میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ایمپریس مارکیٹ میں ”کتابوں کا جہاں“ کے عنوان سے کتب میلے کا افتتاح کردیا

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تاریخی ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات کا خاتمہ کرکے اس تاریخی ورثے کو بحال کیا گیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ تاریخی عمارتوں اور ورثے کی بحالی پر بھی توجہ مرکوز کی ہے، ایمپریس مارکیٹ کو کلچرل سینٹر اور پبلک اسپیس کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کراچی کے شہری یہاں آئیں، کتابیں خریدیں اور مقامی پبلشرز کی حوصلہ افزائی کریں، ثقافت کے فروغ کے لیے مختلف پروگراموں کا انعقاد جاری رہے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایمپریس مارکیٹ میں ”کتابوں کا جہاں“کے عنوان سے کتب میلے کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی،دیگر اراکین سٹی کونسل،منتخب نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مختلف کتابوں کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا اور اسٹالز سے کتابیں بھی خریدیں،منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کتابیں علم، شعور اور مثبت سوچ کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں، کراچی میں کتاب دوستی اور مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،ایمپریس مارکیٹ میں بک فیئر کا انعقاد شہریوں خصوصاً نوجوانوں کے لیے خوش آئند اقدام ہے، کتابیں نوجوان نسل کو علم اور آگہی سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،کتب میلے کے ذریعے شہریوں کو مختلف موضوعات پر کتب تک آسان رسائی حاصل ہوگی،انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو کتب بینی کی جانب راغب کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کتابیں معاشرے میں مثبت سوچ اور برداشت کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں، مطالعے کی عادت ایک باشعور اور باصلاحیت معاشرے کی بنیاد ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی ایمپریس مارکیٹ تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی ہے، ماضی میں تجاوزات کے باعث شہری، بالخصوص بچے، نوجوان اور بزرگ یہاں آ نہیں سکتے تھے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کاوشوں سے آج ایمپریس مارکیٹ سے تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تاریخی ورثے کو بحال کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ لوگ عمارتیں اور دیگر سہولیات تو بنا دیتے ہیں لیکن اگر ان کا استعمال نہ کیا جائے تو قبضہ گروپ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایمپریس مارکیٹ کو محض ایک تاریخی عمارت کے طور پر نہیں بلکہ کلچرل سینٹر اور عوامی جگہ کے طور پر بھی استعمال کیا جائے، گزشتہ دنوں یہاں بوھرہ فوڈ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں شہریوں کی بھرپور شرکت نے حوصلہ دیا، آج یہاں ”کتب میلے“کا انعقاد کیا گیا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ ثقافت کے فروغ کے لیے مزید پروگرام منعقد کیے جائیں گے، کل برنس گارڈن میں قوالی کے پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں شہریوں کے لیے داخلہ مفت ہوگا، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سابق سٹی ناظم کراچی مصطفی کمال کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیے کہ حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر بات کریں، انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں نیپا کے مقام پر شادی ہال بنائے گئے اور نالوں پر دکانیں بنائی گئیں، اسپتالوں اور پارکوں کی حالت بھی سب کے سامنے ہے،انہوں نے کہا کہ وہ مصطفی کمال کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ شہر کے ناظم رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی بجٹ بک میں تین سو ارب روپے کا بجٹ نہیں ہے، اگر تین سو ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا تھا تو اس کی دستاویزات سامنے لائی جائیں اور بتایا جائے کہ یہ بجٹ کہاں منظور ہوا اور کہاں خرچ کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آدھے کام جماعت اسلامی والے اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور آدھے کام یہ لوگ اپنے نام سے منسوب کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ تعمیری گفتگو کریں اور تنقیدی سیاست سے گریز کریں، بلدیہ ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن جاکر دیکھا جائے کہ کس کے شادی ہال ہیں اور ہائیڈرنٹس کس کے ہیں، اگر شہر میں تین سو ارب روپے خرچ ہوئے ہیں تو ان کی دستاویزات دکھائی جائیں، یہ بھی بتایا جائے کہ بجٹ منظور ہوا تھا یا نہیں،میئر کراچی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما مختلف مقامات پر مختلف دعوے کرتے ہیں، انہیں حقائق کا علم ہونا چاہیے، ان کے دور میں کراچی کو اٹھارہ ٹاؤنز میں تقسیم کیا گیا تھا، کراچی سے خوف کی فضا بڑی قربانیوں کے بعد ختم ہوئی ہے اور شہر کو دوبارہ ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانے کے لیے مثبت سیاست اور تعمیری سوچ کی ضرورت ہے،انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گرانے کی کوششیں کرلیں لیکن حکومتیں گرا گرا کر ہی اس شہر کو یہاں تک پہنچایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ لیگی رہنماؤں کو اپنے گھر سے باہر ہر چیز سمجھ آتی ہے، پنجاب میں بارش ہو تو اسے قدرتی آفت قرار دیا جاتا ہے جبکہ سندھ میں بارش ہو تو حکومت کی نااہلی کہا جاتا ہے، یہ دہرا معیار ختم ہونا چاہیے،میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جس اصول پر کھڑی ہے اس میں دہرا معیار نظر نہیں آتا، ایم کیو ایم کے رہنما سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کی بات سے پیچھے ہٹ کر اب ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی بات کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا 1973 کا آئین دیکھ لیا جائے اور آرٹیکل 239 کا مطالعہ کیا جائے، جسے ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا تھا،میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان کے اندر پانچ سو صوبے بھی بنا دیئے جائیں لیکن اگر ذہنیت منفی ہوگی تو مسائل حل نہیں ہوں گے، معاملات کو حل کرنے کے لیے مثبت سوچ اور سنجیدہ رویے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button