دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے تحت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شنگھائی میں حال ہی میں منعقد ہونے والی دوسری سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس، جو 12 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوئی، سندھ میں چینی سرمایہ کاری، روزگار کی فراہمی اور صنعتی جدیدکاری کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔ شنگھائی کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 12 سال کے اس وقفے کو سندھ کے بنیادی ڈھانچے، پالیسی فریم ورک اور افرادی قوت کو بین الاقوامی سطح کی اعلیٰ قدر والی سرمایہ کاری کے لیے تیار کرنے میں مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ دورے کے ٹھوس نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت کے اداروں اور چینی کمپنیوں کے درمیان 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے ہیں، جبکہ دونوں جانب کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری اداروں کے درمیان بھی متعدد معاہدے طے پائے ہیں۔ٹیکنالوجی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ مزکور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے زور دیا کہ ان مفاہمتی یادداشتوں کی حیثیت محض علامتی نہیں، بلکہ ان کے پیچھے بھرپور پیشگی تیاری اور عملی کام موجود ہے، تاکہ انہیں تیزی سے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے جن اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں تھر کے کوئلے کا استعمال، الیکٹرک گاڑیوں(ای ویز) کی تیاری اور چارجنگ اسٹیشنز کا قیام، قابلِ تجدید توانائی خصوصاً ہوا اور شمسی توانائی، جدید زراعت اور ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔ مستقبل کی اقتصادی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، بڑے پیمانے پر ڈیٹا پراسیسنگ اور جدید ترین ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت پہلے ہی ہر سال تقریباً 1,500 نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے، تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات پوری کر سکیں۔کاروبار کے لیے سازگار ماحول سے متعلق آگاہی دیتے سید مراد علی شاہ نے سندھ کو پاکستان کے اہم ترین تجارتی دروازے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی تزویراتی بندرگاہیں ملکی اور عالمی منڈیوں کو مؤثر انداز میں آپس میں منسلک کرتی ہیں۔ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے محکمہ سرمایہ کاری سندھ نے خصوصی چائنا ڈیسک اور ون ونڈو سہولت مرکز قائم کیا ہے۔ مزید برآں، سندھ کے اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈز) میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پُرکشش مراعات حاصل ہوں گی، جن میں 10 سال تک ٹیکس سے استثنا اور درآمدی ڈیوٹیوں میں چھوٹ شامل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) یونٹ کی جانب سے فراہم کردہ مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی نظام کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد سرمایہ کاری کا تحفظ اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے سندھ اور چین کے صوبے ہوبئی کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔باہمی ترقی اور علاقائی روابط سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستانی کاروباری اداروں کو بھی چین میں سرمایہ کاری اور سیکھنے کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کی موجودہ صورتِ حال پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا ایک موزوں وقت ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شنگھائی نے سرمایہ کاری کو فروغ دے کر اپنی معیشت کو تبدیل کیا، اور اب کراچی بھی اسی طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اپنے خاص جغرافیائی مقام، نوجوان افرادی قوت اور حکومت کی بھرپور معاونت کے ذریعے ہم سندھ اور پاکستان کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ انشاء اللہ، ہم چینی سرمایہ کاری کے بہترین مواقع اپنے وطن میں لے کر آئیں گے۔
Read Next
1 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے ساتھ تعلیمی شراکت داری کی تجویز
1 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ اور چین کے صوبہ ہوبے کی قیادت میں زراعت،ٹیکنالوجی،تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
2 دن ago
سید مراد علی شاہ نے ہیومن ویل ہیلتھ کیئر کو سندھ میں ادویات کی تیاری کے کارخانے قائم کرنے کی دعوت دیدی
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ کی چینی کمپنی کو کراچی کے لئے 100 کلومیٹر طویل کے-فور پائپ لائن تعمیر کرنے کی دعوت
3 دن ago






