وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے جمعرات کو سندھ میں ریلوے خدمات کی توسیع اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا، جس میں بالخصوص معطل ٹرین سروسز کی بحالی، ڈیزل ملٹی پل یونٹس (ڈی ایم یوز) کے ذریعے برانچ روٹس کی اپ گریڈیشن، 100 بغیر عملے والے ریلوے پھاٹکوں کو عملے والے پھاٹکوں میں تبدیل کرنے، ریلوے کی منظوریوں کے منتظر انفرااسٹرکچر منصوبوں کو تیز کرنے اور پاکستان ریلوے کی اراضی کو تجاوزات سے محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر پر زور دیا کہ موئن جو دڑو ایکسپریس کو فوری طور پر بحال کیا جائے، کیونکہ اس کی معطلی سے علاقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حنیف عباسی نے یقین دہانی کرائی کہ سروس ستمبر تک بحال کردی جائے گی۔ملاقات میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز ذوالفقار نظامانی نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر کے ہمراہ سیکریٹری/چیئرمین ریلوے سید مظہر علی شاہ، چیف ایگزیکٹو افسر/سینئر جنرل منیجر حفیظ اللہ، ایڈیشنل جنرل منیجر حماد حسن مرزا، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی جمشید عالم اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر نے 100 بغیر عملے والے ریلوے پھاٹکوں کی بحالی اور اپ گریڈیشن کرکے انہیں عملے والے ریلوے پھاٹکوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا، جس کا مقصد سندھ بھر میں حادثات کے خطرات کو کم کرنا اور گاڑی سواروں، پیدل چلنے والوں اور ریلوے مسافروں کے تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ اس اسکیم کی تخمینی لاگت 5.913 ارب روپے ہے اور اسے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے دوران مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلوے سیفٹی کو ترجیح دی جانی چاہیے اور مجوزہ حفاظتی اقدامات پر غیر ضروری تاخیر کے بغیر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت اور پاکستان ریلوے کے درمیان قریبی رابطے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ریلوے پھاٹک استعمال کرنے والے لوگوں کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم ان پھاٹکوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے صوبائی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ وزارت ریلوے اس حفاظتی منصوبے پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کرے گی۔سندھ حکومت کے ریلوے انفرااسٹرکچر سے متعلق متعدد سڑکوں کے منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جو عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز)، منظوریوں یا ریلوے شٹ ڈاؤن شیڈولز کے منتظر ہیں۔ان اسکیموں میں حیدرآباد-میرپورخاص روڈ کے ساتھ 9.66 کلومیٹر طویل ٹنڈوجام بائی پاس روڈ، جس میں دو اوور ہیڈ پل شامل ہیں، ٹنڈوالہیار میں ناردرن بائی پاس روڈ پر پلوں کی تعمیر، 31.40 کلومیٹر طویل ٹنڈوالہیار-ٹنڈوآدم روڈ کو دو رویہ کرنا، لاڑکانہ میں دو ریلوے انڈر پاسز کو چوڑا کرنا اور سکھر میں گڈانی پھاٹک پر اوور ہیڈ پری اسٹریسڈ پل کی تعمیر شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ریلوے سے متعلق منظوریوں میں تاخیر اہم عوامی انفرااسٹرکچر منصوبوں کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر سے تمام زیر التوا این او سیز کے اجرا کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی تاکہ صوبائی ترقیاتی اسکیموں پر پیش رفت ہوسکے۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ وزارت ریلوے کے پاس زیر التوا تمام این او سیز جلد جاری کردیے جائیں گے، جس سے سندھ حکومت متعلقہ ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھا سکے گی۔حنیف عباسی نے کہا کہ ہم سندھ کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ وزارت ریلوے کے پاس زیر التوا تمام این او سیز جلد جاری کردیے جائیں گے تاکہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں مزید تاخیر نہ ہو۔وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر کو پاکستان ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں سندھ حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ادارے تجاوزات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے ساتھ ریلوے کی املاک کے تحفظ میں پاکستان ریلوے کے ساتھ تعاون کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلوے کی اراضی قومی اثاثہ ہے اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ سندھ حکومت پاکستان ریلوے کو اپنی اراضی واگزار کرانے اور اس کے تحفظ کے لیے تمام ضروری انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت فراہم کرے گی۔وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ریلوے اپنی اراضی کے تحفظ اور ریلوے املاک کے بہتر استعمال کے لیے صوبائی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ملاقات میں ڈیزل ملٹی پل یونٹس (ڈی ایم یوز) متعارف کراکے سندھ میں برانچ ریلوے روٹس کی اپ گریڈیشن اور ریلوے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے ریلوے رابطوں اور مسافر خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات سے ملتا جلتا ماڈل اختیار کرنے کی تجویز دی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو قابل اعتماد، سستی اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے۔ ڈی ایم یوز کے ذریعے برانچ روٹس کو اپ گریڈ کرنا ایک مؤثر حل فراہم کرسکتا ہے اور چھوٹے شہروں کو بڑے شہری مراکز سے منسلک کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت قابل عمل روٹس کی نشاندہی اور انفرااسٹرکچر میں بہتری کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان ریلوے کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ پاکستان ریلوے مجوزہ برانچ روٹس کا جائزہ لے گا اور بہتر خدمات متعارف کرانے کے قابل عمل امکانات پر سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ملاقات میں روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے بڑے ریلوے اسٹیشنوں، بالخصوص روہڑی میں مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا، کیونکہ روہڑی ملک کے مختلف حصوں کو ملانے والا ایک اہم اسٹریٹجک ریلوے جنکشن ہے۔
حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن دسمبر تک مکمل کردی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں اور روہڑی ایک اہم ریلوے جنکشن ہونے کی وجہ سے خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت ریلوے اس امر کو یقینی بنائے گی کہ روہڑی میں جاری اپ گریڈیشن کا کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ملاقات میں کراچی کینٹ اور جمعہ گوٹھ کے درمیان ریلوے ٹریکس کے ساتھ گرین بیلٹس اور قطاروں میں شجرکاری کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ ریلوے کوریڈور کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے متعلقہ صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ شجرکاری کے اس منصوبے پر پاکستان ریلوے کے ساتھ رابطہ رکھا جائے اور مجوزہ گرین بیلٹس کی مناسب دیکھ بھال یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ نے ریلوے سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی وزارت ریلوے کے ساتھ تعاون کے جذبے کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد ریلوے خدمات کو بہتر بنانا، پھاٹکوں کو زیادہ محفوظ بنانا، ریلوے کی اراضی کا تحفظ کرنا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ریلوے انفرااسٹرکچر سے متعلق ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے سندھ کے ساتھ تعاون اور زیر التوا معاملات حل کرنے کے لیے وزارت ریلوے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم صوبے کو اس کے ترقیاتی منصوبوں میں سہولت فراہم کریں گے، ریلوے خدمات کو بہتر بنائیں گے اور پاکستان ریلوے کے پاس زیر التوا معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔دونوں فریقوں نے سندھ بھر میں ریلوے رابطوں کو بہتر بنانے، مسافروں کی سہولیات میں اضافہ، حفاظتی انتظامات مضبوط کرنے، ریلوے کی اراضی کے تحفظ اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔






