سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے جمعہ کو ایک جامع اجلاس میں سندھ کو درپیش توانائی کے شعبے سے متعلق اہم مسائل کا جائزہ لیا، جن میں سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (ایس ای ایچ سی ایل) کو ہڈن بلاک کا اجرا، متروک اور غیر فعال گیس فیلڈز کی الاٹمنٹ، سوہو اور کندھ کوٹ فیلڈز سے گیس کی فراہمی اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) سے متعلق زیر التوا معاملات شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سیکریٹری توانائی شہاب انصاری نے شرکت کی۔ سیکریٹری پٹرولیم حامد یعقوب شیخ، ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم ظفر عباس، سوئی سدرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر امین راجپوت اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹر جواد احمد چیمہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے کئی عرصے سے زیر التوا معاملات پر وفاقی سطح پر بروقت فیصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے توانائی کے وسائل کو صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، توانائی کے تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
*ہڈن بلاک کی فراہمی*
گفتگو کا ایک اہم محور ہڈن بلاک (2767-3) تھا، جس کے لیے سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلوں اور پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012 کے تحت فروری 2025 میں درخواست جمع کرائی تھی۔وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ محکمہ توانائی، وزیر اعلیٰ کے دفتر اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) کی جانب سے بارہا خط و کتابت کے باوجود یہ معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے تمام قانونی اور ضابطے کی تقاضے پورے کر دیے ہیں اور موجودہ پالیسی فریم ورک کے تحت یہ بلاک حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے تمام رسمی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں اور ہڈن بلاک پر پالیسی کے تحت اس کا واضح حق ہے۔ بروقت فیصلہ صوبے کو قومی توانائی کے منظرنامے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے اور شعبے میں مزید سرمایہ کاری راغب کرنے کے قابل بنائے گا۔
*متروک اور غیر فعال گیس فیلڈز کی الاٹمنٹ*
وزیر اعلیٰ نے صنعتی استعمال کے لیے متروک اور غیر فعال گیس فیلڈز سندھ کو الاٹ کرنے کے سلسلے میں بھی وفاقی تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت غیر استعمال شدہ گیس کے ذخائر کو پیداواری سرگرمیوں میں لانے کے لیے بارہا مطالبہ کر چکی ہے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو تقویت دی جا سکے اور کاروباری اداروں کے لیے توانائی کی دستیابی بہتر بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہپ سندھ بھر کی صنعتیں توانائی کی شدید قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔ متروک اور غیر فعال گیس کے ذخائر کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے سے صنعتوں کو فوری ریلیف مل سکتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور معاشی ترقی کو تحریک مل سکتی ہے۔
*گیس کی فراہمی*
سید مراد علی شاہ نے سجاول بلاک میں سوہو دریافت سے گیس کی الاٹمنٹ اور کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے دستیاب اضافی گیس کا معاملہ بھی اٹھایا۔ آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ قدرتی گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو اس کے استعمال میں ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ گیس پیدا کرنے والے صوبوں کی جانب سے ترجیحی استعمال سے متعلق آئینی دفعات کو مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ سوہو اور کندھ کوٹ فیلڈز سے بروقت گیس کی الاٹمنٹ توانائی کی قلت پر قابو پانے اور صنعتی توسیع میں معاون ثابت ہوگی۔وفاقی وزیر برائے توانائی علی پرویز ملک نے سندھ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے توانائی سے متعلق معاملات میں صوبے کی فعال شمولیت کو سراہا۔
*سوئی سدرن گیس کمپنی کے معاملات کا جائزہ*
اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی سے متعلق دو اہم معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پہلا معاملہ کراچی کے گڈاپ میں سرکاری اراضی سوئی سدرن گیس کمپنی کو خدیجی بیس کیمپ کے قیام اور اسے باقاعدہ بنانے کے لیے لیز پر دینے کی مجوزہ کارروائی سے متعلق تھا۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ صوبائی محکمہ توانائی نے پہلے ہی موقع کا معائنہ کرنے کے بعد عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے جبکہ مزید کارروائی ملیر کے ڈپٹی کمشنر اور محکمہ جاتی نمائندوں کے مشترکہ دورے کی منتظر ہے۔دوسرا معاملہ وفاقی حکومت کی جانب سے نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی میں نرمی کے فیصلے کے بعد سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کی نوٹیفائیڈ فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی کی درخواست سے متعلق تھا۔وزیر اعلیٰ نے تمام متعلقہ صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ زیر التوا ضابطے کی کارروائی کو تیز کیا جائے اور دونوں معاملات کو فوری طور پر حل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ انتظامی کارروائیاں ایسے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں جو براہ راست شہریوں کو فائدہ پہنچاتے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بناتے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے زیر التوا معاملات کو بلا تاخیر حل کرنے کے لیے قریبی رابطے کے ساتھ کام کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن سندھ اور قومی معیشت کے لیے ان معاملات کی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ہم ہر تجویز کا بغور جائزہ لیں گے اور عملی اور باہمی طور پر فائدہ مند حل تک پہنچنے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔وفاقی وزیر نے صوبوں کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے اور ملک کے توانائی کے وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ، صنعتی ترقی کے فروغ اور قومی توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی رابطے کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ زیر بحث معاملات تعمیری رابطے اور بروقت فیصلوں کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔






