صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی کوششیں متفقہ طور پر مسترد،سندھ اسمبلی میں اہم قرارداد منظور

سندھ اسمبلی کے ایک طویل اور تاریخی اجلاس میں صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی تمام بیرونی کوششوں کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے مؤقف اور دوغلی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ کی جغرافیائی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا بٹوارہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

تحریکِ التوا اور پیپلز پارٹی کا موقف

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تحریکِ التوا نثار کھوڑو صاحب اسمبلی میں لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ تحریک نہیں آنی چاہیے تھی اور براہِ راست قرارداد لانی چاہیے تھی، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ اور ہماری پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہم سندھ کے حقوق اور سالمیت کے اس اہم معاملے پر اس آئینی فورم کے اندر تفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لاہور میں بزنس کمیونٹی کے ایک سیمینار میں ایک وفاقی وزیر نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات چھیڑی تھی، جس کے بعد ٹی وی شوز اور جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نثار کھوڑو اس بحث کو صحیح جگہ (اسمبلی) میں لے کر آئے تاکہ غیر متعلقہ جگہوں پر گفتگو کرنے والوں کے منہ بند کیے جا سکیں۔

پاکستان بنانے میں سندھ کا تاریخی کردار

سید مراد علی شاہ نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنانے میں صوبہ سندھ کا ہاتھ سب سے اوپر تھا۔ سندھ نے سب سے پہلے 1938ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں کراچی کے جلسے میں وہ قرارداد پاس کی جو 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کی بنیاد بنی۔ اس کے بعد 1943ء میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کرنے والی پہلی اسمبلی بھی سندھ اسمبلی ہی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 26 جون 1947ء کو برطانوی حکومت کے تقسیمِ ہند کے پلان پر لبیک کہتے ہوئے سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے ہندوستان سے علیحدگی اور پاکستان میں شمولیت کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بار بار پاکستان کو بچانے والے صوبہ سندھ پر ہی الزام تراشی کی جاتی ہے۔

کراچی کی علیحدگی کے خلاف ماضی کی تحریک

وزیرِ اعلیٰ نے فروری 1948ء کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے”۔ ماضی میں جب کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی مہم چلی تھی تو محمد ہاشم گزدر نے اس کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ کراچی کی علیحدگی سندھ کو معاشی اور سیاسی طور پر اپاہج کر دے گی۔ اس وقت غیر منتخب وفاقی دستور ساز اسمبلی نے سندھ کے لوگوں کے جذبات کے خلاف فیصلہ کیا تھا، جو پہلے دن سے غلط تھا اور ہم آج بھی اسے غلط کہتے ہیں۔ انہوں نے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1973ء کے اصل آئین میں انہوں نے صوبوں کو تحفظ دیا تھا، لیکن بعد میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین کو مسخ کر کے صوبائی خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو خبردار کیا کہ آئین کے تحت کوئی بھی سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہیں کر سکتا۔

آبادی کی بنیاد پر تقسیم کا فارمولا مسترد

اپوزیشن کے اس دلیل پر کہ آبادی بڑھنے سے نئے صوبے بننے چاہئیں، وزیرِ اعلیٰ نے کڑی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کا قیام آبادی پر نہیں بلکہ ضرورت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیلیفورنیا جب 1850ء میں امریکہ میں شامل ہوا تو اس کی آبادی 92 ہزار تھی اور آج 40 ملین (4 کروڑ) ہے، یعنی آبادی 400 گنا بڑھنے کے باوجود کیلیفورنیا کے ٹکڑے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے سیمینار میں بیٹھ کر پاکستان کو چوسنے والے کھرب پتی تاجر اور بزنس مین اس طرح کے فیصلے کر رہے ہیں جو کہ صرف اسمبلیوں کا اختیار ہے۔مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کے بیانات پر کڑی تنقید

سید مراد علی شاہ نے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت پر شدید وار کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کے ‘ایڈمنسٹریٹو یونٹس’ کے فارمولے کو کھلا دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ڈویژنز کو انتظامی اکائیاں بنا کر دراصل چور دروازے سے نئے صوبے بنانا چاہتے ہیں تاکہ نئے وزرائے اعلیٰ بن سکیں، یہ "بلی کے خواب میں چھیچڑے” والی بات ہے۔ انہوں نے فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی کے بیانات کو بھی مکارانہ اور تضاد سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رہنما عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کہ اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا ہے تو پھر ہر شخص اپنے اپنے گھر کا وزیراعلیٰ بن جائے۔

اپوزیشن کا دوغلا پن اور ایوان سے فرار

وزیرِ اعلیٰ نے اپوزیشن ارکان کی پالیسی کو "بغل میں چھری، منہ پر رام رام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کے اندر یہ لوگ جذباتی تقریریں کر کے سندھ کی سالمیت کا راگ الاپ رہے تھے، لیکن جب رولز کے مطابق مشترکہ قرارداد کا وقت آیا تو یہ اپنی بدنیتی دکھاتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے اور خوف کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان کی انتخابی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک بھی عوامی ووٹوں سے جیت کر نہیں آیا بلکہ یہ منتیں سماجتیں کر کے اور راتوں رات کہیں اور سے اشارے لے کر ایوان میں پہنچے ہیں، اسی لیے یہ اپنے ووٹرز کی نہیں سنتے۔

رولز کے نفاذ کا مطالبہ اور اختتام

سید مراد علی شاہ نے اسپیکر سے گلہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسمبلی رولز 220 اور 221 کے تحت ایوان میں ہونے والی تمام غیر متعلقہ اور لایعنی گفتگو کو کارروائی سے حذف کیا جائے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں جذباتی انداز میں کہا کہ سندھ سے محبت کرنے سے پاکستان کی محبت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ سندھ کے ساتھ دغا بازی کرنے والوں کا ووٹ بینک اسی لیے خالی ہو چکا ہے کیونکہ عوام ان کی منافقت کو پہچان چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم رہیں یا نہ رہیں، سندھ ہمیشہ متحد اور قائم رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button