ہمارے ملک میں بہت اعلی پائے کے دانشور،ادیب،شاعر اور دوسرے فنکار گزرے ہیں۔جس کی شہرت مسلم ہے۔دنیا پاکستان کو انہی کے حوالوں سے پہچانتی آ رہی ہے۔یہ بلند پایہ کے لوگ تھے،جن کا نام تھا۔سوچیں ذرا غور کریں کہ الجزائر کی تحریک آزادی میں فرانس سے مزاکراتی ٹیم میں ڈاکٹر اقبال احمد بھی شامل تھے۔وہی اقبال احمد جو پاکستان میں خواب لیکر آئے کہ خلدونیہ یونیورسٹی (ابن خلدون)کے نام پر قائم کریں گے۔پھر ڈاکٹر فیروز احمد جن کے نام پر اب بھی کراچی کی یونیورسٹی میں ریسرچ کا شعبہ ہے۔پھر اعجاز احمد جو انگریزوں کو انگریزی پڑھاتے رہے۔پروفیسر حمزہ علوی جو ایک بیورکریٹ تھے مگر مانچسٹر یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے استاد رہے۔جن کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے نئے آزاد ہونے والے ممالک نو آبادتیوں میں طبقاتی ارتقا کے ضمن میں ریاستی اداروں کی بالادستی کا مطالعہ کیا اور بنگلہ دیش،پاکستان کے حوالہ سے سماجی ارتقاء میں ضرورت سے زیادہ طاقتور بلکہ بالادست ریاستی اسٹیلشمنٹ کے کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔اور تنخواہ دار طبقے(تنخوائیے) کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ایک اور بیورکریٹ نے اپنی پی ایج ڈی میں امریکی سماج کے جائزہ میں مفاداتی گروہوں کا ضرورت سے زیادہ بالادست کردار کا مطالعہ کیا مگر افسوس ہے کہ ہم ان سب کی خدمات اور فکری کاوشوں کا ادراک نہیں کر سکتے۔جو کہ روز روشن کی طرح آشکارہ ہیں۔
پاکستان میں طرز حکمرانی میں کلیدی اور غالب کردار کس کا ہے نو آزاد مملکت پاکستان میں یقینی طور پر جاگیراداروں قبائلی امراء اور بڑے زمینداروں کا تھا،جبکہ ثانوی رول میں کمرشل اور کاروباری گھرانے بھی تھے۔جنہوں نے ابتدائی صنعت کاری کی۔ٹرانسپورٹ اور بینکنگ میں کردار ادا کیا۔مگر بعد ازاں بتدریج بنیادی کردار کس طرف منتقل ہوا۔ریاستی ”تنخواہیے“ گروپ سے منسلک گروہ کی طرف جو اقتدار میں آئے گئے۔پبلک سرونٹ جو نو آبادیاتی دور حکومت میں اس سیکٹر میں آئے اور بہتر تعلیم،تجربہ،قابلیت اور سرکاری رتبے کی بناء پر کلیدی کردار نبھانا شروع کیا۔اب حالات یہ ہیں جن کا ذکر ہمارے محترم سلمان عابد نے پاکستان کے حوالہ سے کیا ہے۔یا پھر بعض منفی سوچ کے حامل جو محض پراپیگنڈہ تک اکتفا کرتے ہیں۔وہ بھی کرتے ہیں۔لیکن جس تفصیلی جائزہ اور بنیادی اسباب کا ذکر جناب حمزہ علوی نے کیا تھا۔وہ ہمیں یاد نہیں۔ہمیں علمی فکر و مباحثے کو فروغ دینا ہو گا۔بلکہ نئے فکری کلچر کا احیاء کرنا ہو گا۔وگرنہ ہماری ہماری آنے والی نسلیں زیادہ مشکلات میں مبتلا ہوں گی۔اور مایوسی عروج پاتی جائے گی۔ذرا غور کریں (Gen Zee) کی کہانی میں مستقبل کیا دکھایا گیا ہے کہ یہاں سے بھاگو اور خیالی جنت کی طرف جاؤ۔پروفیشنل کیرئیر بناؤ اور بس عیش کرو جبکہ بنیادی ضرورت ہے کہ ہم آج کو بہتر بنائیں جو بھلائی کی تبلیغ کرتے ہیں۔وہ شروع میں کم ہوئے ہیں مگر تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں۔ہمارا آج کا کلیدی مسئلہ طرز حکمرانی نہیں۔بلکہ وہ فکری مغالطہ آرائی ہے۔جس میں فرد کو کو کلیدی بنایا جاتا ہے۔ظل الہی کہ اللہ کی حاکمیت فرد واحد یا بادشاہت کے توسط سے سچائی ہے۔
یہ فکر ایک دور میں واقعتا سچ تھی مگر اب دنیا تغیر پزیر ہے۔اب اجتما عت ہے ادارے وجود میں آتے ہیں۔حاکمیت ابھی بھی ہمارے رب کی ہے۔مگر اب پارلیمنٹ اس کی ترجمانی کرنے پر معمور ہے اور پارلیمنٹ مملکت کو خدائی احکامات کے تحت چلانے اور پالیسی سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ہمارے آئین،قانون اور فکر میں یہ سب کچھ مسلم ہے مگر عملی طور پر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ہمارا پسندیدہ رجحان احکامات کے تحت گورننس کرنا ہے۔اور احکامات اداروں سے نہیں آتے،بلکہ اداروں پر غالب افراد کے خیالات تصورات غور و فکر سے برآمد ہوتے ہیں۔جو غلط یا ملک دشمن تو نہیں ہوتے۔مگر اجتماعیت کا فقدان ہوتا ہے۔بلکہ الٹ درباری انداز میں ارد گرد خوشامدی ٹولہ ان کی افادیت کو نقصان پہنچاتا ہے گورننس کو ادارہ جاتی بنانے میں کامیابی بہت ہو گی جب حکمران مشاورت اور اجتماعی فکر کو فروغ دیں گے۔



