وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی سالانہ عشائیہ 2026 سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے صنعتوں کی معاونت، صنعتی زونز میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، برآمدات کے فروغ اور کاروبار دوست ماحول کے قیام کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر، صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر سید محمد طلحہ علی، نومنتخب صدر شیخ عمر ریحان، سینئر نائب صدر سید فرخ علی قندھاری، نائب صدر ناصر شیخ، ممتاز صنعت کاروں، کاروباری رہنماؤں، سابق عہدیداران اور صنعتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کاٹی کی قیادت اور کراچی کی صنعتی برادری کا ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور ایسوسی ایشن کو ’’کراچی کی صنعتی آواز‘‘ اور پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم شراکت دار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ محض عشائیے کی دعوت نہیں بلکہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان دیرینہ تعلق کی عکاسی ہے۔ میں خود کو سندھ کی معاشی ترقی میں آپ کا شراکت دار اور اتحادی سمجھتا ہوں۔مراد علی شاہ نے معروف مرحوم کاروباری رہنما ایس ایم منیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک دوراندیش صنعت کار اور کاروباری برادری کی مؤثر آواز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم منیر نے نہ صرف ہر فورم پر صنعت کو درپیش مسائل اجاگر کیے بلکہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے ایس ایم تنویر اور زبیر چھایا کو بھی کاروباری قیادت کی وراثت کو آگے بڑھانے اور حکومت و صنعت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر سراہا۔
*کراچی: پاکستان کا معاشی انجن*
قومی معیشت میں کراچی کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے جہاں صنعتیں، بندرگاہیں، تجارت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی صنعتیں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ ایک فیکٹری محض ایک عمارت نہیں ہوتی بلکہ یہ سینکڑوں خاندانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ہر صنعت کے گرد سپلائرز، ٹرانسپورٹرز، مزدور، بینک اور بے شمار چھوٹے کاروبار وابستہ ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مضبوط معیشت کے لیے مضبوط صنعتی شعبہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی مضبوط ہوگا تو سندھ مضبوط ہوگا، اور اگر سندھ مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور بہتری کے لیے 9 ارب 28 کروڑ اور 20 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاٹی کی مختص رقوم سے شروع کی جانے والی ترقیاتی اسکیمیں کورنگی صنعتی علاقے میں پہلے ہی جاری ہیں، جن کا مقصد سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر ضروری سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے صرف زمین کافی نہیں۔ اس کے لیے سڑکیں، پانی، نکاسی آب کے نظام، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ کی سہولیات، امن و امان، پالیسیوں کا تسلسل اور حکومتی معاونت درکار ہوتی ہے۔ یہ سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔مراد علی شاہ نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آنے والے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اعلانات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، ہم عملی نتائج دینے پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
*حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری*
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی صرف حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ سرمایہ کاری کرتے ہیں، ہم بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔ آپ روزگار پیدا کرتے ہیں، ہم کاروبار کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ آپ برآمدات بڑھاتے ہیں، ہم کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی اسی شراکت داری پر منحصر ہے۔‘‘انہوں نے کاروباری رہنماؤں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے تحفظات سنتی رہے گی اور بات چیت و مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔
*ٹیکنالوجی اور جدت کو اپنانا*
مستقبل کے معاشی مواقع پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی، جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی معیشت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، روبوٹکس، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹس، فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے درکار مہارتوں سے لیس کرنا ہوگا۔انہوں نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ پروگراموں کو وسعت دینے پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان صرف ملازمت تلاش کرنے والے نہ ہوں بلکہ انہیں ملازمتیں پیدا کرنے والا بننا چاہیے۔
*برآمدات اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ*
وزیراعلیٰ نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ خام مال کی برآمدات سے آگے بڑھیں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں برانڈنگ بہتر بنانے، نئی منڈیوں میں داخل ہونے اور ایسی مصنوعات تیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی معیار پر پوری اتریں۔ پاکستان کا معاشی مستقبل برآمدات اور مسابقتی صلاحیت میں اضافے پر منحصر ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صنعت ترقی کرے، روزگار بڑھے اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، لیکن ماحولیاتی پائیداری ہماری ترجیح رہنی چاہیے۔انہوں نے کاروباری اعتماد کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ صنعت اعتماد کی فضا میں ترقی کرتی ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں کاروبار ترقی کرتا ہے، اور جہاں امن ہو وہاں صنعت پھلتی پھولتی ہے۔ سندھ حکومت کراچی میں کاروبار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔وزیراعلیٰ نے کاٹی کی قیادت کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے پر شیخ عمر ریحان، سید فرخ علی قندھاری اور ناصر شیخ کو مبارکباد دی۔انہوں نے سبکدوش ہونے والے صدر محمد اکرام راجپوت، سینئر نائب صدر زاہد حمید اور نائب صدر سید محمد طلحہ علی کی ایسوسی ایشن کے لیے خدمات اور اپنے دور میں صنعت کاروں کے مسائل اجاگر کرنے پر بھی انہیں سراہا۔اپنے خطاب کے اختتام پر مراد علی شاہ نے صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ راچی نے پاکستان کو صنعت، تجارت، روزگار، برآمدات اور ایک مضبوط معاشی شناخت دی ہے۔ سندھ حکومت صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کہا، ’’نجی شعبہ سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے پاکستان کی معاشی ترقی میں معاونت کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مسابقتی کاروباری ماحول ناگزیر ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے، جدت کی حوصلہ افزائی اور آنے والی نسلوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعت اور حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اجتماعی کوششیں کراچی کو ملک کے معاشی مرکز کی حیثیت برقرار رکھنے میں مدد دیں گی۔کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ کاٹی ہمیشہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ہم سندھ حکومت کی جانب سے صنعت کے ساتھ مسلسل رابطے کو سراہتے ہیں اور معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تعمیری مکالمے اور شراکت داری کے ذریعے ہم صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹ سکتے اور صنعت و برآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔کاٹی کے ڈپٹی سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا نے کہا کہ کراچی کی صنعتی برادری نے متعدد چیلنجز کے باوجود قومی معاشی ترقی میں مسلسل کردار ادا کیا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کے صنعتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور کاروبار سے متعلق مسائل حل کرنے کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مضبوط عوامی و نجی شراکت داری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرے گی۔






