وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےچنیسر ٹاؤن میں سندھی مسلم فوڈ واک کا افتتاح کردیا۔

یہ 25 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا شہری بہتری کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے دیگر ٹاؤن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ آمدنی میں اضافے اور مالی وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے بھی ایسے ہی اقدامات کریں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی اور ان کی ٹیم کو ٹاؤن انتظامیہ کے اپنے وسائل سے منصوبہ مکمل کرنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ مقامی حکومت کے ادارے مؤثر منصوبہ بندی اور بہتر مالیاتی انتظام کے ذریعے تجارتی علاقوں اور عوامی مقامات کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ٹاؤنز کو بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جو ٹاؤن زیادہ آمدنی پیدا کرے گا، اسے ترقیاتی منصوبے بھی زیادہ دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آمدنی جمع کرنے اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے چنیسر ٹاؤن دیگر ٹاؤنز سے آگے نکل گیا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھی مسلم فوڈ واک کراچی کی تجارتی اور تفریحی سہولیات میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس سے آنے والوں اور کاروباری طبقے کو زیادہ منظم، پرکشش اور خاندانوں کے لیے موزوں ماحول میسر آئے گا۔ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن کے تحت شروع کیا گیا یہ منصوبہ یکم فروری 2026 کو شروع ہوا اور اکتوبر 2026 میں مکمل کیا گیا۔ اس میں سیوریج لائنوں کی تبدیلی، بجلی کی زیرِ زمین کیبلنگ، اوپر سے گزرنے والی تاروں کا خاتمہ، سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بحالی، جدید اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، آرائشی روشنیوں کا انتظام، شجرکاری، چوراہوں کی خوبصورتی، پارکنگ کے انتظامات میں بہتری اور ٹریفک سائنز اور سڑکوں پر نشانات کی تنصیب شامل ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں کھانے پینے اور ثقافتی سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ فوڈ واک جیسے اقدامات معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں اور مقامی کاروباری اداروں اور کاروباری افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی منصوبے کا افتتاح ہی ترقیاتی عمل کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ اس کی مناسب دیکھ بھال بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انہوں نے ٹاؤن انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی، کچرے کے انتظام، اسٹریٹ لائٹس کی فعالیت، شجرکاری اور ٹریفک کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جائے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت مالی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور آمدنی میں اضافے کے ذریعے مقامی حکومتوں کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے 2023 میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز اور 2024 میں یونین کمیٹیوں کے لیے او زیڈ ٹی گرانٹ دوگنا کردی تھی۔ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی مالی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس بھی ان کے حوالے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کلک پروگرام کے تحت بلدیاتی انفرااسٹرکچر کی بہتری میں بھی معاونت کررہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ٹاؤن انتظامیہ کی آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے لیے جائیدادوں کے سروے بھی کیے گئے ہیں۔

*کراچی کی ترقی*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے میں کراچی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور شہر بھر میں 165 سڑکوں پر کام جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے، کے فور گریٹر کراچی واٹر سپلائی پروجیکٹ، بی آر ٹی ریڈ لائن اور یلو لائن، کورنگی کاز وے فلائی اوور، گریٹر کراچی سیوریج پلان (ایس تھری) اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس آئی پی ٹو) سمیت اہم انفرااسٹرکچر منصوبوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مقامات، پارکس، کھیل کے میدانوں اور تفریحی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی کام کررہی ہے۔ ایمپریس مارکیٹ، فریئر ہال، جہانگیر پارک، کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک اور بلدیہ اسپورٹس کمپلیکس کی بحالی جیسے منصوبے شہر کو مزید پرکشش اور خاندانوں کے لیے موزوں بنانے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلک پروگرام کے تحت بین الاقوامی معیار کے 28 پارکس اور کھیل کے میدان تیار کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹیپو سلطان روڈ پر بھی فوڈ اسٹریٹس بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جبکہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے انہیں برنس روڈ پر جاری بہتری کے کام سے آگاہ کیا ہے۔

*کھمبوں سے متعلق دلچسپ جملے*

بجلی کے کھمبوں پر میڈیا کی حالیہ توجہ پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مقامِ تقریب پر ایک کھمبا دیکھ کر وہ محتاط ہوگئے تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ کہیں اس پر بھی کوئی نیا تنازع نہ کھڑا ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہر کوئی کھمبوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ٹیلی ویژن کے نامور اینکرز بھی ان پر پروگرام کررہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ کھمبوں میں مصروف رہیں اور ہم بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے معاملے پر میڈیا کی کوریج کو انہوں نے سراہا تھا، تاہم بظاہر ان کی اس بات سے کچھ لوگ ناراض ہوگئے، جس کے بعد ٹیلی ویژن کی کوریج میں بجلی کے کھمبوں پر بحث چھا گئی۔ کراچی میں رکاوٹ بننے والے بجلی کے کھمبوں کو ہٹانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار ہدایات کے باوجود کے الیکٹرک نے بعض کھمبے نہیں ہٹائے تھے، جس پر انہوں نے متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں مزید کہا کہ اب میڈیا بھی حکومت کی کوششوں کا ساتھ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میڈیا پورے پاکستان میں ایسے کھمبوں کی نشاندہی کرے۔ ان کی کوریج سے عوام کی مشکلات حل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ پرائم ٹائم پروگراموں میں بھی ان مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے سکھر میں ایک عرصے سے موجود بجلی کے کھمبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب اسے ہٹانے کے لیے پیش رفت تیز ہوگئی ہے۔

*سیکیورٹی اور کاروباری مواقع*

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کو غیر قانونی اسلحے سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کو فوڈ واک پر سیکیورٹی کے مناسب انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ خود ہر ایک یا دو ماہ بعد علاقے کا دورہ کرکے اس کی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش سے سیکیورٹی فراہم نہیں ہوتی بلکہ شہریوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اپنے سیکیورٹی عملے کے ارکان بھی کھلے عام اسلحہ لے کر سفر کرنے کے بجائے گاڑیوں کے اندر رہتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کو بھی دعوت دی کہ وہ صوبائی حکومت سے رابطہ کرے اور تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے کئی منصوبے ہیں جن سے منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کاروباری برادری آگے آئے، حکومت کے ساتھ شراکت داری کرے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کاروباری نمائندے سرکاری شعبے کے اداروں کو درپیش انتظامی اور خریداری سے متعلق مسائل کو بھی سمجھیں اور ان کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔

*دیگر مقررین*

صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ افتتاحی تقریب میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس منصوبے سے عوام کی دلچسپی ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنیسر ٹاؤن نے اپنی آمدنی جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی ہے اور وزیراعلیٰ نے کراچی کے ٹاؤنز کے لیے ترقیاتی پیکیجز متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر آمدنی جمع کرنے والے ٹاؤنز کو ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ معاونت ملتی رہے گی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی میں 150 سے زائد سڑکوں کی ازسرِنو تعمیر پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ کی ترقی سے متعلق مسائل متعلقہ فورمز پر اٹھائے، بالخصوص اس تناظر میں کہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں صوبے کے لیے مختص رقم محدود ہے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھی مسلم فوڈ واک کو ٹاؤن کی سطح پر شروع کیے گئے کئی دیگر منصوبوں کے مقابلے میں بہتر منصوبہ بندی کا حامل اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی کم توجہ حاصل ہوئی کیونکہ وہ شہر کے مرکزی علاقوں سے دور واقع تھے۔ انہوں نے رہائشیوں، تاجروں اور ٹاؤن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ صفائی برقرار رکھنے اور اس سہولت کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ واک میں پان تھوکنے اور اسلحہ لانے کو جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹیپو سلطان روڈ کو بھی فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے فرحان غنی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ٹاؤن انتظامیہ کے اپنے وسائل سے مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اس اقدام کو عوام کی جانب سے سراہنے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ٹاؤن انتظامیہ کو بار بار فنڈز کی کمی کی شکایت کرنے کے بجائے اپنی آمدنی بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران کراچی کی سڑکوں پر تعمیر اور بحالی کا کام زیادہ نظر آئے گا۔صوبائی وزیر مخدوم محبوب زمان نے چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین کو مبارک باد دی اور کہا کہ فوڈ واک میں خوراک کے تحفظ اور معیار کے معیارات یقینی بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق شروع کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے حلقے کی بہتری کے لیے سعید غنی اور فرحان غنی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پیپلز پارٹی مذہبی، فرقہ وارانہ اور لسانی تقسیم سے بالاتر ہوکر سیاست پر یقین رکھتی ہے۔چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی نے کہا کہ انتظامیہ نے پراپرٹی ٹیکس، تجارتی لائسنس فیس اور دیگر بلدیاتی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مدد ملی ہے۔

جواب دیں

Back to top button