اسلام آباد سے دیہی عورت کی آواز: ’’مقامی حکومت میں ہماری کرسی کہاں ہے۔۔۔؟‘‘ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

اسلام آباد میں پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈووکیسی (PODA) کے زیر اہتمام 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک جاری 19ویں سالانہ دیہی خواتین قیادت تربیتی کانفرنس میں ملک بھر کے تقریباً 100 اضلاع سے 600 سے زائد خواتین راہنما شریک ہیں۔ جناح ویلفیئر آرگنائزیشن کی پروگرام مینجر نور فاطمہ بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ ان کے بقول اسلام آباد میں جمع ہونے والی یہ خواتین محض ایک تقریب کا حصہ نہیں بلکہ اپنے اپنے علاقوں کی وہ آوازیں ہیں جو پالیسی سازوں تک پہنچنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں۔ کانفرنس میں خواتین کے حقوق، سیاسی شرکت، تعلیم، معاشی خودمختاری، موسمیاتی تبدیلی، قانونی تحفظ، ڈیجیٹل سلامتی اور فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت جیسے موضوعات زیر بحث ہیں۔ نور فاطمہ کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو ان میں خواتین کی حقیقی نمائندگی کتنی ہوگی؟ ان کا کہنا ہے کہ دیہی عورت ووٹ دینے والی شہری ضرور ہے، لیکن اسے امیدوار، منتخب نمائندہ اور فیصلہ ساز بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں، انتخابی نظام اور معاشرے کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس میں خواتین کے آئینی و انتخابی حقوق، بطور ووٹر اور امیدوار درپیش رکاوٹوں اور انتخابی قوانین کے تحت دستیاب قانونی راستوں پر بھی تربیتی نشست رکھی گئی ہے۔ PODA یعنی Potohar Organization for Development Advocacy ایک خواتین کے حقوق کی تنظیم ہے جو دیہی پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے تحقیق، حقوق پر مبنی پروگراموں اور پالیسی سطح کی وکالت کو بنیاد بناتی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کا مقصد دیہی خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کو تعلیم، روزگار کی مہارت، قانونی آگاہی اور انسانی حقوق کی وکالت کے ذریعے بااختیار بنانا اور ایک جمہوری معاشرے کی تشکیل میں مدد دینا ہے۔ PODA کا قیام 2003ء میں عمل میں آیا، جبکہ 2008ء سے اس کی سالانہ دیہی خواتین کانفرنس ملک بھر کی خواتین کو اجتماعی آواز فراہم کرنے کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ نور فاطمہ کے مطابق کانفرنس کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہاں مسائل صرف بیان نہیں کیے جاتے بلکہ ان کے عملی حل اور حکومتی پالیسیوں کے لیے سفارشات بھی مرتب کی جاتی ہیں۔ PODA کے پروگراموں میں خواتین کے حقوق کی تعلیم، ووٹ کے حق کے لیے آگاہی، لڑکیوں کی تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے، زراعت اور دیہی روزگار، معذور خواتین کی شمولیت اور قانونی معاونت شامل ہیں۔ تنظیم کا مفت قانونی امداد مرکز بھی صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ PODA کی سابقہ سفارشات میں مقامی حکومتوں میں خواتین کے لیے کم از کم 50 فیصد نمائندگی مقرر کرنے اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ختم کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ نور فاطمہ کے نزدیک یہی مطالبہ آج کے سیاسی منظرنامے میں مزید اہم ہو گیا ہے، کیونکہ مقامی حکومت دراصل وہ سطح ہے جہاں پانی، صفائی، تعلیم، صحت، سڑک، ماحول اور سماجی تحفظ جیسے روزمرہ مسائل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر ان فیصلوں میں نصف آبادی کی آواز کمزور رہے گی تو جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ بھی ادھورا محسوس ہوگا۔اسلام آباد کی اس کانفرنس سے نور فاطمہ کا پیغام واضح ہے کہ دیہی خواتین کو محض ووٹر سمجھنے کے بجائے قیادت، قانون سازی اور مقامی فیصلہ سازی کی شراکت دار تسلیم کرنا ہوگا۔ تین روزہ اجتماع کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ یہاں اٹھنے والی آوازیں کانفرنس ہال سے نکل کر صوبائی دارالحکومتوں، اضلاع، تحصیلوں اور بالآخر آنے والی مقامی حکومتوں کے ایوانوں تک کتنی قوت کے ساتھ پہنچتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button