اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی قومی ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز ایوارڈز تقریب

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ، سیاسی و معاشی خودمختاری اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی نے تاریخی کردار ادا کیا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین کے ذریعے خواتین کو مساوی حقوق اور آئینی تحفظ فراہم کیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بن کر مسلم دنیا میں خواتین کی قیادت کی نئی تاریخ رقم کی، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے خواتین کے تحفظ، ہراسانی کے خاتمے اور معاشی حقوق کے حوالے سے اہم قانون سازی کے ذریعے اس جدوجہد کو آگے بڑھایا، آج بی بی آصفہ بھٹو زرداری بطور خاتونِ اول خواتین کی بااختیاری اور فلاح کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے تاریخی موہٹہ پیلس میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی قومی ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز (WEPs) ایوارڈز تقریب میں بطور مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کے لیے یو این ویمن پاکستان کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو باضابطہ دعوت نامہ ارسال کیا گیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے تقریب میں شرکت کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔ تقریب میں اراکین صوبائ اسمبلی سعدیہ جاوید،قاسم سراج سومرو،وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر علی راشد،ہالار وسان،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی،میئر سکھر ارسلان شیخ، یو این ویمن پاکستان کے کنٹری نمائندے جمشید ایم کاظی، محترمہ فہمیدہ اقبال خان، مختلف کاروباری اداروں کے سربراہان، اعلیٰ حکام، خواتین رہنماؤں، سفارتی نمائندوں اور دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ سید ناصر حسین شاہ نے اپنے خطاب میں محترمہ فریال تالپور کی خواتین کے حقوق اور بااختیاری کے لیے طویل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے سندھ کی خواتین کے مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشی و سماجی طور پر مستحکم بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ خواتین کو قومی ترقی، سیاسی عمل اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی دینے کی حمایت کی ہے، 1973 کے آئین سے لے کر 2008 تا 2013 کے دوران ہونے والی اہم قانون سازی تک خواتین کے تحفظ، وقار، حقوق اور معاشی خودمختاری کے لیے متعدد تاریخی اقدامات کیے گئے۔ وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات کے فروغ اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ صوبے نے گھریلو سطح پر کام کرنے والی خواتین اور زرعی شعبے سے وابستہ خواتین کارکنوں کو قانونی شناخت اور حقوق فراہم کرنے کے لیے ملک میں نمایاں اقدامات کیے۔ حکومت خواتین کے لیے محفوظ سفری سہولیات، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، کاروباری منڈیوں تک رسائی اور مالی وسائل کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے تاکہ خواتین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی معیشت میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی اہم ہے، تاہم صرف قوانین بنانے سے معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں، جب تک خواتین کو روزگار، کاروبار، قیادت اور فیصلہ سازی کے یکساں مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ نجی شعبے، کاروباری تنظیموں اور صنعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت پالیسی اور قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے، جبکہ نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو ملازمتیں فراہم کرے، انہیں ترقی کے مواقع دے، انتظامی اور فیصلہ ساز عہدوں پر آگے لائے اور ان کی محنت کا منصفانہ معاوضہ یقینی بنائے۔ سید ناصر حسین شاہ نے پاکستان میں خواتین کی معاشی شمولیت کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی صنفی فرق انڈیکس 2026 میں پاکستان کی 143ویں پوزیشن اور ملکی افرادی قوت میں خواتین کی صرف 22.7 فیصد شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس شعبے میں مزید سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کام کرنے، کاروبار چلانے اور اداروں کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، اصل ضرورت ایسے محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی ہے جہاں انہیں بلاامتیاز آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یو این ویمن اور اقوام متحدہ کے گلوبل کمپیکٹ کے تحت متعارف کرائے گئے ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز (WEPs) کاروباری اداروں میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ایک اہم عالمی فریم ورک ہیں، جو کام کی جگہ، کاروباری منڈیوں اور معاشرتی سطح پر خواتین کی شمولیت اور بااختیاری کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ قومی سطح پر WEPs ایوارڈز کا انعقاد کراچی میں ہونا سندھ کے معاشی، صنعتی اور کاروباری کردار کے ساتھ خواتین کے حقوق کے حوالے سے صوبے کی پیش قدمی کا اعتراف ہے۔ تقریب کے دوران ان پاکستانی کمپنیوں اور کاروباری شخصیات کی خدمات کو سراہا گیا جنہوں نے خواتین کی معاشی خودمختاری، ادارہ جاتی قیادت، صنفی مساوات، محفوظ اور خواتین دوست ماحول، کاروباری مواقع اور سماجی ترقی کے لیے نمایاں اقدامات کیے۔ ایوارڈز مختلف شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر دیے گئے، جن میں اداروں کی قیادت میں خواتین کی نمائندگی، کام کی جگہوں پر مساوی مواقع، خواتین کے لیے محفوظ ماحول، خریداری اور سپلائی چین میں خواتین کی شمولیت اور کمیونٹی کی سطح پر خواتین کی ترقی کے لیے اقدامات شامل تھے۔ وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ خواتین کی قیادت اور صلاحیتوں کو تسلیم کرنے والے ادارے نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان میں جدت، کارکردگی اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔ خواتین کی ملکیت والے کاروباروں کو بڑی کمپنیوں کی سپلائی چین کا حصہ بنانا معاشی خودمختاری کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اسی طرح خاندان دوست پالیسیوں، محفوظ دفتری ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی کے مساوی مواقع کے ذریعے خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو نمایاں طور پر بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر فخر کا اظہار کیا کہ پہلی قومی WEPs ایوارڈز تقریب میں اعزازات حاصل کرنے والے اداروں کی اکثریت سندھ میں کام کررہی ہے، جو صوبے میں خواتین کی معاشی شمولیت اور صنفی مساوات کے لیے جاری کوششوں کی حوصلہ افزا عکاسی ہے۔ انہوں نے یو این ویمن پاکستان کو پاکستان کی پہلی قومی WEPs ایوارڈز تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ اور یو این ویمن کے درمیان خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے طویل شراکت داری قابل تحسین ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ملکی معیشت کی مضبوطی، پائیدار ترقی اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ جب خواتین کو تعلیم، ہنر، روزگار، مالی وسائل اور کاروباری مواقع تک مساوی رسائی حاصل ہوگی تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پوری قومی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے تمام ایوارڈ یافتگان، کاروباری اداروں اور خواتین رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سندھ خواتین کے حقوق کے تحفظ، معاشی خودمختاری اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

جواب دیں

Back to top button