ٹریفک کے دباؤ والے مقامات پر ضرورت کے مطابق انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز تعمیر کرنے کی منصوبہ بنایا جائے،مشیر بلدیات خیبرپختونخوا آصف رفیق

گورنر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے بلدیات، مواصلات و تعمیرات، زراعت اور ہاؤسنگ آصف رفیق نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پشاور شہر میں جاری اور مجوزہ عوامی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور شہری مشکلات خاص طور پر ٹریفک کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے جامع ماسٹر پلان تیار کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ، رش اور ٹریفک جام کے مسائل پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ جن مقامات پر انڈر پاسز یا اوور ہیڈ برجز کی ضرورت ہے، وہاں ٹریفک کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تعمیر کے لیے عملی منصوبہ بندی کی جائے۔یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز پشاور میں پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے شہر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک کی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران حکام نے ہشت نگری برج کی توسیع، فقیر آباد پل کو گورنمنٹ کالج چوک تک توسیع دینے، رام داس بازار میں انڈر پاسز کی تعمیر اور جیل چوک و شعبہ بازار چوک میں انڈر پاسز کی تعمیر سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ اسی طرح خیبر روڈ کے ٹاؤن چوک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر ٹریفک مینجمنٹ پلان متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔آصف رفیق نے کہا کہ پشاور شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو جدید شہری ضروریات سے ہم آہنگ کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ منصوبوں کا تکنیکی اور عملی بنیادوں پر جائزہ لے کر ترجیحات کا تعین کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو شہر کی خوبصورتی میں بھی فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے کے نزدیک اور جی ٹی روڈ پر سفری سہولیات کی بہتری کے ساتھ شجرکاری اور خوبصورت پھولوں کی کاشت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پشاور کو ایک خوبصورت اور سرسبز شہر بنایا جا سکے۔مشیر نے بالخصوص خیبر روڈ پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، رش کے خاتمے اور شہریوں کو درپیش سفری مشکلات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے پر زور دیا اور کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں عوامی ضروریات کو اولین ترجیح دی جائے۔

جواب دیں

Back to top button