئے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج ایک ہی ادارے میں خدمات انجام دینے والے ملازمین مختلف قوانین اور مراعات کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔بدقسمتی سے بیشتر فیڈریشنز اور یونینز کی قیادت مستقل ملازمین کے ہاتھوں میں ہے، اور ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ احتجاج، ہڑتالیں، مذاکرات اور معاہدے زیادہ تر مستقل ملازمین کے حقوق کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ 2014 کے بعد مختلف سسٹمز کے تحت بھرتی ہونے والے ہزاروں ملازمین کے بنیادی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ہم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کسی قانونی، انتظامی یا مالی وجہ کی بنا پر ان ملازمین کو جنرل پراویڈنٹ فنڈ (GP Fund) کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، تو پھر انہیں کم از کم کنٹری بیوٹری پراویڈنٹ فنڈ (CP Fund) یا کسی یکساں فلاحی نظام کے تحت کیوں نہیں لایا جاتا؟ آخر کیوں آج بھی ایک ہی ادارے میں 25 سے زائد اقسام کے ملازمین مختلف حقوق اور مراعات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟ہم تمام یونین قائدین اور فیڈریشنز سے مؤدبانہ لیکن دوٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا ان ملازمین کو صرف اپنے احتجاجوں، ہڑتالوں اور مذاکرات میں تعداد بڑھانے کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنا بند کریں۔ اگر واقعی آپ خود کو مزدوروں اور ملازمین کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو اپنی جدوجہد کا محور صرف مستقل ملازمین کے مطالبات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ 2014 کے بعد آنے والے تمام ملازمین کے مساوی حقوق، سماجی تحفظ اور محفوظ مستقبل کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں۔وقت آ گیا ہے کہ تمام ملازمین کے لیے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ اگر GP Fund ممکن نہیں تو تمام ملازمین کو CP Fund کے تحت لا کر مساوی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ اس طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ہو اور ہر ملازم اپنے مستقبل کے حوالے سے مطمئن ہو سکے۔یہ پیغام تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ ان ہزاروں ملازمین کی آواز ہے جو برسوں سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ آج آپ طاقت، عہدوں اور نمائندگی کے منصب پر موجود ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ قیادت ایک امانت ہے اور اس امانت کے بارے میں ایک دن ضرور سوال ہوگا۔اگر آج بھی ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور ان محروم ملازمین کے حقوق کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو یاد رکھیں کہ قیامت کے دن انہی مظلوم اور محروم ملازمین کے ننھے ننھے ہاتھ آپ کے گریبانوں میں ہوں گے، اور آپ سے یہ سوال کریں گے کہ جب آپ ہمارے نمائندے تھے تو آپ نے ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز کیوں بلند نہ کی؟اللہ تعالیٰ ہم سب کو انصاف کرنے، حق بات کہنے اور تمام ملازمین کے ساتھ برابری اور دیانت داری کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد ناصر خان آفریدی





