سکھر کو چین کے دریائے یانگسی کے کنارے واقع شہر یچانگ کے ساتھ سسٹر سٹی کا درجہ دینے کی تجویز

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر کے عوام کو صاف، محفوظ اور بلا تعطل پینے کا پانی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد شہر کو پیاسا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بروز اتوار وزیراعلیٰ ہاؤس میں سکھر واٹر سپلائی منصوبے اور اس کے مجوزہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سکھر کے عوام کو درپیش پانی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری اور پی پی پی یونٹ سید قاسم نوید، میئر سکھر ارسلان شیخ، پرنسپل سیکریٹری ٹو سی ایم آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جتن کمار نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1998ء سے 2023ء کے درمیان سکھر کی آبادی میں تقریباً 68 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر شہر کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید واٹر سپلائی سسٹم کی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبہ بندی آبادی میں اضافے، شہری پھیلاؤ اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے تاکہ ہر گھرانے کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی دستیاب ہو۔

سکھر کو سسٹر سٹی بنانے کا وژن

سکھر کی ترقی سے متعلق اپنے وسیع تر وژن کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر کو چین کے دریائے یانگسی کے کنارے واقع شہر یچانگ (Yichang) کے ساتھ سسٹر سٹی کا درجہ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ تعلق سے چینی شہر کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا اور سکھر کو ایک جدید اور منظم شہری مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے سکھر کی ایک منفرد شناخت ہے۔ جب ہم دریائے یانگسی کے کنارے آباد چینی شہر یچانگ کے ساتھ سسٹر سٹی کے تعلق کی جانب بڑھ رہے ہیں تو ہمیں سکھر کو اس انداز میں ترقی دینی ہوگی جو اس کی اپنی انفرادیت اور صلاحیتوں کی عکاسی کرے۔ سکھر بیراج کی بہتری اور شہر کی ترقی مل کر جدید شہری سہولیات، قدرتی حسن اور گردونواح کے دیہی ماحول کا ایک شاندار امتزاج پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ بلدیات، پی پی پی یونٹ اور سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (ایس ڈبلیو ایس سی) کو ہدایت کی کہ منصوبے کو عملی اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، جبکہ عوامی مفاد، صارفین کے حقوق کا تحفظ اور معیاری خدمات کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے۔

منصوبے میں روزانہ 40 سے 50 ملین گیلن پانی صاف کرنے کی گنجائش

وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت روزانہ 40 سے 50 ملین گیلن پانی صاف کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ گنجائش اور سرمایہ کاری کا تعین حقیقی ضروریات کے تخمینے، مستحکم تکنیکی منصوبہ بندی اور آپریشنل تیاریوں کی بنیاد پر کیا جائے۔ منصوبے میں موجودہ واٹر ٹریٹمنٹ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا بھی شامل ہے، جس میں بکھر آئی لینڈ، بندر روڈ، نمائش گاہ اور ایئرپورٹ روڈ پر قائم تنصیبات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ پانی کی پمپنگ اور تقسیم کے انتظامات کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ منصوبہ سکھر کی پانی کی حقیقی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے اور اس میں مرحلہ وار توسیع کی حکمت عملی شامل ہو تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ آپریشنل کارکردگی اور مالی استحکام بھی برقرار رکھا جا سکے۔پانی کی تقسیم کا نیٹ ورک وسیع کرنے کی ہدایت

اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ تقسیم کا نظام شہر کی تقریباً 60 سے 70 فیصد پانی کی طلب پوری کر رہا ہے، جبکہ 2 ارب 14 کروڑ روپے کی جاری اے ڈی پی اسکیم کے مکمل ہونے سے پانی کی فراہمی کا دائرہ 80 سے 90 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات، میئر سکھر اور سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو ہدایت کی کہ پانی صاف کرنے کی گنجائش اور اس کی تقسیم کے نیٹ ورک میں بہتری کے اقدامات بیک وقت آگے بڑھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پانی کی پیداوار بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جب تک صاف کیا گیا پانی شہر کے تمام علاقوں میں گھروں تک نہیں پہنچتا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو زیر التوا معاملات حل کرنے، منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقررہ مدت کی سختی سے پابندی کرنے اور ہر مرحلے پر شفافیت، جوابدہی اور معیار کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر بلدیات سید ناصر ھسین شاہ کی مربوط عمل درآمد کی یقین دہانی

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں سندھ حکومت پائیدار انفرااسٹرکچر، بہتر خدمات اور جدید انتظامی نظام کے ذریعے سکھر کے پانی کی فراہمی کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر شہر اور نیو سکھر کی مشترکہ شہری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ برسوں میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں توسیع اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ایک قابلِ اعتماد واٹر سپلائی نیٹ ورک قائم کرنا ضروری ہے، جسے پانی صاف کرنے کی مناسب گنجائش اور مؤثر تقسیمی نظام کی معاونت حاصل ہو۔ ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ محکمہ بلدیات، میئر سکھر اور سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے قریبی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گے۔صاف پانی کی فراہمی صحتِ عامہ کی اولین ترجیح

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی کا براہِ راست تعلق صحتِ عامہ، بچوں کی بہتر نشوونما اور مجموعی معیارِ زندگی سے ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے کو محض انفرااسٹرکچر کی ترقی کا منصوبہ سمجھنے کے بجائے عوامی خدمت کے ایک اہم اور ترجیحی منصوبے کے طور پر لیا جائے۔ اپنے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر کے عوام ایک قابلِ اعتماد اور جدید واٹر سپلائی سسٹم کے مستحق ہیں۔ انہوں نے محکمہ بلدیات، پی پی پی یونٹ، سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور تمام متعلقہ افسران کو مل کر کام کرنے، زیر التوا مسائل حل کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ منصوبے کے نتیجے میں شہریوں کی روزمرہ زندگی میں حقیقی اور نمایاں بہتری آئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دریائے سندھ کے کنارے رہنے کے باوجود سکھر کے عوام کو پینے کے پانی کے لیے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہر گھرانے تک صاف اور محفوظ پانی پہنچایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button