ممبر ایڈوائزری کونسل برائے بلدیات خیبرپختونخوا آصف رفیق کی جانب سے سرکاری اداروں کو گائیڈ لائنز جاری

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ آصف رفیق کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں، ذیلی دفاتر، منسلک شعبہ جات، خودمختار اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں نظم و ضبط کی بحالی، گاڑیوں کی شفافیت اور ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق تمام متعلقہ دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کے مؤثر استعمال، وقت کی پابندی اور تفویض کردہ فرائض کی انجام دہی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہیڈکوارٹرز، ضلعی دفاتر اور پروجیکٹ سائٹس پر باقاعدگی سے اچانک معائنے اور فزیکل ویریفیکیشن کریں، جبکہ غیر مجاز غیر حاضری، فرائض کے بغیر تنخواہوں کے حصول اور بے قاعدگیوں پر قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ تمام محکموں کی حاضری کی نگرانی کے لیے ڈپٹی سیکرٹری یا مساوی عہدے کا فوکل پرسن نامزد کرناہوگا جو ملازمین اور بائیومیٹرک نظام کی تفصیلات جمع کرانے کے بعد ماہانہ بنیادوں پر جامع رپورٹ پیش کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ سرکاری گاڑیوں کی پڑتال، استحقاق کی تصدیق اور غیر قانونی یا اضافی گاڑیوں کی بلا تاخیر واپسی کے لیے بھی مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملکیت، لیز، کرائے اور پروجیکٹس کے تحت موجود تمام گاڑیوں کا تفصیلی انوینٹری ڈیٹا مرتب کریں اور مقررہ استحقاق سے زائد، غیر الاٹ شدہ یا بغیر قانونی جواز کے رکھی گئی گاڑیاں فوری طور پر سنٹرل پول کے حوالے کریں۔ خاص طور پر ریٹائرڈ، تبادلہ شدہ اور غیر متعلقہ افسران کی تحویل میں موجود گاڑیوں کی واضح نشاندہی کر کے انہیں فوراً واپس لینے اور مجاز منظوری کے بغیر گاڑی کی نئی الاٹمنٹ پر مکمل پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی گاڑیوں کا استعمال صرف منظور شدہ مقاصد تک محدود رکھنے، پروجیکٹ کی تکمیل پر گاڑیاں واپس لینے اور گاڑیوں کی کسی بھی قسم کے ذاتی یا غیر مجاز استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید برآں، غیر معمولی تخصیص کے جائزہ کے لیے گزشتہ چھ ماہ کے ایندھن اخراجات کا ریکارڈ اور گاڑیوں کی مکمل تفصیلات جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ گاڑیوں کی واپسی سے متعلق حتمی رپورٹ پندرہ دنوں میں پیش کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button