میئر کراچی بیر سٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے میر رضا قتل کیس کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں انہیں عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیدیا گیا ہے، رپورٹ آنے پر چیزیں سامنے آجائیں گی، مشکل کی اس گھڑی میں مرحوم میر رضا کی فیملی کے غم میں برابر کے شریک ہیں، والدین اپنی اولاد سے کتنا پیار کرتے ہیں اور ان کے بچھڑنے پر کیا گزرتی ہے اس کا مجھے احساس ہے، اللہ تعالیٰ میر رضا کے والدین کو صبر عطا فرمائے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ جو حقائق ہیں وہ منظرعام پر آئیں اور جس کسی نے بھی یہ سفاک کام کیا ہے اس کو قانون کے مطابق سزا ملے،یہ بات انہوں نے پیر کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،
میئرکراچی بیر سٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں خود ذاتی طور پر مرحوم کے گھر دو بار گیا اور انہیں حکومت سندھ کا پیغام پہنچایا، وزیرداخلہ کے ساتھ بھی گیا تھا اور انہیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے، اس معاملے پر بہت سی گفتگو ہوئی اور الزامات لگائے گئے، حکومت کا مقصد ہے کہ ہم اس کیس کی گہرائی تک پہنچیں اور سچ سامنے لائیں،28 جولائی کا واقعہ 29 جولائی کو منظر عام پر آتا ہے،ایڈیشنل آئی جی سینئر ایس پی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیتے ہیں،تفتیش چل رہی تھی ایک ایم ایل او کی رپورٹ پولیس کو دی جاتی ہے،ایڈیشنل آئی جی فیصلہ کرتے ہیں ایس پی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم ختم کی جائے، 9/ اگست کو ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ متضاد میڈیکل رپورٹ سامنے آئیں اور پولیس واقعہ کی تفتیش کررہی ہے، 9/ اگست کی رات کو جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیاجس کسی نے بھی اس کام میں معاونت کی ہے ہم ان کیخلاف بھی کارروائی کرنا چاہیں گے،والدین کے سامنے بھی ہم نے جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات سامنے رکھی،والدین نے شکایت کی کہ پولیس واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے،پھر رات کو ان کی والدہ نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی درخواست کی اور نئی تحقیقاتی ٹیم جو ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں بنائی گئی تھی اس پر اعتماد کا اظہارِ کیا، پھر میں نے ان سے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ سے پوچھ کر بتاؤں گا، دونوں فریقین سے اجازت کے بعد ہم نے والدین کی کہنے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ موخر کر دیا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 19 اگست کو میر رضا کے وکیل بائیس صفحات پر مشتمل خط وزیر اعلیٰ کو لکھتے ہیں، اس خط میں وہ کہتے ہیں آئی جی صاحب اور پولیس اس کیس کو سلجھانے میں ناکام ہو گئی لہٰذا انہوں نے خط میں انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھاجس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے ایک میٹنگ بلائی جس میں آئی جی صاحب اور چیف سیکرٹری صاحب موجود تھے، میٹنگ میں وزیراعلیٰ سندھ نے سب سے خط کا جواب مانگا اور پولیس سے سوالات پوچھے، آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ میر رضا کی فیملی کو ہر حالت میں مطمئن کرنا ہے، پھر وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا اور ہم نے اس سلسلے میں چیف جسٹس صاحب کو خط ارسال کیا، میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمام سرکاری ادارے بشمول ہماری پولیس اس جوڈیشل کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، میر رضا کی فیملی کی درخواست پر انویسٹی گیشن فون، اسمارٹ واچ اور سمِ سمیت تمام چیزیں پنجاب فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہیں جس کی رپورٹ آنے والی ہے، اس کے ساتھ ایپل اور میٹا کو بھی خط لکھ کر ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے، ہم جوڈیشل کمیشن کے نوٹس کا انتظار کریں گے اور اس کیس کے سلسلے میں مکمل معاونت کریں گے، جوڈیشل کمیشن جب فائنڈنگ دے گا تو معاملات کلیئر ہو جائیں گے اور یقین دلاتے ہیں کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری رہیں گی، انہوں نے کہا کہ میر رضا کے ماں،باپ، بہن اور منگیتر تکلیف میں ہیں جس سے بھی غفلت ہوئی ہے وہ منظر عام پر آنی چاہئیں، میر رضا کی ماں صرف ایک بات کہتی ہیں کہ مجھے انصاف چاہئے، میر رضا کی والدہ نے کہا تھا جوڈیشل انکوائری کی جا سکتی ہے مگر وہ نئی تحقیقاتی ٹیم سے مطمئن ہیں، ان کی فیملی کو کوئی بھی مسئلہ ہوا تو ہم اس کو حل کریں گے۔






