غربت سے شہرت، شہرت سے دولت اور پھر ایک ہجوم کی چیخیں: مسٹر پتلو کا عروج و زوال۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گاؤں سیدے والی سے تعلق رکھنے والے انصر محمود کو دنیا آج ’’مسٹر پتلو‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ کبھی مالی مشکلات سے دوچار یہ نوجوان مزدوری کرتا اور رکشا چلاتا تھا۔ اپنے انٹرویوز میں وہ بتا چکا ہے کہ ایک زمانے میں اسے کرکٹ کھیلنے کے لیے دس روپے بھی میسر نہیں ہوتے تھے۔ غربت کے اسی دور نے شاید اس کے اندر آگے بڑھنے کی وہ بے قراری پیدا کی جس نے بالآخر اسے سوشل میڈیا کی دنیا تک پہنچا دیا۔ مسٹر پتلو نے ابتدا میں مختلف سماجی رابطوں کی ایپس پر قسمت آزمائی اور کئی برس جدوجہد کے بعد ٹک ٹاک کی براہِ راست نشریات کو اپنا میدان بنا لیا۔ لوگوں سے بے تکلف گفتگو، برجستہ انداز اور براہِ راست نشریات کے دوران تحائف حاصل کرنے کے طریقے نے اسے تیزی سے مقبول کر دیا۔ اس کے پیروکار لاکھوں میں پہنچ گئے اور وہ پاکستان کے نمایاں اور زیادہ آمدن والے ٹک ٹاکرز میں شمار ہونے لگا۔ اس کی شہرت سیالکوٹ تک محدود نہ رہی بلکہ بیرونِ ملک پاکستانیوں تک بھی پہنچی۔ دبئی سمیت بیرونِ ملک سے براہِ راست پروگرام اور نشریات اس کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل کاروبار اور اثر و رسوخ کی علامت بن گئے۔پھر وہ وقت آیا جب غربت کا سابقہ قصہ دولت، شہرت اور شاندار طرزِ زندگی میں بدل گیا۔ ایک ایسا شخص جسے کبھی چند روپے کی فکر رہتی تھی، اب مہنگی گاڑیوں، قیمتی ملبوسات، بڑے اجتماعات اور لاکھوں مداحوں کے درمیان دکھائی دینے لگا۔ اس کی شادی بھی ایک عام گھریلو تقریب نہ رہی بلکہ سوشل میڈیا کا بڑا واقعہ بن گئی۔ مہندی کے موقع پر عام لوگوں کے لیے دو کروڑ روپے نقد، ایک گاڑی، پچاس موٹر سائیکلیں، موبائل فون اور دیگر قیمتی انعامات دینے کے اعلانات نے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ سیالکوٹ کے علاوہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی لوگ پہنچے۔مگر 30 اکتوبر 2026 کی وہ رات مسٹر پتلو کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بن گئی۔ ڈسکہ روڈ کے فراز اسپورٹس گراؤنڈ میں مہندی اور انعامی تقریب کے دوران گیٹ کھلتے ہی ہجوم بے قابو ہوگیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ ابتدائی طور پر 30 سالہ عقیل جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے، بعدازاں زخمی ریحان بھی دم توڑ گیا۔ یوں ہلاکتوں کی تعداد دو ہوگئی جبکہ پولیس کے مطابق 18 افراد زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق تقریب میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی اور لاؤڈ اسپیکر پر لوگوں کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا گیا، جس سے صورتحال قابو سے باہر ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ نے بھی شرائط کی خلاف ورزی پر اجازت نامہ منسوخ کر دیا تھا۔ پولیس نے مسٹر پتلو، اس کے بھائی اور دیگر منتظمین سمیت نو نامزد افراد اور 40 سے 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ چھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ پچاس موٹر سائیکلیں اور قرعہ اندازی کی گاڑی بھی پولیس نے قبضے میں لے لی۔ حادثے کے فوراً بعد مسٹر پتلو کے موقع سے چلے جانے اور روپوش ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کیے، تاہم تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت تک گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اپنے ویڈیو بیان میں اس نے مؤقف اختیار کیا کہ حادثے کے وقت وہ اسپتال میں تھا، کمر کی تکلیف کے باعث چل نہیں سکتا تھا اور اس کا حادثے میں کوئی کردار نہیں۔ اس نے کہا کہ صحت بہتر ہونے پر خود پولیس کے سامنے پیش ہوگا۔اس سانحے پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سخت ردعمل دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹک ٹاکر نے انعامات کے ذریعے غریب لوگوں کی بڑی تعداد جمع کی، سوشل میڈیا آمدن کے لیے اس اجتماع کو استعمال کیا اور ’’غریب عوام کی غربت کا مذاق‘‘ بنایا گیا۔ انہوں نے بے لگام سوشل میڈیا کو معاشرے اور ریاست کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ایسے افراد کے احتساب اور ٹیکس قوانین کے تحت نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مسٹر پتلو کے اپنے بیان میں ایک اور دردناک پہلو سامنے آیا کہ جن لوگوں کو وہ اپنے عروج میں اپنا سمجھتا تھا، مشکل وقت آیا تو وہ اس سے دور ہوگئے۔ یہ دعویٰ بہرحال اس کا ذاتی مؤقف ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔مسٹر پتلو کی داستان کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ شہرت، دولت اور سوشل میڈیا کی مقبولیت اگر ذمہ داری، نظم و ضبط اور انسانی جان کی قدر سے خالی ہوجائے تو عروج کا سفر ایک ہی لمحے میں زوال میں بدل سکتا ہے۔ کل تک جس شخص کے گرد ہجوم تصویروں اور انعامات کے لیے جمع ہوتا تھا، آج اسی نام کے ساتھ ایک المناک حادثہ، دو انسانی جانوں کا نقصان، درجنوں زخمی، مقدمہ، گرفتاریاں اور قانونی کارروائی جڑ چکی ہے۔ وقت واقعی کسی کے لیے ایک سا نہیں رہتا؛ صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے، ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا۔

جواب دیں

Back to top button