کرتارپور راہداری کی بندش: مذہبی عقیدت، قومی سلامتی اور حکومت کے امتحان کا سوال۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

کرتارپور راہداری محض پاکستان اور بھارت کو ملانے والا ایک راستہ نہیں بلکہ کروڑوں سکھوں کی مذہبی عقیدت، تاریخی ورثے اور بابا گرو نانک دیو جی سے وابستہ روحانی رشتے کی علامت ہے۔ نومبر 2019ء میں اس راہداری کا افتتاح دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے باوجود ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت تھا۔ اس کے ذریعے بھارتی سکھ یاتریوں کو بغیر ویزے کے پاکستان میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کا موقع ملا، جہاں گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال گزارے۔ لیکن 7 مئی 2025ء سے راہداری کی بندش نے اس تاریخی اقدام کو عملاً معطل کر رکھا ہے اور سکھ برادری میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مزید محدود ہوئے، سرحدی کشیدگی بڑھی اور سکیورٹی خدشات نے جنم لیا۔ ایسے حالات میں بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری بند کرنے کا فیصلہ قومی سلامتی کے تناظر میں کیا گیا، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا دو ملکوں کے سیاسی اور فوجی اختلافات کا بوجھ مذہبی زائرین کو بھی مسلسل اٹھانا چاہیے؟ قومی سلامتی یقیناً ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن مذہبی آزادی اور عوامی عقیدت کو بھی غیر معینہ مدت تک معطل رکھنا کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔کرتارپور راہداری کی اہمیت اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس منصوبے کے لیے پاکستان اور بھارت نے باقاعدہ معاہدہ کیا تھا۔ اس کے تحت روزانہ پانچ ہزار تک بھارتی یاتریوں کو زیارت کی سہولت دینے کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ سہولت ویزے کے بغیر، مخصوص سفری اجازت نامے اور دیگر طے شدہ شرائط کے تحت فراہم کی جاتی تھی۔ اس منصوبے نے ثابت کیا تھا کہ اگر دونوں ملک سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر عملی تعاون پر آمادہ ہوں تو مذہبی اور انسانی بنیادوں پر مثبت راستے نکالے جا سکتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے 17 ستمبر 2026ء کو گرو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے راہداری کھولنے کا اعلان اور انتظامات بھی سامنے آئے ہیں، لیکن بھارتی یاتریوں کی آمدورفت کی بحالی کے لیے بھارت کی جانب سے اجازت ضروری ہے۔ یوں مسئلہ صرف پاکستان کی آمادگی کا نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان عملی اتفاق اور سفارتی تعاون کا بھی ہے۔27 اکتوبر 2026ء کو بھارتی پنجاب اسمبلی نے بھی متفقہ قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت سے راہداری فوری کھولنے، پاکستان سے سفارتی رابطے کرنے اور یاتریوں کے سفر کو محفوظ اور آسان بنانے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس موقف کی حمایت کی کہ مذہبی عقیدت کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرارداد اس بات کا اظہار ہے کہ کرتارپور کا معاملہ صرف سکھ سیاست یا کسی ایک جماعت کا مطالبہ نہیں بلکہ پنجاب کے عوامی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔اس معاملے میں بھارتی مرکزی حکومت کا مؤقف بھی واضح ہے۔ جولائی 2026ء میں بھارتی وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے باعث راہداری کی خدمات معطل رکھنا ضروری ہیں۔ دوسری طرف نومبر 2026ء میں سکھ رہنماؤں کی جانب سے دوبارہ راہداری کھولنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ تین نومبر کو راجیہ سبھا کے رکن بابا بلبیر سنگھ سیچوال نے بھی وزیراعظم اور متعلقہ وزارت کو خط لکھ کر راہداری کی بحالی پر زور دیا۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات آج بھی معمول پر نہیں آئے۔ 2025ء کی فوجی کشیدگی کے بعد جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود سفارتی اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔ ایسے ماحول میں کسی بڑے سیاسی معاہدے کی توقع شاید فوری طور پر حقیقت پسندانہ نہ ہو، لیکن مذہبی یاترا کے لیے محدود، محفوظ اور قابلِ نگرانی انتظامات پر بات چیت ضرور ممکن ہے۔یہاں دونوں حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے قابلِ عمل راستہ تلاش کریں۔ پاکستان کو اپنی طرف سے سکیورٹی، سہولتوں اور یاتریوں کے تحفظ کی ضمانت دینی چاہیے، جبکہ بھارت کو بھی واضح کرنا چاہیے کہ راہداری کی بحالی کے لیے کن شرائط اور انتظامات کی ضرورت ہے۔ اگر دیگر مذہبی مواقع پر زائرین کے گروپوں کی آمدورفت ممکن ہے تو کرتارپور کے لیے بھی کوئی قابلِ قبول طریقۂ کار تلاش کیا جا سکتا ہے۔

کرتارپور کا پیغام نفرت نہیں، محبت اور انسانیت ہے۔حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ سرحدیں ملکوں کی حفاظت کے لیے ہوتی ہیں، لوگوں کے مذہبی جذبات کو ہمیشہ کے لیے قید کرنے کے لیے نہیں۔ سکھ برادری سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں چاہتی، وہ صرف اپنے مقدس مقام تک رسائی اور اپنی مذہبی آزادی کا احترام چاہتی ہے۔ اگر دونوں ملک واقعی امن کے خواہاں ہیں تو کرتارپور راہداری کو دوبارہ فعال بنانا ایک مثبت آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل امتحان یہی ہے کہ کیا سیاسی اختلافات کے باوجود مذہبی عقیدت اور انسانی رشتوں کو ترجیح دی جا سکتی ہے؟تحریری نوٹ: یہ فیچر 6 نومبر 2026ء تک دستیاب اطلاعات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ بنیادی ماخذ: بھارتی پارلیمنٹ میں حکومتی بیان، پنجاب اسمبلی کی قرارداد اور تازہ میڈیا رپورٹس۔

جواب دیں

Back to top button