میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ صنعتی علاقے اور کاروباری سرگرمیاں پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، شہر کے صنعتی زونز کی بحالی کا آغاز کر دیا گیا ہے، کورنگی انڈسٹریل ایریا کراچی کی صنعتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے اور یہاں انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے جلد نمایاں تبدیلی نظر آئے گی، صنعتی علاقوں میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،کراچی سندھ حکومت اور شہری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، سینیٹر تاج حیدر برج اور عثمان غنی برج بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے کورنگی کے عوام کو دیئے ہیں،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے کہ ملیر، کورنگی، لانڈھی سمیت کراچی میں بسنے والے عوام کے مسائل سنے جائیں اور شہریوں کے مطالبات پورے کیے جائیں، اسی وژن کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جا رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کورنگی انڈسٹریل ایریا میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI) کے زیر اہتمام انفراسٹرکچر کی بحالی کے کاموں کا سنگِ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد ریحان، زبیر چھایا، زاہد سعید اور دیگر معروف صنعت کار بھی موجود تھے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 68 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں 149 نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی، ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے اور شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت نجی شعبے کے اشتراک سے بھی اقدامات کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دینا اور شہر کے مسائل حل کرنا ہے،میئر کراچی نے کہا کہ شہر کی ترقی کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا،عوام کے مسائل سننا،
ان کی شکایات کا ازالہ کرنا اور مختلف طبقات کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،انہوں نے کہا کہ سڑکیں اور پل تعمیر کرنے کے ساتھ انسانی روابط کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے،میئر کراچی نے بتایا کہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ بعض منصوبوں کے ٹینڈرز آئندہ تین سے چار روز میں مکمل ہونے کی توقع ہے، ان منصوبوں پر نومبر کے پہلے ہفتے میں کام شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور بعض سڑکوں کی تعمیر تین سے چار ماہ میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی ہے،انہوں نے کہا کہ جام صادق پل کو توسیع دے کر آٹھ لین کا بنایا گیا جبکہ کورنگی کازوے پل کی تعمیر سے صنعت کاروں، مزدوروں، طلبہ اور دیگر شہریوں کو آمدورفت میں سہولت مل رہی ہے، اسی طرح بلوچ کالونی ایکسپریس وے کی بہتری اور مختلف اہم شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کے کام بھی کیے گئے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ شاہراہ بھٹو سے عائشہ مسجد تک لوپ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جسے آئندہ ڈھائی سے تین ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، اس منصوبے کی تکمیل سے سگنل فری راستے کی سہولت میسر آئے گی، انہوں نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے کو سپر ہائی وے سے ملانے والی لنک روڈ کا کام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ ایم نائن انٹرچینج کی تکمیل سے صنعتی علاقوں تک رسائی، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری آئے گی،انہوں نے کہا کہ قائدآباد کے قریب پل کو بھی آٹھ لین میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، تجاوزات سے متعلق رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں اور منصوبے پر کام تیز کرنے کے لیے فنڈز دستیاب ہیں، انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے ڈھائی ماہ میں پل کی توسیع سے شہریوں کو درپیش ٹریفک مسائل کم کرنے میں مدد ملے گی،میئر کراچی نے یلو لائن اور ریڈ لائن منصوبوں کے حوالے سے صنعت کاروں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وزراء اور اداروں کے ساتھ رابطے میں رہ کر کام کیا جائے گا تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سڑکوں کی کھدائی اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے مسائل پر قابو پایا جا سکے، انہوں نے شاہراہ بھٹو پر سیکورٹی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ سندھ سے رابطہ کرکے پولیس گشت، نگرانی اور کیمروں کی تنصیب کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور اوورٹیکنگ کے مسائل کے حل کے لیے ٹریفک پولیس سے بھی بات کی جائے گی، میئر کراچی نے کہا کہ کورنگی کے صنعتی علاقے میں زمین کے استعمال اور مہران ٹاؤن کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں، خصوصاً کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، انہوں نے واضح کیا کہ زمین کے استعمال میں تبدیلی کے معاملات قواعد، ماسٹر پلان اور مقررہ چارجز کے مطابق طے کیے جائیں گے جبکہ حاصل ہونے والی رقم علاقے کے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کرنے کی کوشش کی جائے گی،فائر بریگیڈ کے نظام سے متعلق میئر کراچی نے کہا کہ فائر فائٹنگ کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ٹینڈرز کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت جدید فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور ڈرونز حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے،ان کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کے پیش نظر آگ بجھانے کے لیے بورویل کے پانی کے استعمال پر بھی کام کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ پہلے سے خراب اور بند فائر ٹینڈرز کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ تین ماہ میں مزید 20 فائر ٹینڈرز سڑکوں پر لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی مالی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے جس سے شہری سہولتوں اور ہنگامی خدمات کے نظام کو بہتر بنانے کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ شہر کے ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور مشاورت جاری رکھی جائے گی۔






