وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک کو گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ گندم کے ذخائر کی نگرانی مؤثر بنائی جائے، ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے اور مقامی گندم کی خریداری کے ذریعے مارکیٹ قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے 2025-26 کی گندم کی فصل کی خریداری کی صورتحال کا جائزہ لیا اور محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ہیرا پھیری سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مارکیٹ میں استحکام یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ، وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلیٰ کے مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ 2025-26 کی فصل کے لیے گندم کی خریداری یکم اپریل 2026 سے شروع کی گئی تھی۔ صوبائی حکومت نے امدادی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی جبکہ 50 کلوگرام بوری پر 60 روپے باردانہ ادائیگی کی منظوری دی گئی۔ سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام 2025 کے تحت مجموعی طور پر 3 لاکھ 32 ہزار 90 کاشتکاروں کو اہل قرار دیا گیا۔
10 لاکھ میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں محکمہ خوراک 12 جون تک صرف 81 ہزار 348.61 میٹرک ٹن گندم خرید سکا تھا۔ اس پر وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ کمی پوری کرنے کے لیے پاسکو سے تقریباً 2 لاکھ ٹن گندم خریدی جائے۔اجلاس میں 6 مئی کو وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کی ہدایات کے بعد ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے گئے نجی گندم ذخائر کے ڈویژن وار جائزے کا بھی مطالعہ کیا گیا۔ جائزے کے مطابق سندھ بھر میں نجی شعبے کے پاس 5 لاکھ 88 ہزار 512 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔سروے کے مطابق کراچی میں 1 لاکھ 59 ہزار 577 میٹرک ٹن، حیدرآباد میں 39 ہزار 244 میٹرک ٹن، میرپورخاص میں 4 ہزار 676 میٹرک ٹن، شہید بینظیر آباد میں 23 ہزار 971 میٹرک ٹن، سکھر میں 2 لاکھ 19 ہزار 760 میٹرک ٹن اور لاڑکانہ میں 1 لاکھ 41 ہزار 284 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صارفین کے تحفظ، کاشتکاروں کو منصفانہ معاوضہ دلانے اور غذائی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے متعدد ہدایات جاری کیں۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ایک لاکھ 77 ہزار 40 میٹرک ٹن مقامی گندم کی خریداری کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے سندھ میں پاسکو کے گوداموں میں موجود 2 لاکھ ٹن گندم خریدنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔متوازن حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تاکہ کسانوں کو مقررہ امدادی قیمت مل سکے اور آٹے کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ روکا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے عوام کو سٹے بازوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ہم گندم کے ذخائر کو محفوظ بنائیں گے، قیمتوں میں استحکام لائیں گے اور کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔






