وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے اہم نوعیت کے متعدد فیصلے کیے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں آٹے کی قیمت کم کرنے کے لیے گندم کی اجرا قیمت میں نمایاں کمی، گنے کی کرشنگ سیزن کے باضابطہ آغاز کی تاریخ کا تعین اور صنعتی پارک کے قیام سمیت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے زمین کے حصول اور استعمال کا جامع منصوبہ سرفہرست تھا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
*گندم کی اجرا قیمت میں کمی*
عام شہریوں کے لیے آٹے کی قیمت میں فی کلوگرام 15 روپے کمی کے اقدام کے تحت وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کی جانب سے سرکاری گندم کے ذخیرے کی اجرا قیمت 5 ہزار روپے سے کم کرکے 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کی تجویز منظور کرلی۔ اس اقدام سے سندھ میں گندم کی قیمتیں دیگر صوبوں کے نرخوں کے مطابق ہوجائیں گی۔ یہ فیصلہ مارکیٹ میں قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد کیا گیا ہے، تاکہ فلور ملز کو صارفین تک اس ریلیف کا فائدہ پہنچانے میں سہولت فراہم کی جاسکے۔ محکمہ خوراک نے کابینہ کو بتایا کہ فلور ملز اور آٹا چکیوں کو فراہمی کے لیے سرکاری گندم کے ذخیرے کی موجودہ اجرا قیمت سندھ کابینہ کی منظوری سے 5 ہزار روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی تھی، جو فی 100 کلوگرام 12 ہزار 500 روپے کے برابر ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق صوبائی حکومت کے پاس گندم کا مجموعی ذخیرہ 87 لاکھ 19 ہزار 863 بوریاں ہے، جس میں گزشتہ سال کے باقی ماندہ ذخیرے کی 19 لاکھ 31 ہزار 860 بوریاں، 2026 میں خریدی گئی 15 لاکھ 58 ہزار 3 بوریاں، پاسکو کی 22 لاکھ 30 ہزار بوریاں اور درآمد شدہ گندم کی 30 لاکھ بوریاں شامل ہیں۔
*گنے کی کرشنگ سیزن کی تاریخ مقرر*
کابینہ نے 2026-27 کے گنے کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے لیے 15 نومبر کی تاریخ مقرر کردی۔ تاریخ کے تعین کے باوجود وزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز کو ہدایت کی کہ آئندہ فصل کی کم از کم امدادی قیمت کو حتمی شکل دینے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کی جائے۔
*اسٹیل ملز کی زمین پر صنعتی پارک کا قیام*
کابینہ نے ضلع ملیر کے دیہہ بکران اور پپری میں سرکاری زمین کے ایک ہزار 275 ایکڑ رقبے پر صنعتی پارک کے قیام کے لیے کارروائی کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے کا مقصد پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) سے منسلک زمین کو حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کی بنیاد پر استعمال کرتے ہوئے صوبے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔کراچی انڈسٹریل پارک کے لیے دستیاب رقبے کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے صوبائی حکومت درج ذیل اقدامات کرے گی:
*کراچی گارمنٹ سٹی:* محکمہ صنعت وفاقی حکومت سے رابطہ کرے گا تاکہ وزارت ٹیکسٹائل کو پہلے سے الاٹ کیے گئے 300 ایکڑ رقبے کا جائزہ لیا جاسکے اور اسے پاکستان اسٹیل ملز کے نام دوبارہ الاٹ کرنے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کیا جاسکے۔
*پیپلز ہاؤسنگ سیل:* حکومت پیپلز ہاؤسنگ سیل کو پہلے سے الاٹ کیے گئے 100 ایکڑ رقبے کی الاٹمنٹ منسوخ کرے گی، تاکہ اسے پاکستان اسٹیل ملز کے نام منتقل کیا جاسکے۔
*اسٹیل ملز کے تحفظ کو یقینی بنانا*
صنعتی زون کے قیام کے اقدام کے باوجود وزیراعلیٰ اور کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اصل پلانٹ کے لیے مختص 700 ایکڑ زمین برقرار رہے گی۔ یہ زمین سختی سے موجودہ پلانٹ کی مستقبل میں بحالی یا نئی اسٹیل مل قائم کرنے کے لیے مخصوص رہے گی۔
*ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ شہری ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پروگرام*
کابینہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے تیار کردہ پروجیکٹ ریڈینس فنانسنگ (پی آر ایف) کے مذاکرات کے بعد طے پانے والے پیکیج کی بعد ازاں منظوری دے دی۔ اس پروگرام کے تحت سندھ کے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں شہری بنیادی ڈھانچے اور بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تیاری کی جائے گی۔اس پروگرام میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص شامل ہوں گے۔ اس کے تحت پانی کی فراہمی، سیوریج، نکاسی آب، صفائی ستھرائی، ٹھوس کچرے کے انتظام، لینڈ فل سائٹس اور شہری علاقوں کو قدرتی آفات کے اثرات سے محفوظ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔17.17 ملین ڈالر کی پی آر ایف سہولت کی منظوری 25 ستمبر 2026 کو سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے دی تھی، جس میں اے ڈی بی کی جانب سے 15 ملین ڈالر کی مالی معاونت اور 2.17 ملین ڈالر کی جوابی مالی معاونت شامل ہے۔ اس رقم سے آئندہ پانچ سے دس برسوں کے دوران فزیبلٹی اسٹڈیز، تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، سٹی ڈیولپمنٹ پلانز اور ادارہ جاتی استعداد کار بہتر بنانے کے اقدامات میں مدد ملے گی۔سرمایہ کاری کے منصوبے میں اے ڈی بی کے تقریباً 300 سے 400 ملین ڈالر کے تین قرضے شامل ہیں۔ پہلے قرضے سے حیدرآباد اور سکھر کا احاطہ کیا جائے گا، جبکہ بعد کے قرضوں کے ذریعے پروگرام کو تمام پانچ شہروں تک وسعت دی جائے گی۔ وفاقی اور سندھ حکومتوں اور اے ڈی بی کے درمیان مذاکرات 22 اکتوبر 2026 کو مکمل ہوئے، جس کے بعد کابینہ نے طے شدہ پیکیج کی منظوری دے دی۔
*کورنگی میں 32 عدالتوں کو فعال بنانے کے لیے 300 ملین روپے*
کابینہ نے ضلع کورنگی، کراچی میں پہلے مرحلے کے تحت تعمیر کی گئی 32 عدالتوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے درکار فرنیچر اور آلات کی خریداری کی غرض سے رجسٹرار، سندھ ہائی کورٹ کو 300 ملین روپے کی گرانٹ ان ایڈ دینے کی منظوری دے دی۔یہ عدالتیں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی اسکیم کے تحت ایک ارب 26 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی تھیں، جس میں ایک ارب 13 کروڑ 20 لاکھ روپے کا ترقیاتی حصہ اور 12 کروڑ 96 لاکھ ایک ہزار روپے کا غیر ترقیاتی حصہ شامل تھا۔ ترقیاتی حصے کی پوری رقم استعمال کرلی گئی، جبکہ غیر ترقیاتی رقم ہائی کورٹ انتظامیہ نے دو مرتبہ واپس کردی تھی۔بعد ازاں ہائی کورٹ انتظامیہ نے فرنیچر اور آلات کی خریداری کے لیے 361.838 ملین روپے طلب کیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سندھ حکومت کے درمیان مشاورت کے بعد 300 ملین روپے فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ کابینہ نے اہم ترقیاتی اسکیموں کے لیے پہلے سے طے شدہ ایک ارب 30 کروڑ روپے کی اضافی رقم میں سے یہ رقم فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔
*لاڑکانہ میں پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے کنسلٹنٹ کی تقرری*
صوبائی کابینہ نے لاڑکانہ شہر میں پانی کی فراہمی، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی کے مربوط نظام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز، تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، پی سی ون اور ٹینڈر دستاویزات کی تیاری اور تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے ایک فرم کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دے دی۔یہ تجویز لاڑکانہ کی بنیادی سہولیات کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد پیش کی گئی، جس کے دوران فیصلہ کیا گیا تھا کہ پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولیات بیک وقت تیار کی جائیں، تاکہ بار بار کھدائی سے بچا جاسکے اور تعمیراتی اخراجات اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات کم کی جاسکیں۔محکمہ پبلک ہیلتھ نے کابینہ کو بتایا کہ مذکورہ فرم شہر کے واٹر سپلائی منصوبے کے لیے ابتدائی فزیبلٹی کا کام پہلے ہی انجام دے چکی ہے اور اسے پانی کی فراہمی، سیوریج، نکاسی آب اور بڑے پیمانے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا متعلقہ تجربہ بھی حاصل ہے۔اس مربوط منصوبے میں پانی کے ذرائع کا جائزہ، پانی کی ترسیل کے نظام، ٹریٹمنٹ اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات، تقسیم کا نیٹ ورک، سیوریج جمع کرنے کا نظام، پمپنگ اسٹیشنز، گندے پانی کی صفائی اور بارش کے پانی کی نکاسی شامل ہوگی۔
*جامشورو کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 502.4 ملین روپے کے اضافی فنڈز*
کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے مالیات کے اس فیصلے کی توثیق کردی، جس کے تحت رواں مالی سال 2026-27 کے دوران ضلع جامشورو میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کی پانچ اسکیموں کے لیے 502.409 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی تھی۔یہ فنڈز سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی اسکیموں کے لیے استعمال ہوں گے، جن میں سیہون شہر کی مرکزی واٹر سپلائی اسکیم، یونین کونسل واھور میں ریورس اوسموسس (آر او) پلانٹس کی تنصیب اور تعلقہ سیہون کے مختلف دیہات میں 32 آر او پلانٹس کی بحالی اور مرمت شامل ہے۔آر او پلانٹس سے متعلق اسکیموں کے لیے 226.373 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں جون 2027 سے قبل مکمل کیا جانا ہے۔ باقی فنڈز سیہون میں شہری پانی کی فراہمی کے نشاندہی شدہ کاموں کی تکمیل کے لیے استعمال ہوں گے، تاکہ حضرت لعل شہباز قلندر کے 775ویں عرس سے قبل یہ کام مکمل کیے جاسکیں۔ عرس 25 سے 28 جنوری 2027 کے دوران منعقد ہونے کی توقع ہے۔
*نوابشاہ کے لیے 2.99 ارب روپے کی واٹر سپلائی اور نکاسی آب اسکیم*
صوبائی کابینہ نے شہید بینظیرآباد ضلع کے شہر نوابشاہ کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری، توسیع اور اپ گریڈیشن سے متعلق اسکیم کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے مالیات کے فیصلے کی تصحیح کی منظوری دے دی۔اسکیم کی منظوری 2,993.426 ملین روپے کی لاگت سے دی گئی ہے، جس کے لیے رواں مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے مختص رقم میں سے 750 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔اس منصوبے کا مقصد نوابشاہ میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر اور اپ گریڈ کرنا ہے، جو شہید بینظیرآباد ڈویژن کا ہیڈکوارٹر ہے۔
*سندھ چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن رولز 2026*
کابینہ نے سندھ چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2019 کے تحت سندھ چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کے مسودے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد صوبے میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کی رجسٹریشن، نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے ایک جامع نظام قائم کرنا ہے۔20 آرٹیکلز اور دو شیڈولز پر مشتمل مسودہ قواعد میں چیریٹیز کی کمیشن کے ساتھ لازمی رجسٹریشن، افسران اور عملے کی تقرری، مالی شفافیت، آڈٹ، معائنہ اور چندہ جمع کرنے کی سرگرمیوں کو ضابطے میں لانے کی شقیں شامل ہیں۔مجوزہ نظام کے تحت ہر فلاحی ادارے کے لیے مقررہ آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن لازمی ہوگی، جبکہ رجسٹریشن اتھارٹی متعلقہ وفاقی اور صوبائی قوانین، بشمول انسدادِ منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین، پر عملدرآمد کی تصدیق کرے گی۔ قواعد کے تحت فلاحی اداروں کے لیے درست حسابات رکھنا، سالانہ رپورٹس اور آڈٹ رپورٹس شائع کرنا، علیحدہ بینک اکاؤنٹس چلانا اور کمیشن کے ڈیٹا بیس سے منسلک ویب سائٹس برقرار رکھنا بھی لازمی ہوگا۔
*کچی آبادیوں کی لیز کو قانونی حیثیت دینا*
کابینہ نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور صوبے بھر کے دیگر بلدیاتی اداروں کی جانب سے کچی آبادیوں میں غیر مجاز طور پر لیز کو قانونی حیثیت دینے اور لیز جاری کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا اور سندھ کچی آبادیز ایکٹ 1987 پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سفارشات پر غور کیا۔محکمہ ہیومن سیٹلمنٹ، اسپیشل ڈیولپمنٹ اینڈ سوشل ہاؤسنگ کی جانب سے پیش کردہ ورکنگ پیپر میں نشاندہی کی گئی کہ واضح قانونی نظام موجود ہونے کے باوجود کے ایم سی اور دیگر بلدیاتی ادارے قانونی اختیار کے بغیر کچی آبادیوں میں لیز جاری کرتے رہے ہیں۔اس معاملے کا جائزہ لینے اور آئندہ کابینہ اجلاس میں سفارشات پیش کرنے کے لیے سعید غنی، ناصر شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور وزیراعلیٰ کے مشیر نجمی عالم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
*دیوالی کی تعطیل*
صوبائی حکومت نے ہندو برادری کے دیوالی کے تہوار کے موقع پر پیر کے روز عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
*لیڈی ڈفرن اسپتال ٹرسٹ کی رجسٹریشن*
کابینہ نے سندھ ٹرسٹس ایکٹ 2020 کے تحت لیڈی ڈفرن اسپتال ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی، تاکہ کراچی میں کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اس تاریخی ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔یہ اسپتال 1898 میں مسٹر ایڈلجی ڈنشا نے قائم کیا تھا اور اسی سال تیار کیے گئے ٹرسٹ ڈیڈ کے تحت کام کررہا ہے۔ موجودہ ٹرسٹی مسٹر سہراب آر ڈنشا نے 2020 کے ایکٹ کے تحت پہلے سے موجود ٹرسٹ ڈیڈ کی رجسٹریشن کی درخواست کی تھی۔محکمہ قانون اور دفتر ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مشاورت کے بعد ٹرسٹ کی مجوزہ تشکیل میں مسٹر سہراب آر ڈنشا بطور موجودہ ٹرسٹی شامل ہوں گے، جبکہ کمشنر کراچی ڈویژن، میئر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ڈپٹی کمشنر/کلکٹر ضلع جنوبی سرکاری عہدوں کی بنیاد پر ٹرسٹی ہوں گے۔ کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔.






