گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کا معائنہ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کا معائنہ کیا اور کوہاٹ روڈ پر ضلعی انتظامیہ پشاور اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیوں پر بریفنگ لی۔ گورنر نے تجاوزات کے خلاف بھرپور مہم شروع کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کو غیر قانونی تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے میں غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ تجاوزات ایک مرتبہ ختم کرنے کے بعد دوبارہ قائم ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے تجاوزات قائم کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنی تجاوزات ہٹا دیں، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ گورنر نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور اس سلسلے میں بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات قائم کرنے والا خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ وہ دن ختم ہوچکے ہیں جب لوگ سفارش اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر تجاوزات قائم کرتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں پر آنکھیں بند رکھی گئیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شہر میں صفائی مہم بھی شروع کی گئی ہے جبکہ ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ٹریفک قوانین کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جاسکے۔ گندم کے معاملے پر بات کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ اس حوالے سے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ تیار ہوجائے گی، جسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ان مسائل کے مستقل حل کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون سے پائیدار اقدامات کیے جائیں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت وفاق سے متعلق دیگر معاملات کو سیاسی رنگ دیا جاتا رہا، تاہم اب وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کے ذریعے ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک پیج پر ہیں اور دونوں کے درمیان اب کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ گورنر نے بجلی چوری کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کنڈا کلچر کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا

جواب دیں

Back to top button