وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بطور ریگولیٹر گلگت بلتستان میں مستحکم انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی فراہمی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کرے۔گلگت بلتستان کے صرف شہری علاقوں میں آپٹک فائبر کا استعمال ممکن ہے، جبکہ دیگر پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں کے لیے یہ محدود آپشن ہے۔ خطے میں گلیشیرز کی مانیٹرنگ اور قدرتی آفات پر نظر رکھنے کے لیے سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اشد ضروری ہے، جس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے نیپال میں آنے والی قدرتی آفت کی مثال سامنے موجود ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیلولر کنیکٹیویٹی کی ابتر صورتحال کے باعث سیاحت کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں امدادی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) محض ایک سروس پرووائیڈر ہے، لہٰذا پی ٹی اے کو بطور ریگولیٹر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ
گلگت بلتستان میں واقع 7,000 گلیشیرز کی مسلسل نگرانی اور ڈسائسٹر مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے کو کسی بھی بڑے حادثے سے محفوظ رکھا جا سکے، اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے ہی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اقدامات کی مکمل حمایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو قومی گرڈ سے جوڑنے کے لیے گلگت سے دیامر تک منصوبے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم، اپوزیشن لیڈر حافظ حفیظ الرحمن، صوبائی وزیر سیاحت نیکنام کریم،صوبائی وزیر تعلیم امان علی عامر اور صوبائی وزیر بلدیات ذوالفقار علی مرادبھی موجود تھے۔






