ایک زمانہ تھا جب ریڈیو گھر میں رکھا ہوا محض ایک برقی آلہ نہیں، گھر کے ایک فرد کی حیثیت رکھتا تھا۔ صبح کا آغاز اس کی آواز سے ہوتا، دوپہر کی خاموشی اس سے آباد رہتی اور شام ڈھلتے ہی اس کے گرد خاندان، محلے اور کبھی پوری دکان کی محفل سج جاتی۔ ریڈیو بند ہو تو یوں محسوس ہوتا جیسے گھر میں کوئی ضروری شخص خاموش ہوگیا ہے۔پاکستان بننے کے وقت ریڈیو پاکستان کا سفر بھی پاکستان کے سفر کے ساتھ شروع ہوا۔ 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب لاہور سے پاکستان کے قیام کا اعلان ریڈیو کے ذریعے ہوا۔ ابتدا میں ملک میں صرف تین ریڈیو اسٹیشن تھے، مگر بعد میں اس کا نیٹ ورک ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا۔ریڈیو کی اصل طاقت اس کی آواز تھی۔ چہرہ دکھائے بغیر آواز انسان کو اپنے قریب کر لیتی تھی۔ میزبانوں کی گفتگو، گیتوں کے درمیان مختصر جملے، خبریں، ادبی پروگرام، مذہبی نشریات، بچوں کے پروگرام اور علاقائی زبانوں کے عوامی پروگرام گھر کے معمولات کا حصہ بن گئے تھے۔ سامعین صرف پروگرام نہیں سنتے تھے، میزبانوں سے تعلق قائم کرتے تھے۔ بعض آوازیں ایسی تھیں جنہیں سن کر لوگ گھڑی دیکھے بغیر وقت کا اندازہ کر لیتے تھے۔خصوصاً علاقائی پروگراموں نے ریڈیو کو شہروں سے نکال کر قصبوں، دیہات اور چوپالوں تک پہنچایا۔ پنجابی پروگرام شروع ہوتے تو دکانوں پر کاروبار چند لمحوں کے لیے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا۔ لوگ پروگرام سنتے، گفتگو کرتے، لطیفے دہراتے اور پنجابی محاوروں کو اپنی روزمرہ زبان میں استعمال کرتے۔ یوں ریڈیو صرف تفریح نہیں تھا؛ وہ زبان، تلفظ، محاورے اور مقامی ثقافت کی غیر رسمی درس گاہ بھی تھا۔پھر ایک دن گھر میں ٹیلی وژن آگیا۔ آواز کے ساتھ تصویر بھی آگئی۔ ریڈیو کے مقابلے میں یہ ایک بہت بڑی کشش تھی۔ بعد میں کیبل، ویڈیو، موبائل فون، انٹرنیٹ، سماجی رابطوں کے ذرائع اور بالآخر ہر فرد کی جیب میں موجود اسمارٹ فون نے وہ کام مکمل کردیا جو ٹیلی وژن نے شروع کیا تھا۔اعدادوشمار اس تبدیلی کی گواہی دیتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے 2024-25 کے گھریلو سروے کے مطابق پاکستان کے صرف 2 فیصد گھرانوں میں ریڈیو موجود ہے، جبکہ گھریلو انٹرنیٹ سہولت 70 فیصد اور موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت 96 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پنجاب میں بھی ریڈیو کی گھریلو ملکیت صرف 2 فیصد ہے، جبکہ انٹرنیٹ 69 فیصد اور موبائل/اسمارٹ فون 70 فیصد گھرانوں تک پہنچ چکے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریڈیو واقعی ختم ہوگیا؟ شاید نہیں۔ اس کی شکل بدل گئی ہے۔ خود ریڈیو پاکستان نے روایتی نشریات کے ساتھ آن لائن چینلز اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم اختیار کیے ہیں۔اصل میں ٹیکنالوجی نے ریڈیو کو نہیں نگلا، اس نے ریڈیو سننے کا اجتماعی کلچر نگل لیا۔ پہلے ایک آواز پورے گھر کو اکٹھا کرتی تھی، آج ایک ہی گھر میں ہر فرد کے ہاتھ میں الگ اسکرین ہے۔ پہلے دکان پر دس لوگ ایک پروگرام سنتے تھے، آج دس لوگ دس مختلف دنیاوں میں موجود ہیں۔ پہلے پروگرام مقررہ وقت پر آتا تھا اور لوگ اس کے منتظر رہتے تھے، آج مواد انسان کے انتظار میں موجود ہے۔شاید اسی لیے ریڈیو کا زوال صرف ایک پرانے آلے کا زوال نہیں، ایک اجتماعی سماعت کے دور کا اختتام ہے۔ وہ زمانہ گزر گیا جب گھر سے نکلتے ہوئے گیت کی آواز دروازے سے نہیں، دل سے آتی تھی اور آدمی راستے بھر اسے اپنے ساتھ لیے پھرتا تھا۔ ریڈیو کی آواز شاید اب بھی موجود ہے، مگر وہ گھر کا فرد نہیں رہی؛ جیب میں موجود ہزاروں آوازوں میں ایک آواز بن گئی ہے۔
Read Next
2 دن ago
موبائل کی روشن اسکرین، اندھیرے کھیل کا دروازہ—بچوں کو کون بچائے گا۔۔۔؟ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
4 دن ago
اسلام آباد سے دیہی عورت کی آواز: ’’مقامی حکومت میں ہماری کرسی کہاں ہے۔۔۔؟‘‘ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
4 دن ago
دستگیر ہاؤس کی بجھی روشنی پھر جل اٹھی، گوجرانوالہ کی سیاست میں نئی صف بندی۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
5 دن ago
توشہ خانہ: تحفوں کی چمک سے قومی امانت تک، ایک طویل داستان۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
5 دن ago
ستائیس اکتوبر: کشمیر کی وہ تاریخ جس کا باب آج بھی نامکمل ہے۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
Related Articles
معذوری سرٹیفکیٹ اب مشکل مرحلہ نہیں، پنجاب میں گھر بیٹھے سہولت کی نئی راہ۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
1 ہفتہ ago
ایک نمبر، 2354 گاڑیاں: نمبر پلیٹ کی ایک چھیڑ نے پورا نظام سوالیہ بنا دیا۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
1 ہفتہ ago
این سی سی آئی اے: سائبر تحفظ، ریاستی سلامتی اور شہری آزادی کا نیا امتحان حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
1 ہفتہ ago


