وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے ان پانچ ہونہار طلبہ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے بھٹو ایس ٹی ای ایم اسکالرشپ پروگرام کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی میں مکمل طور پر فنڈڈ پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپس حاصل کی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مستقبل کے رہنما، محقق اور اختراع کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے اور ملک کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریبِ پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پختہ یقین رکھتی ہے کہ تعلیم سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے لیے سب سے مضبوط محرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کی تعلیم پر کی جانے والی ہر سرمایہ کاری سندھ کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ یہ اسکالرز ہماری نوجوان نسل کی امنگوں، صلاحیت اور عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ، وزیر ورکس اینڈ سروسز اسماعیل راہو، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی راج ویر سنگھ سوڈھا، اعلیٰ سرکاری حکام، آکسفورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے نمائندے، طلبہ کے والدین، فیکلٹی ممبران اور طلبہ نے شرکت کی۔تعلیمی سال 2026-27 کے لیے منتخب کیے گئے پانچ اسکالرز میں فائزہ رحمان (ایم ایس سی اکنامکس فار ڈیولپمنٹ)، امرتا چانڈیو (ایم ایس سی کلینیکل ایمبریالوجی)، نیر مصور علی (ایم ایس سی اکنامکس فار ڈیولپمنٹ)، فرجاد شاہد حسن (ڈی فل زیرو کاربن انرجی ریسرچ) اور جنید احمد میمن (ڈی فل انجینئرنگ سائنس) شامل ہیں۔طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا کے ممتاز تعلیمی اور تحقیقی مراکز میں شمار ہونے والی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کا داخلہ میرٹ، ثابت قدمی اور تعلیمی برتری کے ذریعے حاصل کیا گیا ایک شاندار اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ سندھ اور پاکستان کے سفیر ہیں۔ آپ کی کامیابی صوبے بھر کے نوجوانوں کو ایک طاقتور پیغام دیتی ہے کہ جب صلاحیت کو محنت اور مواقع میسر ہوں تو کوئی خواب ناقابلِ حصول نہیں رہتا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھٹو ایس ٹی ای ایم اسکالرشپ پروگرام پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تصور کردہ اہم منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کا آغاز سندھ حکومت اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے درمیان شراکت داری کے ذریعے کیا گیا تاکہ باصلاحیت طلبہ کو عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے تعلیم کو بااختیار بنانے، مواقع کی فراہمی اور سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ہم محض ڈگریوں کے لیے مالی معاونت فراہم نہیں کر رہے بلکہ مستقبل کے ماہرینِ معاشیات، سائنس دانوں، انجینئرز، محققین اور پالیسی سازوں کی تربیت کر رہے ہیں، جو ہمارے دور کے چیلنجز کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھائیں گے۔مراد علی شاہ نے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے اور نوجوانوں کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آکسفورڈ پاکستان پروگرام اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے اسکالرشپس کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کو یقینی بنانے کو بھی سراہا۔وزیراعلیٰ نے اسکالرز پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابیاں صرف ان کی اور ان کے خاندانوں کی نہیں بلکہ پورے صوبے کی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آپ اپنے اپنے شعبوں میں رہنما بنیں گے اور ایک مضبوط، زیادہ خوشحال اور زیادہ جامع معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے ان اسکالرشپس کو سندھ کے نوجوانوں پر ایک تاریخی سرمایہ کاری اور علم پر مبنی مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی بھٹو خاندان کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہے جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری نے تعلیم حاصل کی۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ حکومت ماسٹرز، ایم فل اور ڈی فل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی مد میں سالانہ 50 کروڑ روپے مختص کرتی ہے جن میں ایس ٹی ای ایم کے شعبوں کے لیے مخصوص مواقع بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (سیف) کے ذریعے اب تک 42,719 مستحق اور میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ کو پاکستان بھر کی 92 یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے 6.916 ارب روپے کی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صلاحیتیں پوری دنیا میں یکساں طور پر موجود ہیں، لیکن مواقع یکساں نہیں ہیں۔ بھٹو ایس ٹی ای ایم اسکالرشپ کا مقصد اسی فرق کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ سندھ کے باصلاحیت طلبہ کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل ہو اور وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جمال پیرزادہ نے اسکالرشپ کے اقدام کو کامیاب پروگرام میں تبدیل کرنے پر سندھ حکومت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کا آغاز چھ سال قبل ہوا تھا تاہم ابتدا میں اسے مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے کے بعض انتہائی ذہین طلبہ کی معاونت کرکے اس اقدام کو کامیاب بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ڈاکٹر پیرزادہ نے کہا کہ یہ اسکالرشپس شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تعلیمی ورثے کو آگے بڑھاتی ہیں اور باصلاحیت نوجوانوں کو دنیا کی قدیم ترین اور ممتاز ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب یہ طلبہ آکسفورڈ پہنچیں گے تو وہ تعلیمی برتری اور قیادت کی ایک شاندار روایت کا حصہ بنیں گے۔ انہیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ورثے سے بھی تحریک ملے گی جنہوں نے وہاں تعلیم حاصل کی اور طلبہ کی قیادت کی۔اس سے قبل سیکریٹری کالجز ندیم میمن نے وزیراعلیٰ سندھ اور آکسفورڈ کے وفد کا خیرمقدم کیا اور سامعین کو اس شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی جس کے ذریعے اسکالرز کا انتخاب کیا گیا۔تقریب کے دوران وزیراعلیٰ نے آکسفورڈ کے وفد اور کامیاب اسکالرز کو شیلڈز اور یادگاری تحائف پیش کیے۔ تقریب کا اختتام باہمی گفت گو اور گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا۔
Read Next
3 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات؛وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق
3 دن ago
کراچی کا مستقبل ہماری مشترکہ کوششوں اور یکجہتی پر منحصر ہے،سید مراد علی شاہ
6 دن ago
سندھ اسمبلی نے دھرتی کی تقسیم کی سازش ناکام بنا دی،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago
صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی کوششیں متفقہ طور پر مسترد،سندھ اسمبلی میں اہم قرارداد منظور
1 ہفتہ ago






