چئیرمین واٹر کارپوریشن اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گارڈن واٹر پمپنگ اسٹیشن کی مکمل بحالی کے بعد افتتاح کردیا۔ اس موقع پر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر اسد اللہ خان، سٹی کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، سٹی کونسل کے اراکین اور دیگر بھی موجود تھے، منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گارڈن پمپنگ اسٹیشن 2005 میں نصب کیا گیا تھا، تاہم کے الیکٹرک سے بجلی کا کنکشن دستیاب نہ ہونے کے باعث اس کی مشینری آپریشنل نہیں ہوسکی تھی۔ پمپنگ اسٹیشن کی بحالی پر مجموعی طور پر 3 کروڑ 2 لاکھ 50 ہزار روپے لاگت آئی ہے۔ بحالی کے منصوبے کے تحت پمپنگ اسٹیشن کے سول اسٹرکچر، پینل روم، اسٹاف روم اور چار دیواری کی مکمل مرمت کی گئی ہے جبکہ 125 ہارس پاور کے دو الیکٹرک موٹرز کی ری وائنڈنگ اور بال بیرنگز کی تبدیلی کا کام بھی مکمل کیا گیا ہے۔ پمپنگ اسٹیشن میں دو نئے موٹر کنٹرول بورڈز نصب کیے گئے ہیں اور مختلف سائز کی پی وی سی اور ایل ٹی کیبلز کی فراہمی و تنصیب بھی عمل میں آئی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ گارڈن پمپنگ اسٹیشن سے 24 انچ قطر کی لائن کے ذریعے نشتر روڈ، گارڈن، گھاس منڈی، گھانچی پاڑہ، رنچھوڑ لائن، رامسوامی اور ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح مرزا آدم خان روڈ، دھوبی گھاٹ، لیاری اور ملحقہ علاقوں کو بھی پانی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 18 انچ قطر کی لائن کے ذریعے عثمان آباد، بادشاہی روڈ، عظیم پلازہ اور ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کیا جائے گا۔ گارڈن پمپنگ اسٹیشن کی بحالی سے مذکورہ علاقوں کے تقریباً 3 لاکھ شہری مستفید ہوں گے، جبکہ گارڈن، سولجر بازار، لیاری اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ میئر کراچی نے کہا کہ بات کی جاتی ہے کہ کام کیا ہورہا ہے اور منتخب نمائندے کیا کام کررہے ہیں، گارڈن پمپنگ اسٹیشن 2005 میں بنایا گیا تھا لیکن 21 سال تک کسی کو اس کی بحالی کا خیال نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گارڈن کا علاقہ ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، اس زمانے کے حکمرانوں نے گارڈن پمپنگ اسٹیشن بنانے کا یہاں کے مکینوں کو لولی پاپ دیا تھا کیونکہ اس وقت کے منتخب نمائندوں نے یہاں ہائیڈرنٹ چلانا تھا۔ جب تک ہائیڈرنٹ چلتا رہا بلاخوف چلتا رہا، پمپنگ اسٹیشن بننے کے بعد یہ بہانہ بنایا گیا کہ کے الیکٹرک کا کنکشن نہیں ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ واٹر بورڈ حکام نے گارڈن پمپنگ اسٹیشن کی بحالی میں ہماری مدد کی، اب پمپنگ اسٹیشن کو بحال کردیا گیا ہے اور آج سے یہاں سے پانی کی سپلائی شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس 40 سال اقتدار رہا انہوں نے کچھ نہیں کیا، کراچی کے عوام اب تعصب اور تفریق نہیں بلکہ تعمیر و ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر میں خوف کے راج کو ہم نے ختم کیا ہے، کراچی صرف اردو، سندھی، بلوچی یا پشتو بولنے والوں کا نہیں بلکہ ہر کراچی میں بسنے والے کا شہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی رونق بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صحافیوں نے قربانیاں دی ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے شہر سے وفا نہیں کی، وہ آج بھی تعصب اور تفریق کی بات کررہے ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں ملک میں اس طرح کی تفریق نہیں تھی، ملک آگے بڑھ رہا تھا۔ کراچی کی تہذیب، ادب اور آداب کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت تھی، لیکن بعض لوگوں کی سیاست نے اس کمیونٹی کو اس نہج پر پہنچایا۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ احتجاج وزیر اعظم کے خلاف ہے اور تاجر برادری بھی تکلیف میں ہے، اگر عوامی مسائل اجاگر کرنے ہیں تو سڑکیں بلاک کرنے کے بجائے متعلقہ ذمہ داران کے گھروں کے باہر احتجاج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر پیٹرولیم سے مسئلہ ہے تو ان کے گھر کے باہر احتجاج کریں، کراچی کو کیوں بند کیا جاتا ہے؟ ملک میں کچھ بھی ہورہا ہو، کراچی کو بلاک نہیں ہونا چاہیے۔ گورنر ہاؤس کو بلاک کرکے وہ وزیر اعظم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ میئر کراچی نے واضح کیا کہ کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات، امن اور ترقی چاہیے۔ شہر کی تعمیر و ترقی کا عمل جاری رہے گا اور کراچی کو دوبارہ تعصب، تفریق اور خوف کی سیاست کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔






