وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تھرپارکر کو قحط زدہ قرار دے دیا،پانی اور چارے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا حکم

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قحط کی موجودہ صورتحال اور فصلوں کے شدید نقصان کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تھرپارکر کو قحط زدہ ضلع قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کریں اور متاثرہ آبادی کے لیے پینے کے پانی اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔یہ ہدایات انہوں نے بروز ہفتہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تھرپارکر کی تمام سات تعلقوں میں قحط جیسی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش ملانی، اراکین صوبائی اسمبلی دوست محمد راہموں، قاسم سومرو، فقیر شیر محمد بلالانی ، ارباب لطف اللہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم آصف جمیل، کمشنر میرپورخاص شاہمیر بھٹو اور دیگر حکام نے شرکت کی۔بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ تھرپارکر کے ساتوں تعلقے خشک سالی جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں تقریباً 85 سے 90 فیصد کاشت شدہ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں یا پھر ناقابلِ پیداوار ہو گئی ہیں۔ محکمہ زرعی توسیعی نے فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 90 فیصد لگایا ہے، جبکہ اسسٹنٹ کمشنروں اور مختار کاروں کی جانب سے موصول رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ صرف 10 سے 15 فیصد فصلیں ہی بچ پائی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ناکافی اور غیر مساوی بارشوں کے زراعت، مویشیوں اور تھرپارکر کے عوام کے ذریعہ معاش پر پڑنے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے فوری مداخلت کی ضرورت ہے، خاص طور پر مویشیوں کے تحفظ کے لیے، جو اس ریگستانی علاقے کے لوگوں کی آمدنی اور ذریعہ معاش کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔سید مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ تمام غیر فعال ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹس کی ترجیحی بنیادوں پر مرمت اور بحالی کی جائے۔ انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ پانی کی فراہمی کے موجودہ ذرائع میں خرابیوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں مکمل طور پر فعال بنایا جائے، تاکہ مقامی آبادی کو پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ نوکوٹ سے مٹھی تک پانی کی فراہمی کی ایک مخصوص لائن بچھانے کے امکانات کا جائزہ لیں، تاکہ مٹھی کے عوام کو پینے کے پانی کی پائیدار اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ضروری تکنیکی اور انتظامی تقاضوں کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تاکہ علاقے میں پانی کی قلت کا طویل مدتی حل نکالا جا سکے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چارے کی قلت پر قابو پانے اور مویشیوں کو خشک سالی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ہنگامی انتظامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کوششوں میں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی اقدامات بغیر کسی تاخیر کے متاثرہ علاقوں تک پہنچ جائیں۔بریفنگ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ 2026 کے مون سون سیزن کے دوران بارش غیر مساوی طور پر ہوئی۔ اگرچہ ساتوں تعلقوں میں مجموعی موسمی بارش 181 سے 273 ملی میٹر کے درمیان رہی، تاہم ستمبر میں ہونے والی بارش خاص طور پر بہت کم رہی، جو محض 1 سے 36 ملی میٹر کے درمیان تھی۔ نتیجے کے طور پر، فصلیں اور قدرتی گھاس پختہ ہونے سے پہلے ہی سوکھ گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت اس مشکل وقت میں تھرپارکر کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ چوکس رہے، صورتحال پر کڑی نظر رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی متاثرہ آبادی بنیادی امداد سے محروم نہ رہے۔انہوں نے زور دیا کہ حکومت قحط کے اثرات کو کم کرنے، مویشیوں کے تحفظ، پانی کی سہولیات کی بحالی اور تھرپارکر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

جواب دیں

Back to top button