وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی معیشت، زراعت، شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور عوام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سرکاری کوششوں کے ساتھ نجی شعبے کی سرمایہ کاری،جدیدٹیکنالوجی اور قابلِ عمل منصوبوں کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صاف توانائی، پانی کے بہتر انتظام، فضلے کی تلفی، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،
جنہیں مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے سرسبز اور موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے والی معیشت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلائمنٹ فنانس ایکسلریٹر کے انویسٹر روڈ شو 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم احمد شاہ اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، تاہم یہ ایسا چیلنج ہے جس کا مقابلہ حکومت اکیلے نہیں کر سکتی، کیونکہ سرکاری وسائل بھی محدود ہیں۔ نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی، دانشمندی اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور اس کے اثرات کھیتوں، شہروں، بنیادی ڈھانچے اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ملک کو سرسبز اور مستحکم معیشت کی جانب لے جانے کے لیے نئے آئیڈیاز، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔وزیر بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی کمپنیاں ملک کی موسمیاتی معیشت کی تعمیر میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ سندھ کو موسمیاتی خطرات کا سامنا ضرور ہے، تاہم صاف توانائی، پانی، فضلے کے انتظام، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کو حقیقی اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔






