وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں کاشتکاروں کی معاونت، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر کرنے، توانائی کے شعبے میں ضابطہ کاری، سیکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، صنعتی سرمایہ کاری کی بحالی اور ادارہ جاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کابینہ کے فیصلوں بالخصوص گندم کی دستیابی، کاشتکاروں کی معاونت، پینے کے پانی کی فراہمی، سیکیورٹی میں رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق فیصلوں پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کاشتکاروں کے تحفظ، ضروری اشیا مناسب قیمتوں پر دستیاب بنانے، سرکاری اداروں کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری و معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
*گندم کا ذخیرہ اور آٹے کی فراہمی*
کابینہ نے گندم کے ذخیرے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور بتایا گیا کہ سندھ میں گندم کی مجموعی دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ہے، جس میں 2026 کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن اور گزشتہ ذخیرے سے منتقل ہونے والی گندم ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن شامل ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف انتظامی کارروائیوں سے گندم کے ذخائر کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ جولائی میں چھپائے گئے یا غیر ظاہر شدہ گندم کے ذخائر کا تخمینہ 11 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن تھا، جو اگست کے وسط تک کم ہوکر تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن رہ گیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم ضبط کی گئی۔ معائنہ ٹیموں نے 800 سے زائد مقامات کا دورہ کیا، جبکہ غیر ظاہر شدہ یا ذخیرہ کی گئی گندم کی مجموعی ضبطگی 2 لاکھ 57 ہزار 738 ٹن رپورٹ ہوئی۔کابینہ نے سندھ کے مختلف مقامات پر دستیاب پاسکو کی 2 لاکھ 23 ہزار 455 ٹن گندم 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے خریدنے کی منظوری دی۔کابینہ نے آٹے کی دستیابی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا اور فعال فلور ملز کے لیے گندم ذخیرہ رکھنے کی حد ایک ماہ کی گرائنڈنگ صلاحیت سے بڑھا کر تین ماہ کی گرائنڈنگ صلاحیت کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے محکمہ خزانہ کی رضامندی اور سخت نگرانی کے طریقہ کار سے مشروط، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کی فلور ملز سے ضبط کی گئی 56 ہزار 729 ٹن گندم مقامی استعمال کے لیے آٹا تیار کرنے میں استعمال کرنے کی بھی منظوری دی۔ ملز کو آٹے کی ایکس مل قیمت 112 روپے فی کلوگرام برقرار رکھنا ہوگی اور مقررہ گرائنڈنگ و سپلائی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت نگرانی برقرار رکھنے، گندم کے ذخائر کی شفاف نگرانی یقینی بنانے اور گندم کی غیر قانونی منتقلی و ذخیرہ کرنے کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔
*ڈی اے پی سبسڈی اور گندم کے کاشتکاروں کی معاونت*
کابینہ نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے کے باعث ربیع 2026-27 کے سیزن کے لیے ڈی اے پی کھاد کی متوقع قیمت میں اضافے کا جائزہ لیا۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد کابینہ نے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے گندم کے کاشتکاروں کے لیے سبسڈی پیکیج کی منظوری دی، جس کے ساتھ نئے کاشتکاروں کی رجسٹریشن، محکمہ مال کے ذریعے تصدیق اور موجودہ رجسٹریشن کی دوبارہ توثیق بھی شامل ہے۔ رجسٹریشن اور تصدیق کے لیے درکار فنڈز کی بھی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت عالمی منڈی کے دباؤ کا غیر ضروری بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں پر نہیں پڑنے دے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے کاشتکاروں کو عالمی منڈی کے جھٹکوں کا بوجھ برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ سندھ حکومت غذائی تحفظ کے تحفظ اور زرعی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کی معاونت جاری رکھے گی۔‘‘وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر خوراک محمد بخش خان مہر، وزیر آبپاشی جام خان شورو، معاون خصوصی راج ویر سنگھ اور وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ پر مشتمل کمیٹی قائم کی، جو ڈی اے پی سبسڈی اور گندم کی امدادی قیمت کی سفارش کرے گی اور آئندہ خریداری کے مرحلے کے لیے طریقہ کار وضع کرے گی۔کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ خریداری کی قیمت کے لیے معیار حتمی شکل دے کر دو ہفتوں کے اندر اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے۔
*سیپرا کا ضابطہ جاتی فریم ورک*
کابینہ نے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے چیئرمین اور اراکین کے لیے شرائط و ضوابط کی منظوری دی، جن کے تحت چار سالہ مدت ملازمت ہوگی اور ایک مزید مدت کے لیے دوبارہ تقرری کی اہلیت ہوگی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سیپرا نے اپنے قیام کے بعد سے ضابطہ جاتی فریم ورک، ادارہ جاتی استعداد، اسٹیک ہولڈرز سے رابطے اور ڈیجیٹل نظام کی تیاری میں پیش رفت کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کے توانائی کے شعبے کے لیے مؤثر اور آزاد ضابطہ جاتی فریم ورک ضروری ہے اور سیپرا کو ہدایت کی کہ بجلی کی مؤثر اور قابل اعتماد خدمات یقینی بناتے ہوئے سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیپرا کے چیئرمین اور اراکین کو فراہم کی جانے والی سرکاری گاڑیاں الیکٹرک گاڑیاں ہوں، جو حکومت کے صاف توانائی اور ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔
*سرکاری ملازمین کے لیے پالیسی*
کابینہ نے ایسی پالیسی کی منظوری دی جس کے تحت اوپن مقابلے کے ذریعے خصوصی پے اسکیل کی آسامیوں کے لیے منتخب ہونے والے سرکاری ملازمین سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیے، قبل از وقت ریٹائرمنٹ لیے یا غیر معمولی رخصت پر گئے بغیر ان عہدوں پر خدمات انجام دے سکیں گے۔یہ پالیسی سندھ کے نظام کو وفاقی حکومت کی پالیسی سے ہم آہنگ کرتی ہے اور افسران کی ملازمت کے تسلسل اور پنشن سے متعلق حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس فیصلے سے اہم سرکاری عہدوں پر تجربہ کار ماہرین کو راغب کرنے میں مدد ملے گی جبکہ ادارہ جاتی مہارت اور ملازمت کا تسلسل بھی برقرار رہے گا۔
*پی آئی ایف ٹی اے سی ہیڈکوارٹرز اور ڈیٹا سینٹر*
کابینہ نے صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (پی آئی ایف ٹی اے سی) کے ہیڈکوارٹرز کے قیام کی منظوری دی، جس میں جدید ترین ڈیٹا سینٹر، نرو سینٹر، اے آئی ہب اور اپ گریڈ کیے گئے فیلڈ کوآرڈی نیشن رومز شامل ہوں گے۔منصوبے کی مالی ضروریات میں 44 کروڑ 19 لاکھ روپے کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اضافی رقم منظور کی گئی۔ کابینہ نے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو حکومت سے حکومت کی بنیاد پر شامل کرنے کے لیے خریداری کے قواعد سے استثنیٰ کی بھی منظوری دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مضبوط پی آئی ایف ٹی اے سی سندھ بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس رابطہ کاری، خطرات کے تجزیے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو سہولت کی بروقت تکمیل اور قانون نافذ کرنے والے و انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
*اسٹار واش پروگرام*
کابینہ نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں اسٹار واش پروگرام پر عملدرآمد کے لیے ضلعی کونسلز اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) کے درمیان سروس لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) کے مسودے کی منظوری دی۔معاہدے کے تحت ایس پی ایچ ایف چھ سال تک واش کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کرے گا۔ پہلے مرحلے میں خیرپور، جامشورو، بدین اور نوشہرو فیروز شامل ہوں گے، جس سے ایک اندازے کے مطابق 12 لاکھ سے 15 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔کابینہ نے متعلقہ ضلعی کونسلز کی قراردادوں کی منظوری کے بعد ایس پی ایچ ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو شریک ضلعی کونسلز کے ساتھ ایس ایل اے پر دستخط کرنے کا اختیار دے دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ واش سے متعلق اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے جائیں اور پروگرام پسماندہ دیہی آبادیوں میں صاف پینے کے پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولیات تک پائیدار رسائی یقینی بنائے۔
*ننگرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ پانی فراہمی کا نظام*
کابینہ نے مقامی کونسل کی رضامندی سے 193 کلومیٹر طویل ننگرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ، ننگرپارکر اور چیلہار پانی فراہمی کے نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای ڈی) کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔یہ فیصلہ متعلقہ مقامی کونسلز کی اس بڑے پانی کی ترسیلی نیٹ ورک کو چلانے اور برقرار رکھنے کے لیے محدود تکنیکی اور مالی استعداد کے پیش نظر کیا گیا۔کابینہ نے اصولی طور پر آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کرنے اور نظام کی مکمل فعال صلاحیت بحال کرنے کے لیے ضروری بحالی و مرمت کے فنڈز فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے پی ایچ ای ڈی کو پائپ لائن، ذخائر اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لینے اور مٹھی، چیلہار، اسلام کوٹ، ننگرپارکر اور ملحقہ دیہات کو منصفانہ اور بلاتعطل پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے وزیر بلدیات ناصر شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی، جو ننگرکوٹ، مٹھی، اسلام کوٹ اور چیلہار سمیت علاقے کی پانی کی ضروریات کا جائزہ لے گی تاکہ اس کے مطابق پانی کا انتظام کیا جاسکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو کابینہ کے فیصلوں پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی، بالخصوص غذائی تحفظ، کاشتکاروں کی معاونت، پانی کی فراہمی، سیکیورٹی رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ سندھ حکومت کاشتکاروں اور دیہی آبادیوں کی فلاح و بہبود، بنیادی عوامی خدمات کو مضبوط بنانے، سرکاری اداروں کو جدید بنانے اور سرمایہ کاری و روزگار کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کو ترجیح دیتی رہے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ کابینہ کی منظوریوں کے نتیجے میں زمینی سطح پر نمایاں بہتری نظر آنی چاہیے اور متعلقہ وزرا و سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ عملدرآمد کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور ضرورت پڑنے پر پیش رفت رپورٹس پیش کریں۔






