وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امریکی سرمایہ کاروں کو سندھ کی معاشی ترقی کے سفر میں طویل المدتی شراکت دار بننے کی دعوت دیتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ سندھ میں شفاف، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کار دوست کاروباری ماحول موجود ہے، جسے حکومت کی مکمل معاونت، پالیسیوں کے تسلسل اور بین الاقوامی معیار کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بروز بدھ وزیراعلیٰ ہاؤس میں امریکہ کے ممتاز کاروباری وفد سے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے اسٹریٹجک محلِ وقوع، مضبوط صنعتی بنیاد، وافر قدرتی وسائل اور توانائی، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، صحت، سیاحت، زراعت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں موجود وسیع سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا۔ اجلاس میں امریکہ میں مقیم ممتاز کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نمائندوں، صوبائی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور محکمہ سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سید قاسم نوید قمر نے سندھ کی معاشی صلاحیت، سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبوں اور بڑے پیمانے پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی کامیاب عمل درآمد کی تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ملک کے سب سے بڑے تجارتی اور صنعتی مراکز کا حامل ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا قدرتی دروازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ سندھ حکومت شفاف، مستحکم اور سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت ریگولیٹری اصلاحات، طریقہ کار کو آسان بنانے، ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور نجی شعبے کے ساتھ مؤثر رابطوں کے ذریعے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کر رہی ہے اور سرمایہ کاری میں غیر ضروری رکاوٹوں کو مسلسل ختم کیا جا رہا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے وفد کو بتایا کہ سندھ قابلِ تجدید توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور ایڈوانس مینوفیکچرنگ میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر، ہوا اور شمسی توانائی کے عظیم وسائل، طویل ساحلی پٹی اور کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے ذریعے اسٹریٹجک رابطہ کاری کا ذکر کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متعدد انقلابی منصوبوں پر روشنی ڈالی جن میں مجوزہ کیٹی بندر انٹیگریٹڈ انڈسٹریل اینڈ میری ٹائم ہب، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ایس آئی ایف سی)، گرین انرجی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت، انفراسٹرکچر، صنعتی و ٹیکنالوجی زونز، گندے پانی کی صفائی کے منصوبے، سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے (ڈی سیلینیشن) کے منصوبے اور ساحلی علاقوں میں سیاحتی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے آپ کی دلچسپی ٹیکنالوجی، صحت، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل فنانس، زراعت یا ابھرتی ہوئی صنعتوں میں ہو، سندھ ترقی اور کاروباری توسیع کے لیے ایک مضبوط اور اسٹریٹجک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت منصوبوں کی تیاری، منظوری اور عمل درآمد کے ہر مرحلے پر مکمل سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے، شراکت داری قائم کرنے اور منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروگرام کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ایشیا کے نمایاں پی پی پی ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے تھر کول منصوبوں، نبی سر۔ویجھیار واٹر سپلائی منصوبے، شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے، این ای ڈی ٹیکنالوجی پارک اور مختلف قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو اس کی کامیاب مثالیں قرار دیا۔ پریزنٹیشن کے دوران سرمایہ کاروں کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے پی پی پی منصوبے کامیابی سے مکمل اور شروع کر چکی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ، پانی، توانائی، صنعتی ترقی، سیاحت اور سماجی شعبوں میں کئی ارب ڈالر مالیت کے مزید منصوبے سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہیں۔ وفد کو صنعتی پارکس، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون، آبی زراعت (Aquaculture)، سمندری خوراک کی برآمدات، گرین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، صحت کی سہولیات، ایجوکیشن ٹیکنالوجی، سیاحتی ریزورٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کیا گیا۔ امریکی کاروباری وفد کے اراکین نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سندھ حکومت کے فعال اقدامات کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے سندھ کے اسٹریٹجک محلِ وقوع، وسیع صارفین کی منڈی، مضبوط صنعتی نظام اور تیزی سے پھیلتے انفراسٹرکچر نیٹ ورک کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا سینٹرز، صحت، فِن ٹیک، ٹیکنالوجی پارکس، صنعتی زونز اور برآمدات پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ متعدد شرکاء نے کہا کہ سندھ کا پی پی پی فریم ورک، پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں سے براہِ راست رابطے کی حکومتی پالیسی طویل المدتی کاروباری شراکت داری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری سہولت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کو بھی سراہا اور مخصوص سرمایہ کاری منصوبوں پر آئندہ اجلاسوں اور شعبہ جاتی روڈ شوز کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی وفد نے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور ایسی شراکت داریاں قائم ہوں جو عملی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا باعث بنیں۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امریکی کاروباری وفد کی ملاقات کو سندھ اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی معاشی شراکت داری کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کامیاب شراکت داریاں اعتماد، جدت اور باہمی فائدے پر استوار ہوتی ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آج کی ملاقات کو اختتام نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند تعلقات کے آغاز کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی آج کی گفتگو کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، سندھ اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے عوام اور معیشتوں کے لیے دیرپا فوائد پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے امریکی سرمایہ کاروں کی رہنمائی، معاونت اور سہولت کے لیے محکمہ سرمایہ کاری میں خصوصی فیسلیٹیشن ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس میں وائس پریزیڈنٹ آپریشنز ماہین شمسی، ٹی ایس آئی انجینئرنگ انکارپوریشن کے صدر مقصود کمبوہ، انشور 123 کے بانی زین جیوانجی، وال وک جی ٹی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹرک ایبل، امریکن پاکستان ایڈووکیسی گروپ کے صدر علی راشد، فرینڈز آف پاکستان کے چیئرمین عارف ظفر منصوری، فرینڈز آف پاکستان کے صدر جمال خواجہ، پاکستان امریکن شکاگولینڈ چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور، معروف کاروباری شخصیت نعیم زمیندار اور امریکی کاروباری برادری کے دیگر ممتاز اراکین شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔
Read Next
2 گھنٹے ago
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا دورہ، جدید جی ائی ایس ٹیکنالوجی کی باقاعدہ رونمائی
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور کثیرالقومی کمپنیوں کے نمائندوں کا گول میز اجلاس*
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے روٹری انٹرنیشنل کے صدر کی ملاقات*
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے کنٹری ڈائریکٹر عالمی بینک کی ملاقات،کراچی کیلئے پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ*
3 دن ago






