وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت واپڈا کے ہائیڈرو پاور اور آبی وسائل کے میگا منصوبوں پر اجلاس

اجلاس میں صوبائی کابینہ اراکین ریاض خان اور مزمل اسلم، ممبر قومی اسمبلی ساجد مہمند، وفاقی سیکرٹری آبی وسائل، چیئرمین واپڈا اور دیگر وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سی آر بی سی لفٹ کنال، مہمند ڈیم، نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی موجودہ پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے کے لیے زمین کی خریداری اور منصوبے پر کام کرنے والے عملے کی سکیورٹی جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبہ صوبے کی فوڈ سکیورٹی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا۔ سی آر بی سی منصوبے سے صوبے کی 2 لاکھ 95 ہزار سے زائد بنجر زمین زیر کاشت آئے گی۔بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے باعث منصوبہ غیر ضروری تاخیر کا شکار رہا۔ تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبہ اپنے وسائل فراہم کرے گا جبکہ وفاق بھی اپنے حصے کے وسائل بروقت مہیا کرے۔سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے پر 6 پیکجز میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور منصوبہ 2027 سے 2030 کے دوران مکمل کیا جائے گا۔سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے کے لیے 65 فیصد فنڈنگ وفاق جبکہ 35 فیصد فنڈنگ صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے مہمند ڈیم رائٹ بینک ایریگیشن کنال کے لیے 81 ایکڑ اراضی کے حصول میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے مہمند ڈیم پراجیکٹ کے تحت مقامی کمیونٹی کے لیے ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز آئندہ ایک ماہ میں جاری کرنے کی ہدایت کی۔مہمند ڈیم پر مجموعی طور پر 54 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل کی مدت ستمبر 2028 ہے۔مہمند ڈیم سے 17,742 ایکڑ اراضی زیر کاشت آئے گی۔ 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔اجلاس میں نیو منڈا ہیڈورکس کی تعمیر اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ سُہیل آفریدی نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قوم کا سرمایہ ہے اور اس کی کامیاب و بروقت تکمیل کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button