میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر نے کہا ہے کہ کراچی کی بلدیاتی تاریخ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور شہر کا بلدیاتی نظام وقت کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا موجودہ شکل میں سامنے آیا ہے، کراچی کی تاریخی حیثیت، شہری آبادی میں اضافے اور بلدیاتی اداروں کے ارتقا کا مطالعہ شہر کی انتظامی تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے،یہ بات انہوں نے بدھ کے روز بلدیاتی امور سے متعلق تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی کے لیے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی کا دورہ کرنے والے پنجاب لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ کے تھرڈ مینڈیٹری پروموشن ٹریننگ (MPT) پروگرام میں شریک اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے وفد سے ملاقات کے موقع پر کہی، اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ٹو میئر اخلاق احمد یوسف زئی، مشیر مالیات گلزار ابڑو،پنجاب لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ کے ڈائریکٹر سید سالک عظمت اور دیگر بھی موجود تھے، دورے کا مقصد شرکاء کو بلدیاتی نظام، شہری انتظام، مقامی حکومت کے امور اور میونسپل اداروں کے انتظامی طریقہ کار سے متعلق عملی آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ افسران اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں تجربات سے استفادہ کر سکیں،اس دورے کے ذریعے پنجاب اور کراچی کے بلدیاتی اداروں کے درمیان تجربات کے تبادلے اور مقامی حکومت کے نظام کو سمجھنے کے مواقع فراہم کیے گئے،
میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر نے کہا کہ کراچی پاکستان کا ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جس کی شناخت مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے رہی ہے، تاریخی حوالوں میں اس خطے کے لیے کروکولا، رامیا، دیبل اور کولاچی جیسے ناموں کا ذکر ملتا ہے، ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی سے ترقی کرتے ہوئے کراچی ایک اہم تجارتی بندرگاہ اور خطے کے نمایاں شہری مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا، برطانوی دور میں شہر کی بندرگاہ، تجارت اور بنیادی شہری ڈھانچے کو وسعت ملی جس کے نتیجے میں کراچی کی معاشی اور انتظامی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا، قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو ملک کا پہلا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا جس سے اس کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت مزید بڑھ گئی،انہوں نے کہا کہ کراچی کی بلدیاتی تاریخ بھی شہر کی ترقی اور انتظامی ارتقا کی عکاس ہے، تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1846ء میں ہیضے کی وبا سے نمٹنے اور صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے کنزروینسی بورڈ قائم کیا گیا، جسے 1852ء میں میونسپل کمیشن اور 1853ء میں میونسپل کمیٹی کی شکل دی گئی، 1933ء میں کراچی کی میونسپل کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ ملا جبکہ 1976ء میں اسے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نام دیا گیا، وقت کے ساتھ کراچی کی آبادی، رقبے اور شہری ضروریات میں اضافہ ہوتا رہا اور بلدیاتی اداروں کی ذمہ داریاں بھی وسیع ہوتی گئیں، آج کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، جہاں شہری سہولتوں کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تاریخی ورثے کا تحفظ بلدیاتی نظام کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں، میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر نے کہا کہ شہر کی بلدیاتی تاریخ اور انتظامی ارتقا کو اجاگر کرنے کا مقصد کراچی کے شہریوں کو اس کے بلدیاتی اداروں کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ نئی نسل شہر کی ترقی، انتظامی تبدیلیوں اور شہری خدمات کے لیے قائم ہونے والے اداروں کے پس منظر سے واقف ہوسکے،اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر نے پنجاب لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ کے مطالعاتی دورہ پر آئے ہوئے وفد کے سربراہ کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی دی۔






