وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پروگرام کو مزید منظم، مؤثر اور دیرپا بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ہفتہ بھر 24 گھنٹے فعال رہنے والے بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سنٹرز اور کیٹیگری ڈی ہسپتالوں کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، جبکہ مہنگے علاج کی کوریج بڑھانے اور سروس ریٹس میں مرحلہ وار اضافے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صحت کارڈ عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، اس کے غلط استعمال کا سدباب ناگزیر ہے۔ ہسپتالوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے اور پروگرام کو مزید مؤثر انداز میں چلایا جائے۔
بنیادی مراکز صحت اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ریویمپنگ کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری صحت سہولیات فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں سوشل ہیلتھ پروٹیکشن یونٹ کی استعدادِ کار بڑھانے اور سرکاری ملازمین کے لیے بطور آپشن ٹاپ اَپ ہیلتھ پیکیج متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔عمران خان کے وژن کے مطابق صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ عوام کو معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے خطیر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔صحت اور تعلیم سے متعلق امور بروقت نمٹائے جائیں، تاخیر یا رکاوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا، تمام تجاویز کو حتمی شکل دے کر مؤثر اور عملی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ عوام کو بہترین صحت سہولیات کی فراہمی حتمی ہدف ہے۔






