*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے نونیڈو کے وفد کی ملاقات*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یونیڈو) کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل/منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ فاتو حیدرا نے جامع معاشی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل انفراسٹرکچر، دیہی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یونیڈو نے اپنے پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ (پی سی پی) 2025-2030 کے تحت سندھ کے لیے ایک مخصوص ترقیاتی پروگرام کی خاطر تقریباً 40 ملین ڈالر جمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔یہ اتفاقِ رائے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں دونوں فریقوں نے یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری غربت کے خاتمے اور دیہی سندھ میں جامع ترقی کے پروگرام (پائیدار) پر پیش رفت کا جائزہ لیا، کامیاب ترقیاتی اقدامات کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا اور پسماندہ طبقات کے ذرائع معاش بہتر بنانے اور پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے تعاون کے نئے شعبوں کا جائزہ لیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر محنت سعید غنی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری سماجی تحفظ خادم چنہ اور ایڈیشنل سیکریٹری سرمایہ کاری ظہور مری نے شرکت کی۔یونیڈو کے وفد میں ایشیا بحرالکاہل خطے کے سربراہ جی ژاؤ، یونیڈو کے قائم مقام انچارج بدرالاسلام اور پائیدار پروگرام کے قومی تکنیکی مشیر فاروق احمد صدیقی شامل تھے۔

وزیراعلیٰ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور حکومت سندھ کے ساتھ یونیڈو کی مسلسل شراکت داری کو سراہا، بالخصوص دیہی آبادیوں، کاروباری اداروں کی ترقی اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل انفراسٹرکچر کے لیے ادارے کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

*پائیدار پروگرام: دیہی ترقی میں سرمایہ کاری*

وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو نے اجلاس کو بتایا کہ یورپی یونین کی جانب سے 49.55 ملین یورو کی گرانٹ سے یونیڈو کے تحت پائیدار پروگرام ضلع ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور لاڑکانہ میں غربت کم کرنے، مقامی معیشتوں کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات بہتر کرنے اور خواتین و نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔اس پروگرام میں دیہی انفراسٹرکچر اور کمیونٹی سہولتوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے مالی گرانٹس، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل آبادیوں کی منصوبہ بندی کے ذریعے سیلاب متاثرہ آبادیوں کی بحالی میں پروگرام کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے نئے کاروبار شروع کرنے یا موجودہ کاروبار کو وسعت دینے کے خواہش مند دیہی کاروباری افراد کے لیے معاونت کو بھی تسلیم کیا۔وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی سید قاسم نوید نے ایسے مستفید افراد کی مثالیں پیش کیں جنہوں نے مالی معاونت کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کیا۔ ان میں بدین میں ریسٹورنٹ کھولنے والی ایک خاتون کاروباری شخصیت اور لاڑکانہ میں فلور مل سے منسلک پاستا بنانے کا یونٹ قائم کرنے والا ایک کاروباری شخص شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہدف کے مطابق مالی معاونت، کاروباری ترقی میں مدد اور منڈیوں تک رسائی دیہی سندھ میں روزگار پیدا کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

*موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل دیہات میں توسیع*

اجلاس کو بتایا گیا کہ پائیدار پروگرام کے پانچ اضلاع میں تقریباً 300 دیہات کے لیے کمیونٹی ریزیلینٹ سیٹلمنٹ ڈیولپمنٹ پلانز (سی آر ایس ڈی پیز) تیار کیے گئے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی، مضبوط انفراسٹرکچر اور کمیونٹی کی بہتر سہولتوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ٹھٹھہ میں ایس پی ایچ ایف کے تعاون سے لاکھو بھنبھرو میں ایک ماڈل گاؤں کی ترقی کے بعد یونیڈو مزید 100 دیہات تک اس طریقۂ کار کو وسعت دینے میں معاونت کر رہا ہے۔ماڈل گاؤں کے منصوبے میں کمیونٹی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر شامل ہے، جس میں پینے کا محفوظ پانی، صفائی ستھرائی، نکاسی آب، سڑکیں، توانائی کی بچت کرنے والی سہولتیں اور زندگی کے حالات بہتر بنانے اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں مزاحمت بڑھانے کے لیے دیگر اقدامات شامل ہیں۔یہ پروگرام دیہی ترقی کے مراکز (آر جی سیز) کی تیاری میں بھی معاونت کر رہا ہے، تاکہ عوامی خدمات تک رسائی بہتر ہو، مقامی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے اور کاروباری ترقی کے مواقع پیدا ہوں۔وزیراعلیٰ نے اس مربوط طریقۂ کار کو سراہا اور زور دیا کہ کمیونٹی کے لیے انفراسٹرکچر اور ذرائع معاش کے منصوبوں سے دیہی آبادی کو طویل مدتی فوائد حاصل ہونے چاہییں۔

*200 نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت دی جائے گی*

روزگار سے متعلق ایک اہم اقدام کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ پائیدار پروگرام پانچ ہدفی اضلاع کے 200 نوجوانوں کو معتبر تربیتی اداروں کے ذریعے ہنرمندی کی تربیت فراہم کرے گا۔مجوزہ نو سے 12 ماہ کے تربیتی پروگراموں میں ہوٹل اور مہمان نوازی، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی اور دیگر ایسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی جہاں روزگار اور کاروبار شروع کرنے کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملازمتیں حاصل کر سکیں، اپنے کاروبار قائم کر سکیں اور مقامی معاشی ترقی میں کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہنرمندی کی تربیت کو منڈی کی طلب اور سندھ میں سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے مواقع سے ہم آہنگ کیا جائے۔

*ترقیاتی منصوبہ بندی میں ڈیجیٹل تبدیلی*

اجلاس میں یونیڈو کی جانب سے سندھ ڈیولپمنٹ پورٹ فولیو مینجمنٹ سسٹم (ایس ڈی پی ایم ایس) کی تیاری کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ نظام محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کے پورے دورانیے کے اہم مراحل، بشمول منصوبہ بندی، جانچ، منظوری، دستاویزات، نگرانی، جائزے اور رپورٹنگ کو یکجا کرکے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے انتظام کو جدید بنانا ہے۔یہ نظام پی سی ون سے پی سی فائیو تک کی دستاویزات پر ڈیجیٹل کارروائی کی سہولت فراہم کرتا ہے اور ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد میں شفافیت، انتظامی کارکردگی، جوابدہی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ یہ نظام تقریباً ڈیڑھ ماہ سے فعال ہے اور سرکاری محکموں اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے یونٹس میں استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ کو مزید بتایا کہ دو اہم اجزا، یعنی موبائل ایپلی کیشن کی تیاری اور آزمائش، اور مصنوعی ذہانت کے ایک ٹول کو نظام میں ضم کرنے کا کام آخری مراحل میں ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس نظام کا دائرہ بڑھ کر 3,715 فعال ترقیاتی اسکیموں تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کے تقریباً 250 صارفین ہیں۔ اس کی صلاحیتوں میں ترقیاتی تجاویز پر ڈیجیٹل کارروائی، آن لائن نگرانی اور رپورٹنگ، فنڈز کی دوبارہ تخصیص کے مراحل اور محکمانہ و صوبائی ترقیاتی فورمز کی معاونت شامل ہیں۔

*یونیڈو کے کنٹری پارٹنرشپ پروگرام کے تحت تعاون کے نئے امکانات*

اجلاس میں ایک اہم موضوع یونیڈو کے پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ 2025-2030 کے تحت سندھ کے لیے مخصوص پروگرام کی تیاری تھا۔ محترمہ فاتو حیدرا نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ پاکستان نے یونیڈو کے ساتھ پی سی پی فریم ورک پر دستخط کیے ہیں اور ادارہ صوبے کی ترقیاتی ضروریات اور ترجیحات کی بنیاد پر سندھ کے لیے مخصوص پروگرام تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یونیڈو مجوزہ پروگرام کی معاونت کے لیے تقریباً 40 ملین ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اس اقدام کو آگے بڑھانے کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر متعلقہ وفاقی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کاری اور اسے ترجیحی ترقیاتی پروگرام کے طور پر توثیق دلانے کے لیے کوششیں کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

جواب دیں

Back to top button