میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کو سرسبز، صاف ستھرا اور ماحول دوست شہر بنانے کے لیے شجرکاری اور اربن فاریسٹ کے منصوبے اہم پیشرفت ہیں، شہر میں سبزہ بڑھانا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے،باغ کراچی میں قائم کیے گئے اربن فاریسٹ میں 4 ہزار 500 سے زائد مقامی درخت لگائے گئے ہیں جو کراچی کے ماحول کو بہتر بنانے اور شہریوں کو صحتمند و قدرتی ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، منصوبے کے تحت پانچ ایکڑ رقبے پر زمین کی صفائی، ہمواری اور لینڈ اسکیپنگ کا کام مکمل کیا گیا جبکہ مقامی اور ماحول دوست درختوں کی بڑی تعداد لگائی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز باغ کراچی میں پانچ ایکڑ رقبے پر قائم کیے گئے اربن فاریسٹ ”لنگز آف کراچی“ کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میونسل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، سٹی کونسل اراکین اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اربن فاریسٹ میں دیسی کیکر، نیم، جنگل جلیبی، شہتوت، گل موہر، بادام، کمالا اور جامن سمیت مختلف اقسام کے درخت شامل ہیں، منصوبے میں آبپاشی کے لیے دو بڑے واٹر اسٹوریج ریزروائرز بھی تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کے لیے واکنگ اور جاگنگ ٹریکس بھی بنائے گئے ہیں تاکہ یہ جگہ ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے صحتمند تفریح اور ورزش کا مرکز بھی بن سکے،میئر کراچی نے کہا کہ ”لنگز آف کراچی“ صرف شجرکاری کا منصوبہ نہیں بلکہ شہریوں کے لیے صحتمند مستقبل کی بنیاد ہے، انہوں نے بتایا کہ اربن فاریسٹ کا منصوبہ صرف 43 دنوں میں مکمل کیا گیا جس پر 13 جولائی سے 24 اگست تک کام جاری رہا، انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں مزید گرین اسپیسز اور اربن فاریسٹ قائم کیے جائیں گے، شہر میں درختوں اور سبزہ زاروں میں اضافہ کراچی کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے،باغ کراچی میں مکمل ہونے والا اربن فاریسٹ شہری ترقی کے ساتھ ماحول کے تحفظ کی بہترین مثال ہے
، کراچی کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے شجرکاری اور اربن فاریسٹ منصوبوں کا سلسلہ جاری رہے،4 ہزار 500 سے زائد مقامی درخت نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ہوا کے معیار میں بہتری اور شہریوں کو بہتر ماحول کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ باغ کراچی میں قائم اربن فاریسٹ کا بنیادی مقصد سرکاری زمین کو قبضہ مافیا سے محفوظ بنانا اور شہریوں کو قدرتی ماحول میں تفریح، واک اور جاگنگ کی سہولت فراہم کرنا ہے، پہلے مرحلے میں 5 ایکڑ رقبے پر اربن فاریسٹ مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ مزید 10 ایکڑ رقبے کو بھی گرین اسپیس میں تبدیل کرنے کے لیے مخیر شہریوں اور ماحول دوست افراد نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، کراچی کو سرسبز شہر بنانے کے لیے اجتماعی تعاون اور شجرکاری کا عمل جاری رکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اربن فاریسٹ کے پہلے مرحلے کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا ہے تاہم افتتاح سے قبل ہی شہریوں اور خاندانوں نے یہاں بنائے گئے واکنگ اور جاگنگ ٹریکس کا استعمال شروع کردیا تھا جو اس منصوبے کی کامیابی اور شہریوں کی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ موجودہ پانچ ایکڑ اربن فاریسٹ کو مزید وسعت دی جائے، اسی مقصد کے لیے انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کی تھی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں،انہوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے پہلے 5 ایکڑ رقبے کو تیار کیا ہے جبکہ مزید 10 ایکڑ کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، شہر سے محبت اور ماحول کے تحفظ کا جذبہ رکھنے والے آباد بلڈرنے مزید 5 ایکڑ رقبہ تیار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ بوہری کمیونٹی نے بھی مزید 5 ایکڑ رقبہ اربن فاریسٹ کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ اس کام کو مرکزی اور مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، فنڈنگ اور منصوبے پر عملدرآمد بھی مربوط طریقے سے کیا جائے گا تاکہ تمام رقبہ ایک ہی معیار کے مطابق تیار ہوسکے،انہوں نے کہا کہ کراچی کا کوئی بھی شہری جو ماحول سے محبت کرتا ہے، شہر کے مستقبل کے لیے گرین اسپیسز میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اور شجرکاری کے فروغ میں کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے، وہ اس مہم کا حصہ بن سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ اربن فاریسٹ کے اطراف تجاوزات کے مسئلے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ شہر کے بعض علاقوں میں مختلف اداروں کے دائرہ اختیار ایک دوسرے سے منسلک ہیں، جس کے باعث تجاوزات کے خلاف کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، تاہم باغ کراچی کا منصوبہ ان کا ذاتی طور پر نگرانی میں لیا گیا منصوبہ ہے اور وہ یہاں مسلسل آتے رہیں گے، انہوں نے یقین دلایا کہ کم از کم کے ایم سی کے زیرانتظام حصے میں تجاوزات قائم نہیں ہونے دی جائیں گی اور منصوبے کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ سڑکیں گاڑیاں پارک کرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹریفک کی روانی کے لیے ہوتی ہیں، اسی لیے اربن فاریسٹ کے اندر پارکنگ کی سہولت بھی تیار کی جارہی ہے تاکہ شہری اپنی گاڑیاں مناسب جگہ پر پارک کرسکیں اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو، انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہر کے مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان منصوبوں کے اطراف تجاوزات اور غیرقانونی رکاوٹوں کا بھی خاتمہ کیا جائے،میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے خالی اور بنجر علاقوں کو بھی شجرکاری کے ذریعے سرسبز بنانے پر توجہ دی جارہی ہے، جہاں سیوریج یا نالوں سے پانی کے حصول کا متبادل موجود ہے وہاں اسے مناسب طریقے سے استعمال کرتے ہوئے پارکس اور گرین اسپیسز کو سرسبز کیا جارہا ہے، اربن فاریسٹ کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں روایتی گھاس کے بجائے ایسے درخت لگائے جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں اور مناسب دیکھ بھال کے بعد شہری ماحول کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں،اگر آج شجرکاری کی جائے تو اس کے فوائد آئندہ دو سے تین سال میں واضح طور پر سامنے آئیں گے،میئر کراچی نے کہا کہ اگر کسی شہری کے پاس اپنے علاقے یا محلے میں شجرکاری کے لیے جگہ موجود ہے تو کے ایم سی کا محکمہ پارکس اسے پودے فراہم کرسکتا ہے، اسی طرح سندھ حکومت کا محکمہ جنگلات بھی پودے فراہم کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج صرف پودا لگانا نہیں بلکہ اس کی مستقل دیکھ بھال اور اسے درخت بنانا ہے، اس لیے شہریوں کو شجرکاری کے ساتھ پودوں کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا،میئر کراچی نے شہر کے پارکس میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے کہا کہ کے ایم سی کے پارکس پر باقاعدگی سے کام کیا جارہا ہے اور ٹریٹ شدہ پانی کو گرین اسپیسز کی ترقی اور پارکس کی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جاسکے، انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل اور متبادل ذرائع کو بروئے کار لاکر شہر کے زیادہ سے زیادہ پارکس اور خالی اراضی کو سرسبز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل معاشی حالات میں حکومت اور عوام دونوں کو اخراجات میں احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جب ہم شہریوں سے مشکل وقت میں تعاون اور قربانی کی اپیل کرتے ہیں تو بحیثیت قیادت ہمیں بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ غیر ضروری اخراجات نہ ہوں اور وسائل کو عوامی مفاد کے منصوبوں پر استعمال کیا جائے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو بہتر اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے رواں سال تقریباً 68 نئے پارکس قائم کیے جائیں گے، یہ پارکس گلی محلوں اور یونین کونسل کی سطح پر بنائے جائیں گے تاکہ عام شہریوں کو اپنے علاقوں میں ہی تفریح اور سبزہ زار کی سہولت میسر آسکے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایسے پارک کی نشاندہی کی جائے جہاں مزید کام کی ضرورت ہو، خواہ وہ کے ایم سی کا پارک نہ بھی ہو تو بلدیہ عظمیٰ کراچی حتی الامکان اس کی بہتری کے لیے تعاون کرے گی،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں آوارہ کتوں اور کتے کے کاٹنے کے واقعات کے حوالے سے مختلف طبقات کی آراء موجود ہیں، ایک طرف جانوروں سے محبت کرنے والے شہری ہیں جبکہ دوسری جانب وہ افراد ہیں جو کتے کے کاٹنے سے متاثر ہوتے ہیں، اس مسئلے پر پوری سوسائٹی کو متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا،کبھی کتوں کی نس بندی کو حل قرار دیا جاتا ہے اور کبھی دیگر اقدامات کی بات کی جاتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ واضح پالیسی اختیار کی جائے اور جو فیصلہ عوامی مفاد میں ہو اس پر عملدرآمد کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر شہریوں کی رائے کتوں کی نس بندی کے حق میں ہوگی تو اس پر عمل کیا جائے گا، تاہم اس کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا، اگر عوامی مفاد میں کوئی دوسرا فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس پر بھی بات چیت کرکے مناسب اقدام کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جانوروں سے محبت رکھنے والے افراد اور کتے کے کاٹنے سے متاثر ہونے والے شہریوں کے مؤقف میں توازن پیدا کیا جائے، تاہم ابھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا، انہوں نے کہا کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور جانوروں کے حوالے سے انسانی رویے دونوں کو مدنظر رکھے، میئر کراچی نے صوبوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، سندھ اسمبلی اور سندھ کے عوام اپنا مؤقف واضح کرچکے ہیں، فی الحال ایسا کوئی معاملہ زیرعمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ جس سیاسی جماعت کا اپنا نقطہ نظر ہے وہ پارلیمنٹ میں آکر اس پر بات کرے، ہر سیاسی جماعت کو مکالمے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ہر ایک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے،انہوں نے میر رضا کیس کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن اور جے آئی ٹی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی پاسداری ضروری ہے اور کسی بھی معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جوڈیشل کمیشن اپنا کام کررہا ہے اور حکومت کی جانب سے اسے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، متعلقہ اداروں سے درکار ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے تاکہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جاسکے،انہوں نے کہا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ متاثرہ خاندان کو معلوم ہوسکے کہ ان کے پیارے کے ساتھ کیا ہوا اور اگر حکومتی انتظامی سطح پر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ بھی سامنے آنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد معاملے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، بحیثیت قانون کے طالبعلم ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کارروائی ہی کسی معاملے کو حتمی حل تک پہنچانے کا درست راستہ ہے،شہر کے اہم معاملات میں عوامی رائے شامل کرنے کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ ایک تجویز یہ ہے کہ اس معاملے پر سٹی کونسل میں باقاعدہ بحث کرائی جائے اور منتخب نمائندے فیصلہ کریں جبکہ دوسری تجویز یہ ہے کہ کے ایم سی کی ویب سائٹ پر آن لائن پول کرایا جائے تاکہ شہری براہ راست اپنی رائے دے سکیں، انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے اور وہ اپنی آئی ٹی ٹیم سے مشاورت کریں گے کہ کے ایم سی کی ویب سائٹ پر آن لائن پول کس طرح منعقد کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر سٹی کونسل یا آن لائن پول کے ذریعے کوئی فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس فیصلے کا سب کو احترام کرنا ہوگا، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک فیصلہ کیا جائے اور بعد میں کوئی اس پر عمل نہ کرے، انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ حکمت عملی بھی تبدیل کرنا پڑتی ہے، ماضی کے حالات آج سے مختلف تھے اور آج کے شہری مسائل کے حل کے لیے جدید اور عوامی رائے پر مبنی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے خادم ہیں اور ان کی بنیادی ذمہ داری عوام کے فیصلے اور مفاد کو ترجیح دینا ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ باغ کراچی اور الٰہ دین واٹر پارک، پویلین اور کلب سے متعلق 50 ایکڑ اراضی بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت ہے، اس زمین میں کسی نجی ادارے یا بلڈر کا کوئی مفاد شامل نہیں، یہ کے ایم سی کی ملکیت تھی، آج بھی کے ایم سی کی ملکیت ہے اور آئندہ بھی کے ایم سی کی ملکیت رہے گی، انہوں نے کہا کہ شہر کی زمینوں کے حوالے سے جو فیصلے کیے جائیں ان پر مستقل طور پر قائم رہنا چاہیے اور کسی بھی فیصلے کو بعد میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے،ریفرنڈم سے متعلق سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ اس معاملے کو آئین کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 239 اور دیگر متعلقہ آئینی شقوں کا جائزہ لیا جائے تو ریفرنڈم کے حوالے سے واضح آئینی اور قانونی تقاضے موجود ہیں، اس لیے کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم کی بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے یا نہیں،انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 میں ریفرنڈم کا تصور موجود ہے تاہم اس کے انعقاد کے طریقہ کار کے لیے قانون سازی بھی ضروری ہے، ان کے مطابق ان کی معلومات کے تحت ریفرنڈم کے طریقہ کار سے متعلق مطلوبہ قانون سازی موجود نہیں، اس لیے جو لوگ ریفرنڈم کا مطالبہ کررہے ہیں انہیں پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کے انعقاد کا قانونی طریقہ کار کیا ہے،کراچی کو اربن فاریسٹ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر پورا شہر سرسبز اور اربن فاریسٹ کی شکل اختیار کرلے تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے،کراچی اس وقت کنکریٹ اور سیمنٹ کے جنگل کی صورت اختیار کرچکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میں نیم، کیکر، گل موہر، بوگن ویلیا، چمپا اور دیگر مقامی درختوں کے ذریعے سبزہ بڑھایا جائے،انہوں نے کہا کہ انہیں سبزہ اور درخت بہت پسند ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کراچی کے تمام شہری بھی سرسبز ماحول کو پسند کرتے ہیں، تاہم شجرکاری کے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آتے، اس کے لیے مسلسل محنت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ شہر میں اگر سو سال پرانے درخت موجود ہیں تو انہیں کسی نے ایک صدی قبل لگایا ہوگا، ہمیں بھی آج ایسے درخت لگانے چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں بھی سوچیں اور ہمیں یاد رکھیں،میئر کراچی نے کہا کہ اربن فاریسٹ اور شجرکاری کے منصوبوں کا مقصد صرف موجودہ وقت کی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر آج بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں تو چند سال بعد ان کے فوائد واضح طور پر سامنے آئیں گے، اس لیے شہریوں، اداروں اور حکومت سب کو مل کر شجرکاری کو فروغ دینا ہوگا۔






