براڈ پیک سمیت حالیہ کوہ پیمائی حادثات پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا سخت نوٹس، ٹریکنگ و کوہ پیمائی قوانین اور ایس او پیز پر جامع نظرِثانی کا فیصلہ

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین نے رواں سال کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات، بالخصوص براڈ پیک کے حالیہ واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کوہ پیماؤں، ٹریکنگ گروپس، گائیڈز، پورٹرز اور دیگر متعلقہ افراد کی جان و سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گلگت بلتستان حکومت نے 1999 کے ٹریکنگ رولز اینڈ ریگولیشنز، متعلقہ طریقہ کار، شرائط و ضوابط اور ایس او پیز کا جامع ازسرنو جائزہ لینے اور حالیہ حادثات میں ممکنہ غفلت یا انتظامی کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری فاریسٹ، وائلڈ لائف اینڈ پارکس سبطین احمد کریں گے جبکہ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ضمیر عباس بطور ممبر/کنوینر اور کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان بطور ممبر شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ کمیٹی براڈ پیک حادثے میں ہونے والی ممکنہ کوتاہیوں کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹریکنگ قوانین کا شق وار جائزہ لے گی اور ان میں موجود فرسودہ، غیر مؤثر یا نامکمل شقوں کی نشاندہی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پرمیٹ اور رجسٹریشن، بریفنگ و ڈی بریفنگ، لائژن آفیسرز اور ماؤنٹین گائیڈز کی ذمہ داریوں، حفاظتی سامان، پورٹرز کی اجرت و فلاح و بہبود، انشورنس، طبی سہولیات و انخلاء، مواصلاتی نظام اور ہنگامی رسپانس کے طریقہ کار کو موجودہ حالات اور بین الاقوامی حفاظتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ نے خاص طور پر لائژن آفیسرز، ماؤنٹین گائیڈز اور پورٹرز کے لیے موجودہ انشورنس کوریج کا ازسرنو جائزہ لینے اور موجودہ خطرات اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور مؤثر انشورنس کوریج تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ دور دراز اور محدود علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو، ہیلی کاپٹر ایویکوایشن، موسم کی پیش گوئی اور ارلی وارننگ، مواصلات اور ہنگامی امداد کے انتظامات کا بھی جائزہ لے کر ایسے لازمی حفاظتی پروٹوکول وضع کیے جائیں جن سے مستقبل میں جانی نقصان کے امکانات کم سے کم ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اوپن اور ریسٹرکٹڈ زونز اور مختلف ٹریکس و پاسز کی موجودہ درجہ بندی کو بھی زمینی حقائق کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے شعبے میں ڈیجیٹل پرمیٹ و رجسٹریشن نظام، اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری اور قوانین کا باقاعدہ وقفوں سے جائزہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان حکومت خطے کی کوہ پیمائی اور سیاحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سیاحوں، کوہ پیماؤں، گائیڈز اور پورٹرز کے تحفظ اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر جامع رپورٹ، سفارشات اور مجوزہ ترمیم شدہ قوانین و ایس او پیز کا مسودہ مجاز اتھارٹی کو پیش کرے۔

جواب دیں

Back to top button