میئر کراچی نے ضلع غربی میں جدید سہولیات سے آراستہ شہید کیپٹن کرنل شیر خان اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک کا افتتاح کردیا

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع غربی میں منگھوپیر ٹاؤن کے علاقے پختون آباد میں شہید کیپٹن کرنل شیر خان اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک کا افتتاح کردیا،اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، کے ایم سی سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان،ٹاؤن چیئرمین حاجی نواز بروہی، یوسی چیئرمین مفتی خالد، عابد ستی، ڈاکٹر عبدالعزیز، منتخب نمائندے،تنظیمی عہدیداران و کارکنان سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی،منگھوپیر کے علاقے پختون آباد میں شہید کیپٹن کرنل شیر خان اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ضلع غربی میں کھیلوں کے فروغ کیلئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے اور نوجوانوں کو معیاری اسپورٹس سہولیات فراہم کرنا بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر مجموعی لاگت 21 کروڑ 78 لاکھ روپے آئی ہے، میئر کراچی نے کہاکہ اسپورٹس گراؤنڈ 14,730 اسکوائر یارڈ رقبے پر مشتمل ہے جہاں فٹبال اور کرکٹ کیلئے علیحدہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں، منصوبے میں 8فٹ چوڑا جاگنگ ٹریک، شجرکاری، باؤنڈری وال اور مین گیٹ کی تعمیرِ نو اور پارکنگ کی سہولت بھی شامل ہے جبکہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کیلئے وسیع پارکنگ ایریا مختص کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ فیملی پارک تقریباً 2705 اسکوائر یارڈ رقبے پر قائم کیا گیا ہے جہاں جاگنگ ٹریک، گرین ایریاز، گزیبو، بیٹھنے کی بنچز اور بچوں کے کھیلنے کا ایریا بنایا گیا ہے جبکہ اسٹریٹ لائٹس اور پارک لائٹس کی تنصیب بھی منصوبے میں شامل ہے، اسپورٹس کمپلیکس میں 300 سے 350 افراد کی گنجائش پر مشتمل پویلین تعمیر کیا گیا ہے جبکہ انڈور اسپورٹس ہال اور ڈیجیٹل لائبریری کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کام نہ ہونے کا تاثر درست نہیں، شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی مزید ترقی کرے گا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس مقام پر کچرا، تجاوزات اور کیچڑ تھا، نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی مناسب سہولیات موجود نہیں تھیں، تاہم آج یہاں جدید اسپورٹس گراؤنڈ اور فیملی پارک تعمیر کرکے علاقے کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ جب میں نے ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ کیا تھا تو اسی وقت گراؤنڈ کو بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا، آج اس منصوبے کی تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو وعدہ کرتی ہے اسے پورا بھی کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اب منگھوپیر اور پختون آباد کے بچوں کو بھی کھیلوں اور تفریح کی وہی معیاری سہولیات میسر ہوں گی جو کلفٹن، ڈیفنس اور طارق روڈ جیسے علاقوں کے بچوں کو حاصل ہیں، یہ بلدیاتی نظام کی کامیابی ہے کہ شہر کے نظرانداز علاقوں میں بھی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ منگھوپیر کو ضلع وسطی سے ملانے والی سڑک کی تعمیر و بہتری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جو نیو کراچی، نارتھ کراچی اور خواجہ اجمیر نگری سمیت مختلف علاقوں سے رابطے کو بہتر بناتی ہے، انہوں نے پانی کی فراہمی کے حوالے سے بتایا کہ حب پمپنگ اسٹیشن کے لیے جاپان سے درآمد کیے جانے والے پمپس آئندہ دو سے ڈھائی ماہ میں کراچی پہنچنے کی توقع ہے جس سے منگھوپیر، نیو کراچی اور بلدیہ سمیت متعلقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ حب ریزروائر کی صفائی بھی کی گئی ہے جس کے بعد پانی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ چکور نالہ ایکسپریس وے کی تعمیر کا مقصد گلستانِ جوہر، پہلوان گوٹھ، منور چورنگی، کانٹی نینٹل بیکری، پرفیوم چوک اور ڈالمیا سمیت مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کے مسائل حل کرنا ہے، کراچی کے شہریوں کو درپیش سفری مشکلات کے خاتمے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس منصوبے کی تجویز دی اور تقریباً 80 کروڑ روپے کی لاگت سے اس پر کام شروع کیا گیا، منصوبے پر گزشتہ چھ ماہ سے کام جاری ہے اور تکمیل کے بعد شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئے گی،میئر کراچی نے کہا کہ چکور نالہ ایکسپریس وے کا منصوبہ بھی اسی مقصد کے تحت شروع کیا گیا تاکہ شہریوں کو طویل ٹریفک جام سے نجات دلائی جاسکے، انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کی طرز پر چکور نالہ کے ساتھ متبادل راستہ فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا، منصوبے پر کام کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے، اس لیے وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ کراچی کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے باہمی رابطے اور مشاورت سے مسائل حل کیے جائیں، انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کو تقریباً 60 فیصد محصولات فراہم کرتا ہے، اس لیے یہ شہر وفاقی حکومت کی خصوصی توجہ اور تعاون کا مستحق ہے، اگر کسی وفاقی ادارے کو کسی منصوبے پر اعتراض ہو تو اسے کام شروع ہونے سے پہلے متعلقہ حکام، میئر اور ڈپٹی میئر سے رابطہ کرکے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تھا،انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت اور وفاقی اداروں کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح صوبائی حکومت، اپنے اداروں اور شہریوں کا احترام بھی ان کے لیے اہم ہے، تمام اداروں کو باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ عوامی فلاح کے منصوبے بلاتعطل مکمل ہوسکیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری رہیں اور شہریوں کو درپیش مسائل کا عملی حل نکالا جائے، میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ منگھوپیر روڈ کی تعمیر کا وعدہ تقریباً 2014 میں کیا گیا تھا لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود یہ سڑک مکمل نہیں ہوسکی، متعلقہ وفاقی اداروں کے نام تبدیل ہوتے رہے، تاہم شہریوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا، وفاقی ادارے PIDCL منگھوپیر روڈ کی تعمیر جلد مکمل کریں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوسکے،میئر کراچی نے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے بتایا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن مین ہولز میں حفاظتی جالی نصب کرنے کے ایک نئے نظام پر کام کررہا ہے تاکہ کسی شخص کے مین ہول میں گرنے کی صورت میں اسے تحفظ فراہم کیا جاسکے اور حادثات کے خطرات کم ہوں، انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و سلامتی کا تحفظ متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں مؤثر اقدامات ضروری ہیں،پانی کی فراہمی کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے لیے حب کینال سے پانی کی موجودہ مختص مقدار میں اضافے کی ضرورت ہے، کراچی کو اس کے جائز حصے کے مطابق پانی فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کی استعداد بڑھانے کے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ کراچی کے شہریوں کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکے، اس منصوبے کے تحت جہاں سڑکوں کی کھدائی ہوگی، وہاں کام مکمل ہونے کے بعد سڑکوں کی بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن، گرین لائن اور یلو لائن جیسے منصوبوں کے دوران سڑکوں اور شہری آمدورفت پر پڑنے والے اثرات سے سبق سیکھتے ہوئے نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ ترقیاتی کاموں کے دوران عوام کو درپیش مشکلات کم سے کم رکھنے کے لیے مربوط انداز میں کام کریں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کا پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب تمام ادارے اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر شہر اور شہریوں کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جو لوگ اپنے دور میں 300 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس کے ثبوت اور تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کریں، انہوں نے کہا کہ وہ کاغذی باتوں کے بجائے دستاویزی ثبوت اور بجٹ کی بنیاد پر بات کرتے ہیں لیکن متعلقہ رہنما سے بار بار سوال کرنے کے باوجود تقریباً تین ماہ گزرنے پر بھی جواب نہیں دیا گیا،میئر کراچی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کو سوالات کرنے پر ڈرانے دھمکانے کا دور گزر چکا ہے، اگر ان سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اسی طرح دوسرے رہنماؤں کو بھی اپنے دور کی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں عوام کو جواب دینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ بعض رہنما شہر کی تاریخ سے لے کر ملک کی آزادی تک کا کریڈٹ بھی اپنے نام کرتے دکھائی دیتے ہیں لہٰذا انہیں اپنے دعوؤں کے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔

جواب دیں

Back to top button