میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کی معاشی ترقی صنعتی علاقوں کی ترقی سے براہِ راست منسلک ہے، صنعتی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری ہماری ترجیح ہے، صنعتی علاقوں کی ترقی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا، سندھ حکومت کی خصوصی گرانٹ سے سائٹ سپر ہائی وے صنعتی علاقے میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے اور تمام کام 15 دسمبر سے قبل مکمل کرلیے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سائٹ سپر ہائی وے پر مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد رکھنے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں گفتگو کرتے ہوئے کیا،
اس موقع پر سائٹ سپر ہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر مسعود پرویز، جنرل سیکرٹری احفاظ شیخ، منتخب کونسلرز اور دیگر متعلقہ افسران و صنعتکار بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سائٹ سپر ہائی وے سمیت کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ صنعتکاروں کو بہتر انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں،انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے سات صنعتی زونز کے لیے سوا نوارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی ہے، یہ رقم ساتوں صنعتی علاقوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کردی گئی ہے، سائٹ سپر ہائی وے کے لیے سندھ حکومت نے 70 کروڑ روپے منتقل کیے ہیں، انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں کی درخواست پر انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی ترجیحات خود طے کریں، یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے کہ حکومت نے صنعتکاروں کو ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز فراہم کیے،میئر کراچی نے کہا کہ ہمیں بحیثیت شہری یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے شہر کے مسائل حل کرسکتے ہیں، کراچی سے بہتر کوئی جگہ نہیں، انہوں نے کہا کہ جو لوگ کراچی میں صنعتیں قائم کرکے کاروبار کررہے ہیں انہیں کسی نے مجبور نہیں کیا، اس شہر میں کاروبار کے مواقع موجود ہیں اور کراچی کی بہتری کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کے ذہنوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کی کوشش کی گئی، اب ہمیں یکسوئی، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ہم آہنگی پیدا کریں گے تو شہر ترقی کرے گا،انہوں نے کہا کہ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں کراچی سے بہت سی فیکٹریاں دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئیں ہمیں اس صورتحال کو بدلنا ہوگا، صنعتی علاقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے تو صنعتیں مستحکم ہوں گی اور شہر کی معیشت مزید مضبوط ہوگی، انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے،میئر کراچی نے پانی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا انڈسٹریل واٹر پارک سائٹ ایریا میں بنایا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 350 ملین گیلن پانی ٹریٹ کیا جائے گا، ٹی پی تھری سے 28 ایم جی ڈی پانی ٹریٹ ہورہا ہے جبکہ مزید منصوبے بھی ہماری ٹائم لائن میں شامل ہیں، صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے،انہوں نے کہا کہ شہر کے مسائل لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی اور شہری ضرورت کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے، جو لوگ خود متحد نہیں وہ اس شہر کو کیا جوڑیں گے، ہمیں تقسیم کے بجائے اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ شہری جہاں نشئی افراد کو دیکھیں وہاں پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دیں تاکہ متعلقہ ادارے کارروائی کرسکیں، انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی تھی اور کراچی پاکستان کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل اسی شہر میں بیٹھ کر تلاش کیا جائے گا، میں عوامی نمائندہ ہوں اور اسلام آباد میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کرتا، شہر کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے خود مختلف علاقوں کا دورہ کرتا ہوں،لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے اندر سے بھاری ٹریفک گزارنے کے بجائے دستیاب متبادل راستوں کو استعمال کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک چلانے کے معاملے پر بھی متعلقہ فریقین کو مل بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا تاکہ شہریوں کو ٹریفک کے مسائل سے نجات دلائی جاسکے،انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی کسی ایک طبقے یا علاقے کی نہیں بلکہ پورے شہر کی ضرورت ہے، صنعتی علاقوں کی بہتری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے کراچی مضبوط ہوگا اور کراچی مضبوط ہوگا تو پاکستان کی معیشت بھی مزید مستحکم ہوگی۔






