*پشاور میں 100 روزہ بلدیاتی اصلاحاتی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ*

اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سینئر)، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی، سٹی میٹروپولیٹن پشاور ملک ارشد خان کی زیرِ صدارت پہلا تعارفی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور کے تمام تحصیل اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، پراگریس افسران، سپروائزرز اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔اجلاس میں پشاور میں 100 روزہ بلدیاتی اصلاحاتی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، دفاتر کی کارکردگی میں اضافہ کرنا، صفائی کے نظام کو مؤثر بنانا اور بلدیاتی امور میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ پروگرام کے تحت درج ذیل عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ عملے کی حاضری کو یقینی بنانا،۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے دفاتر اور تمام فیلڈ دفاتر میں تعینات عملے کی باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے گی۔ویلیج اور نیبرہوڈ کونسلوں کے دفاتر کو فعال بنانا،ویلیج کونسلوں اور نیبرہوڈ کونسلوں کے دفاتر میں عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کے لیے درکار مشینری، آلات اور ضروری سامان کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔وائٹل سروسز کی فراہمی میں شفافیت،پیدائش، وفات، نکاح اور طلاق کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں شفافیت، مقررہ طریقۂ کار کی پابندی اور سرٹیفکیٹس کی مقررہ مدت کے اندر فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ پاک صاف و شفاف پختونخوا مہم کو مزید مؤثر بنانا،صفائی مہم میں مزید بہتری لانے اور اس کی رفتار تیز کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ صفائی کی مشینری، لوڈر رکشوں اور ایندھن کے درست استعمال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ خاکروبوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے اعلیٰ حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے گا، جبکہ ان کی تنخواہیں براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے لیے بھی اقدامات کی سفارش8 کی جائے گی۔ خاکروبوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی سامان، آلات اور صحت و صفائی سے متعلق احتیاطی تدابیر کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مصالحتی کونسلوں کی ازسرِنو تشکیل،مصالحتی کونسلوں کی ازسرِنو تشکیل اور زیرِ التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ نکاح رجسٹراروں کے امور کا جائزہ،

نکاح رجسٹراروں کی تقرری اور کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔ ان کے جاری کردہ نکاح ناموں کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جبکہ مقررہ فیس کے حوالے سے واضح اور شفاف طریقۂ کار وضع کرنے کے لیے اعلیٰ حکام سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ سیکرٹریوں اور نائب قاصدوں کے لیے تربیتی نشستوں کا انعقاد،ویلیج اور نیبرہوڈ کونسلوں کے سیکرٹریوں اور نائب قاصدوں کے لیے تربیتی و تعارفی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا، تاکہ وہ دفتری امور، سرکاری ریکارڈ کی دیکھ بھال اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر اور مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد،ہر پندرہ دن بعد کسی ایک تحصیل میں کھلی کچہری منعقد کی جائے گی، تاکہ شہری اپنے مسائل اور شکایات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر سکیں اور ان کے بروقت ازالے کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوکل پرسنز کی تقرری،سرٹیفکیٹس کے اجرا اور متعلقہ طریقۂ کار کے حوالے سے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے ضلعی سطح پر ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا۔ اسی طرح اسسٹنٹ ڈائریکٹر (سینئر) کے دفتر میں بھی ایک فوکل پرسن تعینات کیا جائے گا، جو عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور متعلقہ امور کی مؤثر پیروی کو یقینی بنائے گا۔نگرانی کے لیے تحصیل سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل،100 روزہ اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تحصیل کی سطح پر نگرانی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ یہ کمیٹیاں ہر بدھ کو فیلڈ دفاتر کا دورہ کریں گی، انتظامی خامیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کریں گی اور مسلسل یا سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی کی سفارشات پیش کریں گی۔ محکمہ بلدیات کے گریڈ 3 سے 16 تک کے تمام ملازمین کے پروفائلز کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں ہر ملازم کی ماہانہ کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا اور ہر ماہ اس کی کارکردگی سے متعلق اندراج کیا جائے گا۔گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق قانونی اور محکمانہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ 100 روزہ بلدیاتی اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے پشاور میں بلدیاتی نظام کو مزید فعال، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف شہریوں کو معیاری اور بروقت عوامی خدمات فراہم کرنا ہے، بلکہ سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، عملے کی کارکردگی، صفائی کے نظام اور عوامی اعتماد کو بھی بہتر بنانا ہے۔ تمام متعلقہ افسران اور عملے کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ان اصلاحاتی اقدامات پر سنجیدگی سے عمل درآمد یقینی بنائیں.

جواب دیں

Back to top button