صفائی کی آڑ میں سرکاری خزانے کا صفایا،ملتان،لیہ،ڈی جی خان کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائیاں دیگر اضلاع اور تحصیلوں تک پھیلیں گی یا نہیں،سی ایم پر منحصر ہوگا،دلچسپ رپورٹ

ستھرا پنجاب پروگرام میں ستھری کرپشن کے مختلف ایجنسیوں کے بڑی تعداد میں انٹی کرپشن اور شکایات کی صورت میں کیسیز سامنے آنے کے بعد وزیر اعلٰی مریم نواز شریف کیلئے بھی امتحان ہے جن کی طرف سے احکامات ملنے کے بعد ہی محکمہ اینٹی کرپشن حرکت میں آیا۔اب تک کی گرفتاریوں اور تحقیقات میں جس پیمانے پر کرپشن اور بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔پنجاب کے اس سب سے بڑے منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ، یا تحقیقات کا دائرہ دیگر ایجنسیوں اور کمپنیوں تک پھیلے گا یا نہیں یہ اہم بات ہے۔ابھی سے ملوث افسران نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا ہے جن میں سے کچھ پر ہاتھ نرم بھی کیا گیا ہے۔اگر وزیر اعلٰی پنجاب محکمہ اینٹی کرپشن کو ستھرا پنجاب پروگرام مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افسران اور ٹھیکیداروں کو کڑی سزا دینے اور کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کے سخت احکامات پر قائم رہتی ہیں تو مجموعی طور پر اربوں روپے کی کرپشن سامنے آئے گی۔ذمہ داران کو سزا ملنے سے پروگرام میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔یہ بات اہم ہے کہ سابق وزیر اعلٰی پنجاب اور موجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے بلدیاتی اداروں اور دیگر محکموں کے اختیارات سلب کر کے نئی کمپنیوں، اتھارٹیز اور ایجنسیوں کی بنیاد رکھی جس کیلئے صوبہ کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اختیارات استعمال کئے گئے۔موجودہ وزیر اعلٰی پنجاب بھی ان ہی کے نقش قدم پر چل رہی ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو بھرتیوں سے لے کر انتظامی اور مالی معاملات میں انھیں زیادہ تر کمپنیوں،اتھارٹیز اور ایجنسیوں میں بے قاعدگیاں سب سے زیادہ ہیں۔صفائی کا محکمہ بھی بلدیاتی اداروں کا تھا جسے ختم کر کے پہلے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی بنیاد رکھی گئی پھر اس کو ستھرا پنجاب کا نام دے دیا گیا۔ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں پہلے بجٹ بلدیاتی اداروں سے وصول کرتی رہیں بعد میں صوبائی حکومت کی آشیرباد سے بلدیاتی اداروں اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کو فارغ کر کے براہ راست محکمہ خزانہ سے لائن سیٹ کر لی گئی۔یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے۔پنجاب میں مختلف شہروں سے محکمہ اینٹی کرپشن نے جن کیسیز پر کارروائی کی ہے ان میں ملتان میں ستھرا پنجاب منصوبے میں مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن پر اینٹی کرپشن نےمقدمہ درج کر کے ابتدا میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے 3 افسران گرفتار کیا۔ٹھیکیدار سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ جس میں گاڑیوں، مشینری، فیول اور صفائی عملے کی تعداد مبینہ طور پر بڑھا کر فنڈز لینے کا الزام،ویسٹ کے بجائے مٹی اور کنکریٹ ڈال کر گاڑیوں کا وزن پورا کرنے کا انکشاف،کم ملازمین رکھ کر زیادہ تعداد ظاہر کرنے اور زائد ادائیگیاں لینے کا الزام،ٹھیکیداروں کو مطلوبہ کارکردگی کے بغیر ادائیگیاں کرنے کا بھی الزام ہے۔

ستھرا پنجاب منصوبے میں مشینری، ڈرم اور خریداری کے ریکارڈ میں بھی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ملتان کے بعد لیہ میں بھی مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر مقدمہ درج ہوا ہے۔اینٹی کرپشن نے ملتان اور لیہ کے متعدد افسران و ٹھیکیداروں کو مقدمات میں نامزد کیا ہے۔ ستھرا پنجاب منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات پر محکمہ اینٹی کرپشن نے ملتان اور لیہ میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے افسران اور ٹھیکیداروں سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ملتان میں کارروائی کے دوران تین افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔اینٹی کرپشن کے مطابق ملتان میں درج مقدمے میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے کمپنی سیکریٹری محمد کبیر، سینیئر منیجر محمد عمران، سینیئر منیجر ساجد ریاض، فنانس منیجر ساجد علی، اسسٹنٹ منیجر ارسلان حمید، چیف فنانس افسر عامر مقبول اور اے ایس انٹرپرائزز کے مالک و ٹھیکیدار شہزاد جٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق گرفتار افراد میں کمپنی سیکریٹری محمد کبیر، شعبہ آئی ٹی سے وابستہ محمد عمران اور آپریشنز شعبے کے ارسلان شامل ہیں۔ عدالت نے تینوں ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صفائی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں، مشینری، ایندھن، ویسٹ کلیکشن اور صفائی عملے کی تعداد کو مبینہ طور پر ریکارڈ میں زیادہ ظاہر کر کے سرکاری فنڈز حاصل کیے گئے۔ بعض غیر فعال ملازمین اور مشینری کی بنیاد پر بھی ادائیگیوں کا الزام ہے۔اینٹی کرپشن کے مطابق ایک مبینہ طریقہ کار کے تحت ویسٹ کے بجائے مٹی اور کنکریٹ گاڑیوں میں ڈال کر ان کا وزن پورا کیا جاتا رہا، جبکہ کم تنخواہوں پر ملازمین رکھنے کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں زیادہ رقم ظاہر کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں کو مطلوبہ کارکردگی کے بغیر ادائیگیاں کیے جانے کے علاوہ ڈرم، مشینری کی خریداری، وصولی اور دیگر معاملات کے ریکارڈ میں بھی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے صفائی کے امور ایس اے انٹرپرائزز جے وی کے ذریعے انجام دیے جا رہے تھے۔ کمپنی پر صفائی کے کام کی نگرانی، کارکردگی کی جانچ اور ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کی تصدیق کی ذمہ داری عائد تھی۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق لیہ میں بھی کم تعداد میں ملازمین کو زیادہ ظاہر کرنے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن اور ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے میں فاروق، تحصیل منیجر محمد عدیل ظہور، ایڈیشنل منیجر حبیب اللہ خان، فنانس افسر عدیل افتخار اور افتخار اینڈ کمپنی کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او عبدالرزاق ڈوگر اور لیہ کے سی ای او رانا شاہد کو مقدمات میں نامزد نہیں کیا گیا۔اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ مقدمات کی تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ مقدمے میں عائد کیے گئے تمام الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔اہم بے قاعدگیاں اور الزامات فیول اور فنڈز میں خردبرد: گاڑیوں کے فیول اور آپریشنل اخراجات کی مد میں بوگس انٹریز اور مبینہ غبن کیا گیا۔تنخواہوں کے معاملات: ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور کاغذی کارروائی میں تضاد سامنے آیا۔ڈیجیٹل ہیر پھیر: ڈیجیٹل پورٹل اور مانیٹرنگ ڈیٹا میں ردوبدل کر کے اضافی ادائیگیاں حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔انتظامی کارروائیاینٹی کرپشن کی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے 3 افسران کو حتحات میں لے کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔حکومتِ پنجاب نے صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت لانے کے لیے دائرہ کار سخت کر دیا ہے۔کیا آپ اس مقدمے کی مزید قانونی تفصیلات یا ملتان میں آؤٹ سورسنگ کے نئے ماڈل کے بارے میں کچھ اور جاننا چاہتے ہیں۔ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی تاریخ دیکھی جائے تو کرپشن کی یہ کہانی کو نئی بات نہیں ہے۔2017 میں کمپنی میں 90 کروڑ روپے کی مبینہ خورد برد کا کیس سامنے آیا۔بورڈ میٹنگ کے ریکارڈ میں ردوبدل، کرپشن اورجعل سازی کی نشاندہی بورڈ کے چیئرمین رانا اعجاز نے کی۔جنھوں نے بورڈ میٹنگ کے ریکارڈ اور صفحات کو جعلی قرار دے کر دستخطوں سے انکار کر دیا۔جس پر انکوائری کے دوران عمران نور کا نام سامنے آیا جنھیں بعد میں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔انوار الحق کا نام مبینہ جعلی ادائیگیوں کے محکمہ اینٹی کرپشن کے ایک کیس میں سامنے آیا ملتان میں جس اہم آفیسر کو گرفتار کیا گیا ہے وہ کبیر خان ہیں جو کمپنی کے سیکرٹری اور چیف فنانس آفیسر بھی ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ انوار الحق اور ساجد ریاض پر بھی ہاتھ ڈالا گیا اور پھر چھوڑ دیا گیا۔انوار الحق کا مقدمہ میں نام ہی نہیں جبکہ ساجد ریاض نامزد ہیں۔صفائی کے ٹھیکے میں مبینہ کرپشن کا انکشاف،اینٹی کرپشن کی طرف سے ایک اور مقدمہ لیہ میں مقدمہ درج ہوا ہے۔ تحصیل چوبارہ میں صفائی کے نام پر کروڑوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔جس کے مطابق فرضی ملازمین اور فرضی بلوں کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد فیصل نیاز کو چوبارہ سے گرفتار کیا گیا۔اینٹی کرپشن کے مطابق مقدمے میں مزید ملزمان کی گرفتاری کا عمل جاری ہے۔ صفائی کے ٹھیکے میں مبینہ کرپشن، کنٹریکٹر اور افسران کی ملی بھگت کا الزام ہے۔ سرکل آفیسر اینٹی کرپشن لیہ کے مطابق مبینہ کرپشن کیس میں 409 ت پ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن کی بڑی کارروائی کے دوران ستھر اپنجاب کے تحصیل مینیجر فیصل نیاز کو اینٹی کر پشن لیہ نے بڑی کرپشن پر گرفتار کر لیا ہے۔ستھرا پنجاب ڈیرہ غازی خان میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے سرکل آفیسر ہیڈکوارٹر شہزاد گل نے جن افسران کو حسب ضابطہ گرفتار کر کیا ان میں محمد حبيب ولد واحد بخش خان سکھانی سکنہ خیابان سرور ڈیرہ غازی خان چیف فنانس افسر ستھرا پنجاب،محمد حسنین ولد ظہور احمد گشکوری بلاک 27 آپریشنل منیجر ستھرا پنجاب،عمر فاروق ولد عبد الخالق نعيم راجپوت بلاک 33 تحصیل منیجر ستھرا پنجاب شامل ہیں ۔ ملزمان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری رقم مبلغ 18 کروڑ 84لاکھ 486 روپے گورنمنٹ کا نقصان کیا ہے ۔ ملزمان پر مقدمہ نمبر 37/26 تھانہ ہیڈکوارٹر ڈیرہ غازی خان ریجن درج رجسٹر کر دیا گیا ہے ۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ستھرا پنجاب پروگرام میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے کیسیز کا سامنے آنا اور ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر حکومت پنجاب کے لئے بھی بدنامی کا باعث بنے گی اس لئے محکمہ اینٹی کرپشن کو تمام اضلاع اور تحصیلوں میں مالی بے ضابطگیوں کی صورت میں مقدمات اور مزید گرفتاریوں کیلئے فری ہینڈ ملتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا تاہم ستھرا پنجاب پروگرام کے حوالے سے آخری اجلاس میں وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف نے کھلا پیغام دیا کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے چاہے پنجاب کے کسی بھی محکمے میں ہو جو قابل تحسین ہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے منصوبے میں صفائی کی آڑ میں سرکاری خزانے کا صفایا کرنے والوں کو کڑی سزا ملنے کی صورت میں حکومت پنجاب کی ساکھ بہتر ہو گی اور وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے وقار اور قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوگا۔یہ دلچسپ بات ہے کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے ایک سابق سربراہ جن کی براہ راست لائن پنجاب کے ایک اعلٰی بیورو کریٹ کے ساتھ سیٹ تھی وہ اسی لئے کسی اور کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔اس آفیسر کی خاص توجہ وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے روٹ پر ہوتی تھی جس کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں عملہ صفائی اور مشینری اس روٹ پر حرکت میں رہتی تھی تاکہ وزیر اعلٰی پنجاب کو باور کروایا جا سکے کہ ستھرا پنجاب کے ورکرز اور مشینری ہر جگہ متحرک اور دیکھائی دیتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button